مغرب میں مقیم ایک سرکردہ ایرانی مذہبی لیڈر نے مجھے بتایا ہے کہ انہیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک حالیہ ملاقات میں کہا کہ وہ ایران کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ مجھے یہ سن کر ذیادہ خوشی ہوتی کہ اگر سعودی وزیر خارجہ ایران کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے کیونکہ موجودہ حالات میں یہ کہیں زیادہ سود مند ثابت ہوتی۔ اگرچہ جان کیری کا ایران کا دورہ ممکن ہے مگر مستقبل قریب میں اس کا امکان نہیں ہے۔

اس وقت صدر حسن روحانی کی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج امریکہ اور پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کرانا ہے۔ ایرانی عوام کی اکثریت اس راہ میں حائل مشکلات کا ذمہ دار امریکہ کو سمجھتی ہے۔ اس معاہدے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جو امیدیں پیدا ہوئی تھیں وہ اس لئے دم توڑ گئیں کہ سپریم لیڈر خامنہ ای اور ان کے حامی اب بھی اس پر مصر ہیں کہ امریکہ، ایران کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

رکاوٹیں

اس قسم کی سوچ اور ایران کے پڑوسیوں کے ساتھ محاذ آرائی اور جارحانہ رویہ رکھنے کی وجہ سے شام اور یمن کے معاملات پر معنی خیز سیاسی پیش رفت کے امکانات بہت مشکل نظر آتے ہیں۔ پچھلے ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے تہران پر زور دیا تھا کہ وہ ان دونوں ممالک میں امن کی بحالی کے لئے مدد کرے۔ مگر روحانی ان حالات میں کیا مدد کر سکتے ہیں جب وہ خود سخت گیر عناصر کے شدید دباؤ میں ہیں۔ ان کی ترجیحات ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کرانا اور معیشت کو مستحکم بنانا ہی ہیں۔

امریکہ اور اس کے مغربی حلیف ممالک ایران کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد کر کے اسے اس قابل بنا سکتے ہیں کو وہ کارآمد علاقائی اور بین الاقوامی کردار ادا کر سکے۔ مگر وہ ان حالات میں ایران پر خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے کوئی اثرورسوخ نہیں استعمال کرسکتے جہاں باہمی دشمنی اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات کا ماحول ہو۔
ایرانی تیل کی خریداری پر عائد پابندیاں اٹھائی جا چکی ہیں مگر جب تک سعودی عرب پیداوار میں کمی نہیں کرتا تہران کے لئے عالمی مارکیٹ میں گنجائش کم ہے۔ ایرانی وزیر برائے تیل نے پیداوار میں اضافے کا عندیہ دیا ہے مگر اس سے قیمتیں مزید کم ہو جائیں گی اور یہ صورتحال دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ہو گی۔

ہر شخص کی خواہش ہے کہ شام اور یمن میں جاری خون خرابہ بند کیا جائے مگر ابھی تک خطے کے دو اہم ترین ممالک، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ان معاملات پر گفتگو کے لئے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ جنوری میں ایران میں سعودی سفارتخانے اور قونصل خانوں پر حملوں کے بعد ریاض نے تہران سے سفارتے تعلقات توڑ لئے تھے۔

جب تک یہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو حل نہیں کرتے علاقائی امن کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگرچہ ان دونوں کے درمیان ماضی میں کبھی مثالی تعلقات نہیں رہے ہیں، حتی کہ شاہ کے دور میں بھی نہیں، مگر پھر بھی اس دور میں باہمی مفاہمت اور احترام تو موجود تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے