اس میں کوئی شک نہیں کہ یہودی روز اول سے مسلمانوں کے خلاف تعصب کا شکار ہیں ۔ خود کو خدا کی لاڈلی اور منتخب خیال کرنے کے زعم میں مبتلا یہ قوم مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دینا چاہتی ہے۔ انتہائی منظم اور شاطر یہودی لابی امریکا میں مسلم مخالف سرگرمیوں میں ہمہ وقت متحرک ہے۔ دہشت گردی کا ایک اور ہولناک واقعہ دو روز پہلے برسلز میں پیش آیا اور اس میں بھی حسب توقع مسلمان نام ملوث پائے گئے۔بے شک نام کے مسلمان ہیں اور داعش تنظیم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن یہ لوگ کرائے کے قاتل اور یہودی لابی کے سرگرم کارکن ہیں۔سمندر پار دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو تو امریکا کے اہم شہروں کی سکیورٹی بھی سخت کر دی جاتی ہے۔ واقعہ کے فوری بعد جس رد عمل کی توقع تھی وہ سامنے آ گیا۔ مسلم مخالف صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور زہر آلود بیان جاری ہو گیا۔ٹرمپ کو جلتی پر تیل چھڑکنے کا جنون ہے۔ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

بیلجیئم کے حکام کا کہنا ہے کہ برسلز خود کش دھماکوں میں ملوث پچیس سال نجم العشراوی گزشتہ نومبر پیرس میں ہوئے حملوں میں بھی ملوث تھا۔ وہ شدت پسند گروہ داعش سے تعلق رکھتا تھا اور بم تیار کرتا تھا۔ حکام کے مطابق نم مراکش میں پیدا ہوا لیکن برسلز میں پلا بڑھا۔دوسرے خود کش بمبار ابراہیم البکراوی کو آٹھ ماہ پہلے ترکی میں حراست کے بعد یورپی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔ دھماکوں میں ملوث تیسرا شخص تا حال مفرور ہے۔ یاد رہے کہ برسلز میں ہونے والے بم دھماکوں میں 34 افراد ہلاک اور 271 زخمی ہو گئے تھے اور اس واقعہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

فرانس اور بیلجیئم کا دکھ سانجھا ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ سمندر پار دہشت گردی کے واقعات کو امریکا کا صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کیش کرا رہاہے ۔امریکا کی اکانومی یہاں کی مضبوط یہودی لابی کے قبضے میں ہے اور یہودی صدر اوباما کے بعد اس کی پارٹی کی ہیلری کلنٹن کو امریکا کا صدر نہیں دیکھنا چاہتی۔ امریکی انتہا پسند مذہبی تنظیمیں اور تنگ نظر طبقہ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو سپورٹ کر رہاہے۔ ٹرمپ مسلمانوں کو اعلانیہ دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ امریکی الیکشن کا موسم جوں جوں قریب آ رہا ہے اسرائیل، مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیئے کاروائیاں بڑھا رہا ہے۔

دین محمد نام رکھ لینے سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہو جاتا۔خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لیئے ”دین ِمحمد“ پر عمل پیش کرنا پڑتا ہے جبکہ بے گناہوں کی جان لینا اسلام درکنار دنیا کا کوئی مذہب اس مکروہ فعل کی اجازت نہیں دیتا۔قرآن پاک میں واضح الفاظ میں فرمادیا گیا ہے کہ ”ایک معصوم کی جان لینا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے (قرآن5:32 ) حتیٰ کہ دوران جنگ دفاع کے دوران بھی کسی بھی نہتے شخص خصوصََا خواتین، بچے اور مذہبی شخصیات پر حملہ کرنا رسول اللہﷺ کی تعلیمات کے مطابق ممنوع ہے۔ انتہاء پسندی کی آوازوں کی نسبت دیگر صف اول کی آوازیں سرخیوں کی جگہ حاصل نہیں کر پاتیں۔ مگر میڈیا کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے ہمیں نت نئے طریقے سوچنے ہوں گے جن سے ہماری آواز سب تک پہنچ سکے۔ مسلمانوں کو انسانوں کے حق، عزت، زندگی اور حریت کو عوامی سطح پر فروغ دینا چاہیے۔ مسلمانوں کو انسانوں کے حق، عزت، زندگی اور حریت کو عوامی سطح پر فروغ دینا چاہیے۔ اللہ سبحان تعالیٰ کی مخلوق ہونے کے ناطے ہر انسان کی عزت کرنا اللہ کا احترام کرنا ہے( 17:70 قرآن)

ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی الیکشن جتوانے کے لیئے امریکیوں کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ اگر ری پبلکن امیدوارکو نہ لایا گیا تو یہ ملک دہشت گردی کا نوالہ بن جائے گا حالانکہ یہ ملک بش باپ بیٹے کے دوران اقتدار دہشت گردی کا نوالہ بن چکا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اوباما پالیسیوں نے امریکا کو غیر محفوط بنا دیا ہے۔ ہیلری کلنٹن بھی اوباما کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ اس ملک کو صرف ٹرمپ جیسا بنیاد پرست اور تنگ نظر ہی بچا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

کانوں کے کچے اور میڈیا پر اندھا یقین کرنے والی امریکی قوم سمندر پار دھماکوں کی خبروں سے خوفزدہ ہو جاتی ہے اور بش باپ بیٹے کی مسلم مخالف پالیسیوں کو یاد کیاجاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بنانے کے لیئے فرانس اور بیلجیئم کے بعد مزید دھماکے کرانے کا امکان ہے۔ داعش یہودی لابی کی ایجاد ہے۔ یہودی سازش کب کی بے نقاب ہو چکی ہے لیکن مسلمان بے بس دکھائی دیتے ہیں- بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
-----
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے