آئیں شام کے بارے میں سیاسی غوغا آرائی کو دو منٹ کے لیے طاقِ نسیاں پر رکھ کر روس کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات پر اصرار کے جواز اور معقولیت کے بارے میں معروضی انداز میں سوچتے ہیں۔روس کا بالاصرار کہنا ہے کہ صرف ایسے انتخابات کے ذریعے ہی اس تنازعے کے سب سے باعث نزاع معاملے یعنی صدر بشارالاسد کی قسمت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

اگر صرف انتظامی معاملات ہی کو ملحوظ رکھا جائے تو شام میں منصفانہ انتخابات ہو ہی نہیں سکتے ہیں۔یہ ملک ایک پولیس ریاست ہے اور اس کا منصفانہ انتخابات کرانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔حتیٰ کہ اس کی تاریخ میں اسد خاندان کی شام میں مطلق العنان حکمرانی سے قبل بھی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

روس کے اس غیر لچک دار مؤقف نے بحران کو مزید پیچیدہ کردیا ہے کیونکہ اس نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ شام میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کیسے منعقد ہوں گے؟بشارالاسد نے روس کی ایک خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شامی عوام چاہیں تو قبل ازوقت انتخابات ممکن ہیں۔شام سے ان کی کیا مراد ہے؟وہ کن شامیوں کا حوالہ دے رہے ہیں؟وہ شامی اپنی اس خواہش کا کیسے اظہار کریں گے؟کیا وہ اس میں ملک کے ان حصوں کو شامل کرتے ہیں جو اب ان کی عمل داری نہیں رہے ہیں؟

یو ٹرن

بشارالاسد کا روسی خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں یہ بیان ان کے ماضی قریب کے مؤقف کے بالکل برعکس ہے۔انھوں نے 2014ء میں اپنی ''شاندار'' کامیابی کے بعد یہ کہا تھا کہ اب ان کی سات سالہ مدتِ صدارت کے 2021ء میں خاتمے سے قبل شام میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

ان کے مؤقف میں یہ نرمی دراصل ماسکو کی شام کے بارے میں سیاست کاری کا شاخسانہ ہے۔ماسکو کی یہ سیاست بعض اوقات واشنگٹن کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت داری کی وجہ سے سمجھوتوں کا شکار ہوجاتی ہے۔

بعد ازجنگ کسی بھی اور ملک کی طرح شام میں انتخابات کے انعقاد کے لیے انتظامی اقدامات درکار ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ان انتظامات کے تحت بین الاقوامی مبصرین،نگرانوں اور صحافیوں کی تعیناتی بھی شامل ہے مگر جنگ زدہ شام میں تو متحارب گروپ انسانی امداد لے کر آنے والے ٹرکوں کے متاثرہ علاقوں میں داخلے ہی کو روک دیتے ہیں۔وہ متاثرین تک یہ امدادی سامان پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔

ماسکو اور دمشق کو یہ بھی وضاحت کرنی چاہیے کہ دولتِ اسلامیہ عراق اور شام (داعش) کے زیر قبضہ علاقوں میں آباد شامی یا اندرون اور بیرون ملک در بدر ایک کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ شامی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی کیسے استعمال کریں گے؟
_________________________
راید عمری ایک اردنی صحافی ہیں۔وہ سیاسی تجزیہ کار اور پارلیمانی امور کے ماہر ہیں۔وہ مقامی اور علاقائی سیاسی امور کے بارے میں لکھتے رہتے ہیں۔البتہ ان کے پسندیدہ موضوعات عرب بہار ،آزادیِ صحافت ،ابھرتی ہوئی معیشتیں ،موسمیاتی تبدیلیاں ،قدرتی آفات ،زراعت ،ماحول اور سوشل میڈیا ہیں۔وہ العربیہ انگلش کے مستقل لکھاری ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے۔
raed_omari1977@yahoo.com, اور Twitter @RaedAlOmari2
ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے