شام میں داعش کی سیاسی اور فوجی صلاحیت کے بخیے ادھڑنا شروع ہو چکے ہیں۔ روس کی شام میں فوجی مداخلت، عراق اور شام کے مشرقی علاقوں میں امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کی مسلسل فوجی کارروایوں کے نتیجے میں داعش کو اپنے مقبوضہ علاقوں کا ۲۰ سے ۲۵ فیصد خالی کرنا پڑا ہے۔ اس کے کافی جنگجو بھی مارے جا چکے ہیں اور نئی بھرتیاں بھی کم ہوتی جا رہی ہیں۔ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ ایسا لگتا ہے کہ داعش شام کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک مثلاً لیبیا اور افغانستان جانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

گزشتہ ایک سال سے داعش سمندر پار آسان اہداف پر حملے کر رہی ہے جس کی وجہ اس پر شام اور عراق میں بڑھتا ہوا دباؤ ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں مغربی ممالک میں ان حملوں میں اضافے کی توقع رکھنی چائیے۔ جتنا زیادہ داعش پر دباؤ آئے گا اتنا ہی وہ دنیا میں دہشت گرد حملے کرے گی۔ اسی وجہ سے یہ بھی واضح ہوتا جائے گا کہ وہ شام کو چھوڑ کر کہیں اور جانا چاہتی ہے کیونکہ وہ ایک ہاری ہوئی جنگ میں اپنے جنگجو اور وسائل جھونکے کے بجائے ان کو دنیا میں دہشت گردی کے لئے استعمال کرنا چاہے گی تاکہ اپنے 'نظریات' کے لئے زیادہ پروپیگنڈا کیا جا سکے۔

موجودہ حالات میں جہاں داعش اپنی کارروائیوں کے لئے رضاکاروں کی محتاج ہے، نئے جنگجو ہی بنیادی ضرورت ہیں کیونکہ دیگر وسائل اس کے براہ راست پہنچ سے باہر ہیں۔ اگر وہ اپنی کارروائیوں کے لئے درکار نئے جنگجو حاصل کرتی رہتی ہے تو خواہ الرقہ میں داعش کے ٹھکانے کو تباہ بھی کر دیا جائے تب بھی وہ دنیا کے لئے خطرہ بنی رہے گی۔ دوسری طرف اگر تازہ دم جنگجو ملنے کے راستے مسدود کر دیے جائیں تو یہ اپنی موت آپ مر جائے گی۔

انہی حقائق کی بنیاد پر امریکی سی آئی اے اور نیشنل سیکیورٹی آفیئرز کے سابق ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 'داعش کے جنگجو بھرتی کرنے والا بہترین سارجنٹ' قرار دیا ہے۔ ٹرمپ داعش کے لئے تازہ جنگجووں کی مستقل بھرتی کی ضمانت ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں۔

اول، ٹرمپ دنیا میں تہذیبوں کی جنگ کے بیانیے کا چیمپیئن بن چکا ہے جو داعش کا بھی نعرہ ہے کیونکہ اسی پر اس گروہ کا نظریہ قائم ہے۔ القاعدہ کی گود میں جنم لینے کے وقت سے داعش اسی تصور کی وجہ سے پروان چڑھی ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر منظم طریقے سے ظلم کیا جا رہا ہے اور مغربی کروسیڈر اور ان کے صیہونی اتحادی اسلام کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔ داعش نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو اسی بنیاد پر متاثر کرتی ہے کہ پورا مغرب مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ان کو اپنے اور مسلمان بھائیوں کے دفاع کے لئے ان حملا آوروں کا مقابلہ کرنا ہے۔

ٹرمپ کی منطق

ٹرمپ داعش کے مغرب مخالف پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے تمام پونے دو ارب مسلمان اس کی طرح مغرب کے دشمن سمجھے جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی منطق یہ ہے کہ پوری مسلم دنیا کے خلاف جنگ کرنی چاہئے۔ ٹرمپ اس جھوٹے پروپیگنڈے کو سچ بنانے پر تلا ہوا ہے۔

دوئم، ٹرمپ نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ داعش کے خلاف زمینی جنگ لڑنے کے لئے تیس ہزار فوج بھیجی جائے۔ جرمن صحافی جورجن ٹوڈنہوفر جو داعش کے درمیان رہ چکا ہے اس تجویز کو داعش کے حق میں ایک زبردست بغاوت قرار دیتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے داعش عالمی دہشت گرد تحریکوں کی بلا شرکت غیرے بادشاہ بن جائے گی۔ دنیا کی واحد سپر پاور سے جنگ کرنے والا ہی دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد کہلانے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن اگر امریکہ کسی کو اتنا بڑا خطرہ سمجھے کہ اس کے مقابلے کے لئے روایتی زمینی جنگ لڑے تو وہ یقیناً تمام ہم خیال تحریکوں کی امیدوں کا مرکز بن جائے گا۔

ایسے میں جب کہ داعش، شام میں شکست سے دوچار ہے اور اپنے ہمدردوں اور رضاکاروں کا اعتماد کھو رہی ہے، ٹرمپ ایسی تجاویز دے رہا ہے جس سے اس کی ساکھ اور کنٹرول بحال ہو جائے گا۔ امریکی فوجی قیادت کا خیال ہے کہ اگر اس تجویز پر عملدرآمد کر بھی دیا جائے تو جنگ جیتنے کے لئے تیس ہزار نہیں بلکہ نوے ہزار فوج درکار ہوگی۔ مغرب کے لئے ایسی کسی جنگ میں چھلانگ لگانا بہت بڑی حماقت ہوگا کیونکہ اس کے اخراجات اور نقصانات بے پناہ ہوں گے۔ محض امریکی فوج کی ہلاکتیں ہی داعش کے لئے بہترین پروہپیگنڈا ثابت ہوں گی اور اس کے سوشل میڈیا آپریشن ایک نئے عروج پر پہنچ جائیں گے جہاں امریکہ سے لڑنے کے لئے نئے جنگجو بھرتی کرنا بہت آسان ہو گا ۔ اور اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو مغربی ممالک کی مکمل فتح سے کم کوئی بھی کامیابی دراصل داعش کی فتح سمجھی جائے گی۔

داعش کو شکست دینا ممکن ہے اور اس وقت ہماری یہ حکمت عملی آگے بڑھ رہی کہ اس کے گرد اتحادی پیدا کرکے گھیرا تنگ کر رہے ہیں اور اس کے خلاف لڑنے والے گروپوں کو لاجسٹک اور فضائی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ سست رفتار ہے مگر مستحکم ہے۔ اب تھوڑا وقت ہی رہ گیا ہے جب داعش انحطاط کا شکار ہوتے ہوتے ایسے مقام پر پہنچ جائے گی کہ ایک دھماکے سے پھٹ جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ جو کر رہا ہے وہ داعش کے تن مردہ میں زندگی کی نئی روح پھونکنے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ امید رکھنی چاہئیے کہ اگر امریکی عوام یہ حماقت کر بیٹھیں کہ اسے منتخب کر لیں تو کم از کم امریکی فوج دانشمندی سے کام لے اور جیسا کہ مائیکل ہیڈن نے کہا ہے 'اس کا حکم ماننے سے انکار کر دے'۔

................................
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے