سعودی عرب اور مصر کے درمیان پل کے منصوبے کا اعلان ہونا تھا کہ دونوں معاشروں کے درمیان تعلقات کی تاریخ نظروں میں گھوم گئی۔

مصر جہاں سے لوگوں نے گائیکی، سینیما، صحافت، دانش وری کے فنون کے ساتھ ساتھ سائنسی علم و آگہی حاصل کیے، سعودیوں سمیت ہر عرب کے دل میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔

شاہ سلمان پل ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ دونوں براعظموں کے درمیان ایک تجارتی، سماجی اور تہذیبی گزرگاہ ہوگا۔ دونوں براعظموں اور دونوں ملکوں کے درمیان اس ربط کی اسٹریٹجک، اقتصادی، سیاسی اور سماجی جہت ہوگی۔ شاہ سلمان ُپل، تاریخی ہم آہنگی اور یکجہتی کے پلوں کے تاج پوشی کے مترادف ہے جس کا کوئی مقابل نہ ہوگا۔

تعلقات کو گہرا اور قریبی بنانے والے اقتصادی معاہدے بھلائی پھیلانے کا ذریعہ ہونے کے علاوہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کی تاسیس کے وقت سے ہی مملکت کا یقین ہے کہ خطابوں اور شعلہ بیانیوں پر اکتفا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اقتصادی میدان اور لوگوں کے مفادات کے لیے کام، اس سے مواقف سامنے آتے ہیں، بھرپور حکمت عملی جنم لیتی ہے، منصوبوں اور خیالات کو ِجلا ملتی ہے اور اتحاد مضبوط اور مستحکم ہوتے ہیں۔

یہ ہے مملکت سعودی عرب جو پل بناتی ہے ان کو ڈھاتی نہیں، معاشروں کی اقتصادی ترقی اور بھلائی میں شریک ہوتی ہے ان کی راہ میں رکاوٹیں نہیں پیدا کرتی۔ مصر کے ساتھ ہونے والے معاہدے ان دیگر ممالک کے لیے واضح اور سنجیدہ پیغام ہیں جن کو اس تعلق میں اس طرح نظر انداز کیا گیا گویا کہ ان کی کوئی قابل ذکر حیثیت ہی نہ تھی۔

1986ء میں جب سعودی عرب اور بحرین کے درمیان پل بنایا گیا توغازی القصیبی (سابق سعودی وزیر اور سفیر) نے چند مصرعے پڑھے تھے جن کا مفہوم یہ ہے کہ:

یہ پتھر کا نہیں عشق کا راستہ ہے
یہ نخلستانوں کو لے کر جزیروں تک اڑا
خیموں کو لے کر ساحلوں تک پہنچا تو وہ
پانی کے راستے اتر کر سفید بادبان سے جا ملے

* بشکریہ روزنامہ "عكاظ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے