اس وقت سے لے کر آج تک زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے جب مصر میں شاہ فؤاد اوّل اور شاہ فاروق کے دور میں شاہی نظام تھا۔ اس کے بعد ملکی نظام جمہوری انقلاب میں تبدیل ہوا، پھر اشتراکیت اور بعد ازاں کیمپ ڈیوڈ کا ساداتی نظام۔ اسی طرح حسنی مبارک اور الاخوان کے محمد مرسی کے دو زمانوں میں۔ سعودی عرب اور خلیج کے عرب ممالک کا مجموعہ اپنے اسٹریٹجک کھاتوں میں مصر کو بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی میں جب ایک مرتبہ تقریبا پانچ سالوں کے لیے تعلقات میں شورش پیدا ہوئی تو پورا خطہ شورش زدہ ہوگیا تھا۔ 1967ء کی جنگ کے فوری بعد یہ تعلقات اپنے تاریخی راہ پر واپس آگئے۔ جان لیجیے کہ خطے کا استحکام ان ہی فریقین پر منحصر ہے۔

یہ پس منظر مصری اپوزیشن اور اس کی حلیف قوتوں (بالخصوص بیرون ملک) کی جانب سے اس شدید ہنگامے کو بیان کرتا ہے جو انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مصر کے دورے سے قبل اور اس کے دوران کھڑا کیا۔ اپوزیشن صدر عبدالفتاح السیسی اور مصری حکومت کو تنگی میں ڈالنا چاہتی تھی۔ اسے پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ دورے کو رکوا نہیں سکتی، بعد ازاں واضح ہوگیا کہ یہ 1969ء میں شاہ فیصل کے دورہ مصر کے بعد اپنی نوعیت کا اہم ترین دورہ ہے۔ اس دورے میں شاہ فیصل نے جمال عبدالناصر سے ملاقات کی اور اس کے نتیجے میں تعلقات کی درستی اور مضبوطی عمل میں آئی جس کا مشاہدہ ہم آج تک کررہے ہیں۔

اپوزیشن نے علاقائی سطح پر سعودی عرب اور مصر کے درمیان اختلافات کی کہانیوں میں مبالغہ آرائی کی اور شاہ سلمان کے دورے کی کامیابی کے امکان کو مشکوک بنانے کے لیے اسی روش کا سہارا لیا۔ تاہم حیرانی کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دستخط کیے جانے والے معاہدے اور ان کی نوعیت ہماری تمام تر توقعات سے بڑھ کر ہیں جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہاں تک جو لوگ شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان تعلق کی گرمجوشی کو جانتے ہیں وہ بھی حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ان میں زیادہ تر اسٹریٹجک منصوبے ہیں جن میں اہم ترین دونوں ملکوں اور دونوں براعظموں ایشیا اور افریقا کے درمیان ایک پل بنانے کا اعلان ہے۔ اعلان کردہ شاہ سلمان پل اہمیت میں کسی طور بھی ترکی کے سلطان محمد الفاتح پل سے کم نہیں جو ایشیا اور یورپ کو ملاتا ہے۔ تعمیر کے بعد شاہ سلمان پل مصر اور سعودی عرب کے درمیان جغرافیائی لحاظ سے پہلی گزرگاہ بن جائے گا۔ دیگر معاہدوں میں بجلی کے شعبے اور دو جزیروں تیران اور الصنافیر کی سعودی عرب کو واپسی کے اعلان کے علاوہ پندہ دیگر اہم معاہدے شامل ہیں جو بحر احمر کے دونوں جانب تعلق کو مزید گہرا بنائیں گے۔

مصری اپوزیشن اور خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے مخاصمین کے پاس قصیر المدت ویژن ہے جس کا مقصد اپنے وقتی مفادات کی خاطر تعلقات کو خراب کرنا ہے۔ تاہم قاہرہ اور ریاض کے نزدیک 1936ء سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلق اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ملک اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کے درمیان تعلق کو دو طرفہ فروعی مواقف یا علاقائی واقعات کے بارے میں نقطہ ہائے نظر یا پھر اخباری کالموں اور مضامین کی وجہ سے دھچکا پہنچے۔ صاحب بصیرت سیاست داں حکمت عملی اور ذیلی اقدام کے درمیان، اعلی اہداف اور تکتیکی منصوبوں کے درمیان، اختلافات اور اختلاف رائے کے درمیان فرق کرلیتے ہیں۔ وہ اپنے تئیں حرکت میں آنے، تنوع اور یہاں تک کہ اختلاف رائے کے لیے بھی گنجائش چھوڑتے ہیں۔

کیا سعودی عرب اور خلیج کے مصر کے ساتھ تعلق میں کوئی مسئلہ نہیں ہے؟

متناقضانہ انداز میں جانبین کے درمیان زیادہ تر شکوے جو کہ ہمارے سننے میں آتے رہتے ہیں، ان کا محور متفقہ تعاون پر عمل درامد میں کمزوری ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جانبین زیادہ بڑے پیمانے پر تعاون چاہتے ہیں مگر عمل کے میکانزم کو جن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ سیاسی نہیں ہوتی ہیں۔ خلیجی باشندے مصر میں سرمایہ کاری اور معیشت سے متعلق اپنی سرگرمیوں میں اضافہ چاہتے ہیں اور مصری بھی اسی کے طالب ہیں۔ اب جو چیز مشترکہ کارروائیوں کو ناکام بناتی ہے خواہ سرکاری سیکٹر میں یا نجی سیکٹر میں، وہ ہے پرانی بیوروکریسی۔ یہ موقعے کی تاک میں لگے کسی بھی دوسرے دشمن کے مقابلے میں ان لوگوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین بہت بڑے عزائم اور خواہشات موجود ہیں مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ان نظاموں کی بھینٹ چڑھ گئے جو نئی دنیا کے ساتھ چلنا نہیں جانتے۔ اسی طرح بیوروکریسی کے پہرے دار ہیں جو ممکنہ ضخیم ترقی کی منتقلی کے مواقع ہاتھ سے جانے دیتے رہتے ہیں۔

جہاں تک خلیجی ممالک کی بات ہے تو وہ اپنی بڑی مالی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تجارتی شراکت کے ذریعے مصری شریکوں اور خطے میں سب سے بڑی منڈی کے ساتھ ملک کر مصر کے ترقیاتی مسائل کو خصوصیات میں بدل سکتے ہیں۔ آبادی میں اضافے کو مصر اور خطے کے لیے طاقت بنا سکتے ہیں جو اسے عالمی ٹائیگروں کی صف میں لا کھڑا کردے۔ زائد مال اور زائد انسان یہ دونوں چیزیں دلیرانہ سیاسی فیصلوں کا مطالبہ کرتی ہیں تاکہ سست رفتاری پر قابو پایا جاسکے۔

مصری، خلیجی اور عرب تمام کے تمام ہی دیرینہ ناکامی کے بحران سے نکلنا چاہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان دستخط کیے گئے معاہدے، آج سے بہتر مستقبل کے حوالے سے خطے کے عوام کی امیدوں کا مظہر ہیں۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتیں تعمیر و ترقی اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فارغ ہو نہ کہ سیاسی مواقف اور اعداد و شمار جاری کرنے کی حد تک محدود ہوں۔ یہ مقررہ منصوبے خطے میں دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا عملی پروگرام ہیں۔ اسی واسطے ان کی خبر اپوزیشن کے سوا تمام لوگوں کے لیے باعث مسرت تھی۔

اپوزیشن میں سرگرم تمام عناصر کو ایک ہی غم ہے کہ کسی طرح یہ تعاون ناکام بنا دیا جائے تاکہ حکومت کی ناکامی کا ثبوت دیا جاسکے اور اسے تنگ کونے میں محصور کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ سعودی فرماں روا کے دورہ مصر میں جو اکثر معاملات زیربحث آئے وہ ایسے ترقیاتی امور ہیں جو دس کروڑ مصریوں اور سعودیوں کے حال اور مستقبل، ان کی زندگیوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے واسطے اہمیت رکھتے ہیں۔

مصر بڑے امکانات اور مواقع رکھنے والا ملک ہے جو سب ہی کی توجہ کا مستحق ہے۔ اس لیے کہ اس کے کھڑے ہو جانے سے پورا خطہ ایک بڑی علاقائی ریاست کی حیثیت سے کھڑا ہوجائے گا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی حکومت ایران کے کھل جانے کو اچھی خوش خبری قرار دیتی ہے اور ایران کو ایک تابناک ریاست شمار کرتی ہے جب کہ اگر ہم اس کا موازنہ مصر کے ساتھ کریں تو درحقیقت ایرانی نظام بہت پیچھے نظر آئے۔ لہذا ایران کو کامیاب کرانے کے بین الاقوامی منصوبے کے جواب میں ہمیں مصر پر بازی لگانا چاہیے۔ یہ ہی کچھ سعودی، اماراتی اور وہ تمام لوگ کررہے ہیں جو صرف فوجی نہیں بلکہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ *بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے