11 مئی 1939ء کو تب سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبدالعزیز اور ان کے صاحب زادوں نے بحرین کا دورہ کیا تھا۔وہاں ان لوگوں نے ان کا خیرمقدم کیا تھا جو ان کی شرافت ،اعلیٰ اخلاقی اوصاف اور نجابت سے بخوبی آگاہ تھے۔بحرین کے اس وقت کے حکمران مرحوم شیخ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے اپنے معزز مہمانوں کو میزبانی کا اعزاز بخشا اور اس کا جشن منایا تھا۔

صحافی خالد الباسم نے اپنی کتاب ''خلیج ٹائم'' میں اس دورے کی میڈیا کوریج کے بارے میں لکھا ہے۔انھوں نے روزنامہ البحرین میں شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیا ہے۔

اس خبر میں لکھا تھا :''سعودی شاہ اور ان کے بیٹوں کا والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے بحرین کے حکمران نے بحرین تھیٹر کی انتظامیہ کو ہفتے کی رات کا شو شاہی گروپ کے لیے بُک کرنے کا کہا اور یہ حکم دیا تھا کہ کسی اور کو کوئی ٹکٹ فروخت نہ کیا جائے۔شہنشاہ معظم شاہ عبدالعزیز اپنے بیٹوں کے ہمراہ تھیٹر میں گئے۔اس موقع پر شیخ حمد بھی ان کے ساتھ موجود تھے اور ان سب نے وہاں مصری فلم ''مفرور'' دیکھی تھی''۔

باسم لکھتے ہیں :'' مصری فلم مفرور 1936ء میں فلمائی گئی تھی۔یہ دو افراد کی کہانی ہے جو فوج سے بھاگ جاتے ہیں اور کچھ عرصے کے لیے پہاڑوں میں رہتے ہیں۔ان میں سے ایک مر جاتا ہے جبکہ دوسرا اپنی محبوبہ کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارتا ہے اور اس کے ساتھ بعد میں شادی کر لیتا ہے''۔

باسم لکھتے ہیں:''یہ دورہ سینما کے لیے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔اس سے سینما کی مقبولیت میں بے پایاں اضافہ ہوا تھا کیونکہ دورے سے اس کو جواز عطا ہوگیا تھا مگر اس کا اختتام اس مخالفت کے ساتھ ہوا تھا جو مذہبی اور سماجی سطحوں پر آج بھی جاری ہے''۔
______________________

(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے @TurkiAldakhil پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے کالم میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے،ان سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضرور نہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے