میں نے ڈیانا مخلد کا العربیہ انگریزی کی ویب سائٹ پر بدھ کو شائع ہونے والا مضمون دلچسپی سے پڑھا ہے۔اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ''پاناما پیپرز'' نےعرب صحافت کی کم زوریوں کو ایک مرتبہ پھراجاگر کیا ہے اور وہ یہ کہ وہ تحقیقاتی مواد پیدا نہیں کررہا ہے۔ میں اس موضوع پر مس مخلد کے نقطہ نظر سے متفق ہوں۔البتہ میں یہ خیال نہیں کرتا کہ عرب صحافت کا مسئلہ صحافی حضرات ہیں بلکہ وہ ہیں جو ان کے انتظامی مینجر ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں بہت سے قابل،محنتی اور ذہین صحافی موجود ہیں۔وہ مستقل طور پر معیاری مواد منظرعام پر لاتے رہتے ہیں۔اور ہاں ایسی بہت سی سرخ لکیریں ہیں جو دنیا کے اس حصے میں (اور باقی دنیا میں بھی) ایک حقیقت ہیں۔ہم کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں کرسکتے،یہ سرخ لکیریں ان کا تعیّن اور حد بندی کرتی ہیں۔تاہم ایسی بہت سی خبریں اور کہانیاں ہیں اور ان کا حکومتوں یا سنسرشپ سے کوئی تعلق نہیں، مگر انھیں چھوا تک نہیں گیا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ سب سے بڑا ایشو وہ غلط فیصلے ہیں جو میڈیا اداروں کے مالکان یا انتظامی عہدے دار کرتے ہیں۔ان کی فیصلے کی غلطی اور بعض اوقات نااہلیت اور کرپشن کی وجہ سے بالعموم بحرانی صورت حال سے عاجلانہ انداز میں نمٹا جاتا ہے اور جیبوں کو گرہ لگا لی جاتی ہے۔اس کے اثرات میڈیا صنعت سے ماورا بھی مرتب ہوتے ہیں۔بہ الفاظ دیگر معیاری مواد کی تیاری کے معاملے کو ''بد انتظامی'' کے پہلو سے بھی دیکھا جانا چاہیے۔

بدقسمتی سے یہ صحافی ہی ہیں جو اس بدانتظامی کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ان کی تن خواہیں کاٹ لی جاتی ہیں اور بعض اوقات ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مفت میں لکھیں یا پھر اپنی تن خواہوں میں بہت زیادہ تاخیر کو برداشت کریں۔

بہت سے لوگوں نے انٹرنیٹ کے روایتی میڈیا یعنی اخبارات اور جرائد پر اثرات کو اس صورت حال کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔تاہم ''پاناما پیپرز'' نے جو چیز ظاہر کی ہے،وہ یہ کہ انٹرنیٹ معیاری صحافت کو تہس نہس نہیں کررہا ہے۔فی الواقع یہ خاص پراجیکٹ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے تفتیشی صحافیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے اور انھیں قریبی رابطے کے ذریعے مل جل کر کام کرنے کا موقع ملا ہے۔

یہ تمام افراد مشترکہ طور پر جغرافیائی اور وقتی قیود سے ماورا ہو کر حالیہ برسوں کے دوران صحافت کا سب سے دلچسپ مواد سامنے لائے ہیں۔افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی روایتی اخبار اس طرح کا مواد سامنے نہیں لا سکا ہے۔

مواد ہی شاہ ہے

اس مواد سے حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ آن لائن جرنلزم مختلف النوع مضامین تک ہی محدود نہیں ہے۔ڈیجیٹل اشاعت کی جدّت ،باہمی اتصال و روابط ،فوری طور پر دستاویزات کو ایک دوسرے سے شیئر کرنے کی صلاحیت اور ورچوئل نیوز روم میں مل کر کام کرنا اب ایک مظہریت بن چکا ہے۔

پاناما پیپرز نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ آپ کو ایوارڈ یافتہ صحافت کرنے کے لیے بڑے دفاتر ،ہیلی کاپٹروں ،گاڑیوں اور بین الاقوامی بیوروز کی ضرورت نہیں ہے۔ درحقیقت اس منصوبے کی کامیابی ایک سبق ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ میڈیا ادارے اپنے صحافیوں کی وجہ سے ناکام نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے اعلیٰ عہدے داروں کی بد انتظامیوں کی وجہ سے ڈوبتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ کہنا ایک بودی دلیل ہوگا کہ نیویارک ٹائمز کے پولٹزر انعام یافتہ صحافی اس وقت معیاری مواد پیدا نہیں کررہے تھے،جب 2008ء میں اس کی مادر کمپنی مالی مسائل سے دوچار تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز قرضوں اور مالیاتی بد انتظامی کی وجہ سے مالی مشکلات سے دوچار ہوا تھا اور قرضوں میں جھکڑا گیا تھا۔مثال کے طور پر انھوں نے نیویارک میں نیو ٹاور میں سرمایہ کاری کی حالانکہ اس وقت اس کے مینجروں کو نئی آن لائن حقیقتوں کو اختیار کرنے اور مواد پر رقوم صرف کرنے کی ضرورت تھی۔اس اخبار کو اپنی بقا کے لالے پڑ گئے تھے مگر عین وقت پر میکسیکو کے ٹائیکون کارلوس سلیم ہیلو پچیس کروڑ ڈالرز کی نقدی کے ساتھ اس کی مدد کو آ گئے تھے۔

مفروضے کے طور پر ایک غیرملکی نیوز چینل کی امریکا میں موجودگی کے حوالے سے بھی یہی دلیل دی جاسکتی ہے۔اس چینل نے اس منصوبے پر کروڑوں ڈالرز لگا دیے ہیں حالانکہ وہ یہی کام آن لائن قارئین اور زائرین کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کرسکتا تھا۔

اب مستقبل کا راستا اچھی معیاری صحافت اور اس کے عاملین پر سرمایہ کاری ہے۔صرف اس طریقے سے ہی ممکنہ طور پر اچھا بہترین مواد پیدا کیا جاسکتا ہے اور پیشہ ور تفتیشی صحافیوں کے پلیٹ فارمز کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔جیسا کہ غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل ڈیانا مخلد ہیں۔

------------------------------------

فیصل جے عباس العربیہ انگلش کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:@FaisalJAbbas

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے