سعوی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی "بلوم برگ نیٹ ورک" کے ساتھ گفتگو کا دورانیہ پانچ گھنٹے تھا۔ اس دوران انہوں نے ان خصوصی منصوبوں کا ذکر کیا جن کے ذریعے مملکت کو بتدریج ایک ایسی اقتصادی ریاست میں تبدیل کیا جائے گا جو اپنی آمدن میں پٹرول پر انحصار نہ کرے۔

شہزادہ محمد نے جو اس اقتصادی منتقلی کی قیادت کررہے ہیں، ایک منصوبے کا اعلان کیا جس کے ذریعے سرمایہ کاری فنڈ کی از سرنو تشکیل عمل میں لائی جائے گی تاکہ اس کی مجموعی مالیت 30 کھرب ڈالر تک پہنچ جائے اور یہ تیل پر انحصار کے خاتمے میں مددگار ہو۔

"آئندہ 20 برسوں میں ہم ایک ایسی ریاست ہوں گے جو بنیادی طور پر پٹرول پر انحصار نہیں کرے گی"، یہ معیشت سے متعلق شہزادہ محمد بن سلمان کے جامع ویژن کا ایک حصہ ہے۔ دنیا کے ممالک اب اپنے وسائل کے انتظامی امور اور ان سے متعلق منصوبوں میں تبدیلی لارہے ہیں۔ گزرے سالوں سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ تیل پر مکمل انحصار اور ریاست اور سماج کے درمیان تعلق میں رعیت کے ماڈل پر بھروسہ، ان سے ایک ایسا ٹھوس انفرا اسٹرکچر قائم نہیں ہوتا جو خطے اور ساری دنیا کو ہلادینے والے چیلنجوں کا سامنا کرسکے۔

سعودی نائب ولی عہد نے نیشنل اسٹریٹجک ٹرانسفارمیشن پروگرام کے ذریعے"نان پیٹرولیئم" آمدنی کو بڑھانے کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔ یہ وہ ہی منصوبہ ہے جس کے بارے میں لوگ سن چکے ہیں اور اس کا تاثر جلد ہی نمایاں ہوگا۔ پٹرول کوئی لازوال پیداوار نہیں، اس کی کمی اور خاتمہ بھی یقینی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں کمی بھی اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ دنیا کی ضرورت کے حوالے سے اس کی مدت بھی محدود ہے۔ لہذا ایک مضبوط اور غیر متزلزل معیشت اور آئندہ نسلوں کی ضروریات پوری کرنے والی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے یہ بنیادی شرط ہے کہ مملکت کے پٹرول پر مکمل انحصار کو جزوی انحصار میں تبدیل کیا جائے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی سوچ میں مستقبل کی تصویر واضح ہے۔ وہ چیلنجوں اور تبدیلیوں کی ضرورت کو جانچنے والا واضح ویژن رکھتے ہیں۔

یہ ایسی گفتگو ہے جو پٹرول کا آخری بیرل ختم ہونے سے قبل ہی سعودی عرب کی آئندہ نسلوں کا وسیع مستقبل تیار کر رہی ہے..!

*بشکریہ روزنامہ عكاظ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے