اگر امریکی ریاست نیویارک میں پانی کے ڈیم کے انجیئنرز مرمت کی غرض سے اسپیل ویز کو الکٹرونک کنٹرول سینٹر سے علاحدہ نہ کرتے تو بہت بڑی تباہی واقع ہوسکتی تھی۔ جی ہاں اسی روز ایرانی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے "ہیکر" ڈیم کے الکٹرونک کنٹرول سسٹم کو ہیک کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس کارروائی کا مقصد ڈیم کے اسپیل ویز کو کھول کر علاقے کو غرق کردینا تھا۔ مذکورہ جرم اور کئی دیگر الکٹرونک جرائم جن میں مالیاتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، ان کے سبب ایرانی ہیکروں کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے اہم علاقوں کو نشانہ بنانے کے ایجنڈے سے متعلق خطرناک تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض انٹرنیٹ پر نوجوانوں کا برپا کردہ غل غپاڑہ نہیں۔ تاہم بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ الزامات کا دائرہ صرف ہیکروں تک محدود رہا اور ایرانی حکومت پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی جو کہ اس سائبر حملے کی خود ذمہ دار ہے۔

اگر صرف کارروائی میں ملوث حکومت یا نظام کو ہی دھمکا دیا جائے تو مستقبل میں مماثل حملوں کا امکان بڑی حد تک کم ہوسکتا ہے خواہ وہ ایران ہو یا کوئی بھی اور ملک جو ہیکنگ کے دہشت گردانہ طریقے کا سہارا لیتا ہے۔

اس سائبر حملے کے ساتھ دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی حملے کی کارروائیاں کی گئیں۔ ان میں سب سے نمایاں اور خطرناک ترین کارروائی ہیکروں کی ایک ٹیم کی جانب سے سعودی عرب کی ارامکو کمپنی کا سسٹم ہیک کرنا تھا۔ یہ کمپنی دنیا میں تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ ہیکروں نے کمپنی کے نظام کو چلانے والے تقریبا 35 ہزار کمپیوٹروں پر کنٹرول کی کوشش کی۔ تاہم کمپنی حکام نے فوری طور پر اپنے زیادہ تر آپریشنز کو روک دیا اور پھر دوبارہ سے اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔

ہیکنگ ایک ملک کی جانب سے دوسرے ملک پر جارحیت ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی اداروں مثلا اقوام متحدہ کی جانب سے اس کی درجہ بندی نہیں کی گئی ہے تاہم اس امر پر اتفاق رائے ہے کہ یہ خطرناک جرائم کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی حکام نے ہیکروں کے حالیہ بڑے جرائم کو دہشت گرد کارروائیاں شمار کیا ہے۔ عدالت میں ساتوں ایرانی ملزمان کو دہشت گرد قرار دیا گیا جو کہ ان کے خلاف سے بڑا ممکنہ الزام ہے۔ یقینا جب تک ہیکروں کے پیچھے کھڑے حکام پر الزام عائد نہیں کیا جاتا، محض کارروائیاں سرانجام دینے والوں کو مورود الزام ٹھہرانے پر اکتفا کرنے سے جرم کی درجہ بندی ناقص ہی رہے گی۔ ہیکروں کا گروپ ایرانی سیکورٹی ادارے کے ماتحت نظام میں شامل ہو کر کام کررہا ہے۔ اس کی وسیع پیمانے پر سرگرمیاں ہیں جن کے ذریعے وہ ان ممالک میں اہم ترین اور حساس تنصیبات اور اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جن کو ایران اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ان میں امریکا بھی شامل ہے۔ ہیکروں کے اہداف میں پٹرول، بجلی، پانی، ہوابازی کے شعبے بلکہ یہاں تک کہ ایٹمی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

شہری تنصیبات کو تخریب کا نشانہ بنانا اور شہریوں کو نقصان پہنچانا دہشت گردی کا عمل ہے جو جنگوں تک میں بین الاقوامی طور پر ممنوع مانا جاتا ہے۔ ییکروں کے جس گروپ کے خلاف عدالتی کارروائی ہے، اس میں حامد فیروزی بھی شامل ہے۔ فیروزی نے ڈیم میں پانی کی سطح، اس کے اسپیل ویز کے متعلق معلومات حاصل کیں اور پھر اسپیل ویز کو کھولنے میں کامیاب ہوگیا۔ اگر ان کو دستی طور پر بند نہ کیا جاتا تو بہت ممکن تھا کہ ڈیم سے متصل علاقہ ڈوب جاتا۔

اگر امریکی استغاثہ صرف ساتوں ہیکروں کے ٹولے کے بجائے ایرانی حکام کو بھی ان دہشت گرد الکٹرونک حملے کے جرائم کا ذمہ دار شمار کرلے تو الکٹرونک دہشت گردی کے خلاف برسرجنگ ایک مؤثر نظام سامنے آسکتا ہے۔

سعودی عرب میں 2012 میں پیش آنے والے "ارامكو" کے واقعے میں اگرچہ کافی معلومات جاری نہیں کی گئیں، تاہم نقصان محدود سطح تک رہا۔ اس لیے کہ ہیکر انتظامیہ کے نظام میں داخل ہوئے تھے نا کہ پیداوار سے متعلق کمپیوٹرائزڈ نظام میں۔ ان کا حتمی مقصد سعودی تیل کی پیداوار کو فوری طور پر روکنا اور تنصیبات کو تخریب کا نشانہ بنانا تھا۔ اس کے پیچھے بڑا مقصد یہ مملکت کی پوری معیشت کو برباد کرنا تھا۔ تقریبا دو سال قبل جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام کمپنیوں کی جانب سے ضخیم پیمانے پر ہیکنگ اور منظم تخریب کی کارروائیوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی تھی۔ ان کارروائیوں میں 16 ملکوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں امریکی فوجی علاقے بھی شامل تھے۔

یہ تمام دہشت گرد سرگرمیاں محض خودمختار دہشت گرد ٹولیوں یا گروپوں کی کارروائیوں کا شاخسانہ نہیں بلکہ یہ ملکوں کی جانب سے منصوبہ بندی کے تحت عمل میں لائی جارہی ہیں۔ لہذا یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں اس کو ممنوعہ ہتھیاروں کی درجہ بندی میں شمار کرلیا جائے گا۔ * بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے