اچھی خبر یہ ہے کہ اب ہمیں لوگوں کی یہ شکایت سننے میں نہیں آ رہی کہ ان کے بیٹے شام میں لڑائی کے لیے چلے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی افراد کی ہلاکت کی خبروں اور پھر تعزیت کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا ہے!

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وسیع پیمانے پر جاری بھرتی کی کارروائیوں میں حالیہ اقدامات کے بعد بڑی حد تک کمی آ گئی ہے، ساتھ ہی شام میں جنگ میں شرکت کے لیے جنگجوؤں کا سفر قریبا رک گیا ہے۔

"جہاد کی دعوت" کے سلسلے میں سیاسی اور مذہبی پرچار اور مالی رقوم جمع کرنے کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے علاقائی تعاون نے اپنا کام دکھایا۔ تاہم اس خاموشی کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ داعش اور النصرہ محاذ جیسی تنظیموں کے ہمدرد باقی نہیں رہے بلکہ ان تنظیموں کی سرگرمیوں میں کمی آ گئی ہے۔ ایک ایسی جنگ میں جو حجم کے لحاظ سے تو بڑی ہے مگر اس کے بارے میں نشر کم کیا جا رہا ہے، ایک طرف بیرونی سپورٹ کے سوتے خشک ہوئے تو دوسری طرف شام میں دونوں تنظیموں کا تعاقب کر کے بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سیکورٹی اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر ان جماعتوں کے تعاقب، ان کے اور ان کی قیادت کے ٹھکانوں کی تلاش اور پھر نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ چوں کہ ہم ان "جہادی جماعتوں" کے افراد کی تعداد نہیں جانتے اس لیے ان کے جانی نقصانات کے حوالے سے گردش میں آنے والی خبروں کا اعتبار بھی مشکل ہے۔ یہاں تک کہ ان میں عرب اور غیر ملکیوں کی تعداد بھی معلوم نہیں ہے۔ البتہ اب تک کے مختلف اندازوں کے مطابق 7 ہزار سے 30 ہزار تک غیر ملکی جنگجو شام کی جنگ میں شریک ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان جماعتوں کے گروپوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اس کی دلیل یہ ہے کہ "جہادیوں کی باقیات" آج تک افغانستان اور عراق میں لڑ رہی ہے۔ وہاں جنگ اور انارکی کا راز یہ ہی ہے۔ جب تک شام میں جنگ جاری ہے وہاں بچے کھچے شدت پسندوں کی ٹولیاں باقی رہیں گی۔ میں اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیتا کہ اتحادی افواج کی جانب سے ایک ہی فریق کو نشانہ بنانے کی اسٹریٹجک غلطی کی وجہ سے آگے چل کر یہ جماعتیں پھر سے سر اٹھالیں گی۔

فی الحال یہ بات واضح ہے کہ داعش کو شام میں بھاری جانی نقصان کا سامنا ہے۔ ایک لحاظ سے ہم اس کو مثبت پیش رفت شمار کر سکتے ہیں اس لیے کہ شام کا ایک دہشت گرد جماعت سے پیچھا چھوٹ رہا ہے جو آج ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے اور آگے چل کر خطے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہو گی۔ دوسرے لحاظ سے ہم خیال کرتے ہیں کہ اس سے شام میں دونوں مرکزی فریقوں کے درمیان لڑائی کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا۔ ایک طرف بشار الاسد کی فورسز اور اس کے حلیف اور دوسری طرف مسلح شامی اپوزیشن۔

ایسے وقت میں جب بین الاقوامی اتحادی افواج دہشت گردوں کے ایک فریق داعش کے خاتمے کی کارروائیاں کر رہی ہیں، اسی دوران وہ دیگر دہشت گرد جماعتوں کے خلاف قطعا کچھ نہیں کر رہیں۔ ان میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کی 'عصائب الحق' شامل ہیں، جو داعش کی طرز پر ہی فرقہ وارانہ بنیاد پر قتل کی کارروائیاں کر رہی ہیں! اسی اندیشے کا اظہار اماراتی وزیر خارجہ الشیخ عبداللہ بن زاید پہلے ہی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ داعش کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں مگر دوسری جانب ان دہشت گرد جتھوں کے حوالے سے کیا کیا جا رہا ہے جو فرقہ وارانہ بنیاد پر شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں؟

لگ تو ایسا ہی رہا ہے کہ شام میں جنگ کو صرف داعش کے خلاف لڑائی تک محدود رکھنا کوتاہ نظری پر مبنی پالیسی ہے۔ یہ پالیسی آگے چل کر دو فرقوں کے درمیان دہشت گرد لڑائی کی وسیع صورت کا سبب بن جائے گی۔ اوّلا سیاسی حل میں ناکامی کے بعد پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے کے طور پر اور ثانیا طاقت کے زور پر بشار الاسد اور اس کے چیلوں کا شام کے عوام کی اکثریت پر مسلط رہنے کی وجہ سے۔

بین الاقوامی اتحادی افواج کی قیادت کا موقف ہے کہ شام میں اس کا مشن متعین ہے اور وہ ہے داعش تنظیم کا خاتمہ نہ کہ خانہ جنگی میں داخل ہونا۔ درحقیقت یہ ایک اندھی پالیسی ہے جو مختلف زاویوں کے نظریہ قوائیت (Dynamism) کے حامل بحران کو نہیں سمجھ سکتی۔ یہاں تک کہ اگر اتحادی افواج شدت پسند تنظیم (داعش) کے تمام جنگجوؤں کا بھی خاتمہ کر دے تو بھی جنگ جاری رہنے کی صورت میں یہ تنظیم پھر سے زندہ ہو جائے گی۔ بشار الاسد کو منظر نامے سے باہر کرنے کے لیے کوئی قابل قبول سیاسی منصوبہ نہیں مل سکا، وہ بشار جو پانچ لاکھ افراد کے قتل اور لاکھوں افراد کے بے گھر ہوجانے کا ذمہ دار ہے۔ بالآخر شام میں اور اس کے باہر ایک نئی "داعش" نمودار ہو گی۔ یہ صورت حال عراق میں دیکھی جا چکی ہے۔ وہاں سنی قبائل نے امریکی افواج کے ساتھ مل کر القاعدہ کا خاتمہ کیا مگر آگے چل کر بغداد حکومت کی تحکم پسندانہ اور دشمنانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایک متبادل تنظیم سامنے آ گئی جس کا نام داعش ہے۔

تھوڑے ہی عرصے میں یہ تنظیم شمال کی جانب شام تک پھیل گئی اور سابقہ القاعدہ تنظیم سے زیادہ طاقت ور شکل اختیار کرلی۔ یہاں بین الاقوامی اتحاد کو اپنی موجودہ مہم کے خطرے کا ادراک ہونا چاہیے کیوں کہ یہ بحران کو مزید گہرا بنا دے گا، اگرچہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو منتشر کرنے میں کامیاب بھی ہوجائے۔ اس لیے کہ یہ تنظیمیں لاکھوں بے گھر شامیوں کے درمیان موجود ہیں اور ان تنظیموں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ہزاروں لوگوں کو بھرتی کرلیں۔ بالخصوص اتحادی فوج کے مشن میں بشار الاسد کی ہمنوا لبنان، عراق اور پاکستان کی غیر ملکی ملیشیاؤں کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور آزادانہ طور پر مقامی آبادی کے خلاف فرقہ وارانہ جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ اس منظر نامے سے یقینا دہشت گردوں کی تیسری نسل نمودار ہوگی جو زیادہ پرعزم اور خطرناک ہوگی!  *بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے