پاکستان ایک عرصہ سے عالمی برادری کو ملک کے اندر بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مداخلت کے بارے میں آگاہ کیے چلا جارہا تھا کہ کس طرح ’’را‘‘ پہلے فاٹا میں پاکستان کو کمزور کرنے کی کارروائیاں کرتی رہی؟ کس طرح ’’را‘‘ نے بلوچستان میں علیحدگی پسند دہشت گردوں کو ناصرف مالی امداد دی بلکہ پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے کی تربیت بھی دی اور کس طرح ’’را‘‘ نے کراچی کو عروس البلاد سے بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا شہر بناکر رکھ دیا؟ پاکستان نے گاہے بہ گاہے حاصل ہونے والے ’’را‘‘ کی مداخلت کے ثبوت اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں کو فراہم بھی کیے، لیکن عالمی برادری نے ناصرف اِن ثبوتوں کی جانب سے آنکھیں بند کیے رکھیں بلکہ بھارت کی مذموم ’’حرکتوں‘‘ کی جانب سے بھی مجرمانہ چشم پوشی کی۔

عموما خفیہ ایجنسیاں دوسرے ممالک میں اپنی کارروائیاں’’لوکل آپریٹرز‘‘ کے ذریعے کرتی ہیں اور اپنے ’’بندے‘‘ دوسری سرزمین پر اتارنے کا رِسک نہیں لیتیں، لیکن عالمی برادری کی جانب سے بھارت کی شرپسندانہ کارروائیوں اور پاکستانی علاقوں میں مداخلت کی مسلسل چشم پوشی کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے بلوچستان اور کراچی میں ’’را‘‘ کے حاضر سروس افسران کو ’’تعینات‘‘ کرنے کی جرات اور جسارت کر ڈالی۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا خیال تھا کہ عالمی برادری کی طرح پاکستانی ادارے بھی اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے غافل ہونگے لیکن ’’را‘‘ کو اِس سلسلے میں اُس وقت منہ کی کھانا پڑی جب پاکستانی سیکورٹی اداروں نے بلوچستان کے جنوبی علاقے سے ’’را‘‘ کاایک اہم ترین ایجنٹ گرفتار کرلیا ۔

گرفتار ہونے والا ’’را‘‘ کا یہ ایجنٹ کوئی عام ایجنٹ یا لوکل آپریٹر نہیں ہے بلکہ یہ ایجنٹ بھارتی نیوی کی انٹیلی جنس ایجنسی کا سابق اہلکار اور ’’را‘‘ کا حاضر سروس افسر ’’کلبھوشن یادیو‘‘ ہے۔ ’’را‘‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے بڑھ کر بھلا بلوچستان میں جاری شورش میں بھارتی مداخلت اور بھارتی ہاتھ کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے؟ کلبھوشن یادیو نے ناصرف افغانستان میں بھٹکے ہوئے علیحدگی پسند بلوچوں کی ’’را‘‘ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کرائیں بلکہ دہشت گردوں کو تخریبی کارروائیوں کی تربیت بھی دی۔

صرف یہی نہیں ہوا کہ ’’را‘‘ کا ایک ایجنٹ گرفتار ہوگیا بلکہ کلبھوشن یادیو سے تفتیش اور تفتیش کے دوران برآمد ہونے والی دستاویزات سے سامنے آنے والے حقائق نے ایک نیا پنڈورا باکس بھی کھول دیا ہے۔ یہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے ایرانی سرزمین کے استعمال ہونے کا پنڈورا باکس ہے۔ کلبھوشن یادیو سے اب تک کی تفتیش اور تحقیقات کے مطابق کلبھوشن یادیو ایرانی ویزا پر پاکستان آیا اور اس سے پہلے ایران کے علاقے چاہ بہار میں تعینات تھا۔ یہ اتنے ناقابل تردید ثبوت تھے کہ بھارت نے فورا ہی کلبھوشن یادیو کو اپنا شہری اور بھارتی بحریہ کی نیوی کا افسر تسلیم کرلیا۔ پاکستان کی جانب اپنے خلاف ایرانی سرزمین ہونے کا معاملہ ایرانی صدر کے حالیہ دورے کے دوران بھی اٹھایا گیا۔

پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران جب ایرانی صدر سے پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مداخلت کے حوالے سے ایک سوال ’’کروایا‘‘ گیا تو حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’’ہم جب بھی پاکستان کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو اِس قسم کی افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں‘‘ حسن روحانی نے چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ملاقات میں ’’را‘‘ کی مداخلت سے متعلق کسی قسم کی گفتگو سے بھی انکار کیا اور کہا کہ ’’پاکستان میں ہم نے یہ بات کی ہے کہ ہم کس طرح اپنے تعلقات کو مضبوط کر سکتے ہیں، ہم نے علاقائی سالمیت پر بات کی ہے ہم ایک ہی طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ علاقے کے مسائل فوج سے حل نہیں ہو سکتے‘‘۔ جب ایرانی صدر نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں ’’را‘‘ پر گفتگو کو مسترد کیا تو مجبورا آئی ایس پی آر کو اِس ملاقات کے نکات(منٹس) جاری کرنے پڑے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر سے کہا کہ ’’بھارت پاکستان کے اندر، خصوصاً بلوچستان میں درا اندازی میں ملوث ہے اور بعض اوقات وہ ہمارے برادر ملک ایران کی سرزمین کو بھی استعمال کرتا ہے، میری درخواست ہے کہ اُنہیں (را) کو اس قسم کی سرگرمیوں سے روکا جائے تاکہ پاکستان استحکام کی جانب بڑھ سکے‘‘۔

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کئی سوالات، پوشیدہ پیغامات اور نکات چھوڑے ہیں، اُن نکات، پوشیدہ پیغام اور سوالات پر اِس کالم نگار کا تبصرہ محفوظ ہے۔ اگرچہ ایرانی صدر نے پاکستان کے عسکری ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حسن-راحیل ملاقات میں ’’را‘‘ کا معاملہ زیر بحث آنے کی تردید کی ہے، لیکن جو حقائق ہیں وہ حقائق ہی رہیں گے۔پاکستان اور ایران دو ایسے پڑوسی ہیں جن میں ناصرف خطے بلکہ باقی دنیا میں بھی امن قائم کرنے کیلئے بڑا پوٹینشل موجود ہے۔ پاکستان اور ایران دوطرفہ تجارت کو فروغ دے کر اپنے عوام پر ایسی پائیدار اور دیرپا خوشحالی کے دروازے کھول سکتے ہیں، جس میں انہیں کسی دوسرے کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ ایران پاکستان کو گیس فروخت کرنا چاہتا ہے لیکن گیس پائپ لائن جیسے معاہدوں پر عملدرآمد اُسی صورت ممکن ہے کہ ایران مشرق اور مغرب کے حقائق کو یکساں طور پر سمجھنا شروع کردے۔

قارئین کرام!! یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور ایران خطے اور اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہونے کے ناطے اپنے مضبوط رشتوں سے عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ایران پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے سے روکے! امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعلقات استوار ہونے کے بعد اگر ایران علاقے اور دنیا میں امن کیلئے کام کرکے اپنا مقام بنانا چاہتا ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ ایران اپنے دوست (پاکستان) کے دشمن (بھارت) کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کی بجائے پاکستان کے ساتھ دوستی اور پڑوسی کے تقاضے نبھائے اور بہتر ہوگا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ کھلنے کے بعد ایران ’’را‘‘ کو اب کورا جواب دے دے! بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
-----------
'العربیہ' نیوز چینل کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے