ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے رویے میں اچانک بڑی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ سالوں میں وہ ایران اور امریکہ کی قیادت میں پانچ ترقی یافتہ ممالک کے درمیان ایٹمی معاہدے کے لئے صدر حسن روحانی اور ان کی ایٹمی ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے رہے اور معاہدہ ہونے کے بعد ان کو اس بڑی کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔ مگر ایک تازہ ترین تقریر میں انہوں نے صدر روحانی سے اس کامیابی کا اعزاز چھین لیا۔

اپنے آبائی شہر مشہد میں نئے ایرانی سال کے آغاز پر سالانہ خطاب میں خامنہ ای نے صدر حسن روحانی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کو اور وزیر خارجہ جاوید ظریف کو ایرانی عوام کو دھوکہ دینے کا ملزم قرار دیا۔ انہوں نے امریکہ کو ایک مرتبہ پھر ایران کا اولین دشمن اور دنیا میں برائی کی جڑ قرار دیا۔

دشمن کا مطلب امریکی حکومت ہے

خامنہ ای کی امریکہ پر کڑی تنقید اگرچہ موزوں الفاظ پر مشتمل تھی مگر اس میں تضاد تھا۔ ایک طرف تو وہ اس پر نالاں تھے کہ امریکی محکمہ خزانہ بنکوں اور دیگر ممالک پر دباو ڈال کر ایران کے ساتھ آزادانہ تجارت میں رکاوٹیں ڈال رہا تھا۔ انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو مغربی ممالک کے ساتھ اپنی مکمل معاشی استعداد کے ساتھ تجارت نہیں کرنے دے رہا ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ ایران پر سے اقوام متحدہ کی تمام اہم پابندیوں کے ہٹنے کے بعد تہران کو اربوں ڈالر وصول ہوچکے ہیں، خامنہ ای نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھانا محض نمائشی ہے۔

دوسری طرف خامنہ ای کا یہ اصرار کہ ایران کی معیشت کلّی طور پر خود کفیل ہونی چاہئے اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ واضح طور پر چاہتے ہیں کہ ایران پورے طور پر عالمی معیشت کا حصہ نہ بنے۔ انہوں نے اس خوف کا اظہار کیا کہ عالمگیریت کی قوتیں ایران کی سیاسی اور اقتصادی زندگی پر ان کے عہدہ کی سخت گرفت کے لئے خطرہ ثابت ہوں گی۔

اس کے علاوہ خامنہ ای نے ایرانی نوجوانوں کو بھی متنبہ کیا کہ صدر اوباما اور وائٹ ہاوس کی جانب سے پچھلے ہفتے ایرانی قوم کے نام پیغام دراصل ایک جال ہے اور وہ اس میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ اوباما کا پیغام اور وائٹ ہاوس میں ایرانی تہوار نوروز کی روایتی ڈش کی تیاری دراصل ایرانی نئی نسل کو دھوکا دینے کے ہتھکنڈے ہیں۔ خامنہ ای کی بنیادی تشویش یہ تھی کہ روحانی حکومت اور اوباما انتظامیہ کے درمیان قربت بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مشترکہ جامع لائحہ عمل کے ذریعے متعدد عالمی معاملات میں ایران کا تعاون حاصل کر رہا ہے جس سے تہران کی واشنگٹن سے قربت ضرورت سے زیادہ بڑھ جانے سے اس کے انقلابی نظریات اور شناخت ختم ہو جائیں گے۔

خامنہ ای نے صدر روحانی کی مذمت کے لئے یہ خاص انداز اختیار کیا کہ ان پر عوام سے وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ جھوٹ بولا تھا کہ اگر پابندیاں اٹھائ جائیں تو ایران کی معیشت بہتر ہو جائے گی۔ انہوں نے صدر روحانی کی ٹیم پر الزام لگایا کہ ایٹمی معاہدے سے قبل حکومت سے کہا گیا تھا کہ پابندیاں نہیں ہٹیں تو ایران کو ایک خطرناک راستے پر سفر کرنا پڑے گا۔ خامنہ ای نے کہا کہ یہ سب جھوٹ تھا اور اگر پابندیاں نہ ہٹائی جاتیں تب بھی ایران کو کچھ نہیں ہوتا۔

خامنہ ای کی ہوشیاری

صدر روحانی، وزیر خارجہ جاوید ظریف اور امریکہ پر تنقید کے لئے خامنہ ای نے بہت ہوشیاری سے مختلف حربے استعمال کئے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر خامنہ ای کی مرضی شامل نہ ہوتی تو روحانی ایٹم معاہدے کے لئے مذاکرات نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی معاہدہ کرنے کے قابل ہوتے۔ روحانی کے اقتدار میں آنے سے پہلے سے ہی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کور کی اعلیٰ کمان امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے لئے زمین ہموار کر رہے تھے۔ تاہم اپنے اقتدار کے دوام کے لئے خامنہ ای نے ہمیشہ کبھی انتہا پسندوں اور کبھی اعتدال پسندوں کی پشت پناہی کی ہے، کبھی کھلے عام اور کھبی بند دروازوں کے پیچھے۔ عوام کے سامنے وہ عمومی طور پر سخت گیر عناصر کی حمایت کرتے رہے ہیں اور جبکہ نجی محفلوں میں وہ معتدل عناصر کو آشیرباد دیتے تھے۔

مشہد میں جہاں کے مذہبی رہنماوں کی بڑی تعداد سخت گیر انتہا پسندوں پر مشتمل ہے خامنہ ای نے یہ پیغام دیا کہ وہ ایران کے نظریاتی اصولوں پر کاربند ہیں جن کے تحت امریکہ کہ مخالفت، اور تہران اور شیطان بزرگ کے درمیان قربت کا تدارک لازمی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے نہ صرف پاسداران انقلاب کور میں سخت گیر ملیشیا بسیج کو جو ان کی سیاسی حمایت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے یہ یقین دلایا کہ وہ اعتدال پسندوں کے بجائے اس کے ساتھ ہیں، بلکہ یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اس کے اختیارات میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ وہ اعتدال پسندوں کو قابو میں رکھ سکیں اور روحانی کی پالیسیوں پر کھلی تنقید کر سکیں۔

تیسری یہ حقیقت بھی ذین میں رہے کہ جب بھی کسی ایرانی صدر کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے خامنہ ای اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈالنے کے لئے سخت گیر عناصر کے اختیارات میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ چوتھا نکتہ یہ کہ خامنہ ای کی حکمت عملی ہمیشہ یہ رہی ہے جب بھی اہم معاملات میں ان کے احتساب کا وقت آیا تو انہوں نے ایسی صورتحال کو ہی یکسر مسترد کر دیا اور زمہ داری دوسروں پر ڈال دی۔

ایک طرف تو انہوں نے صدر روحانی کو ایٹمی معاہدہ کرنے کی اجازت اور ہدایات دیں مگر بعد میں عوام سے یہ کہا کہ جو کچھ ہوا وہ ان کی مرضی کے خلاف ہوا۔ چنانچہ اگر اس وقت ایران ایٹمی معاہدے کو ختم کر دیتا ہے یا عوام پابندیاں ہٹنے کے ثمرات کو نہیں دیکھ پاتے ہیں تو تمام انگلیاں روحانی کی جانب اٹھیں گی۔

آخر میں، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اب جبکہ ایران پر سے عالمی پابندیاں ہٹائی جاچکی ہیں، روحانی، ظریف اور واشنگٹن پر کھلی تنقید کر کے خامنہ ای ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کے لئے زمین ہموار کر رہے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے