اس بات سے قطع نظر کہ امریکی صدر باراک اوباما کے مشیر اور انتظامیہ کیا سوچتے ہیں، لیکن وہ خود کبھی بھی امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان حقیقی تعاون کے قائل نہیں رہے۔ وہ ہمیشہ سے ہی ایران کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہتے تھے، اسی تصور کے ہمیشہ سے قائل رہے تھے اور جنون کی حد تک اس پر علمدرآمد کی خواہش رکھتے تھے۔

ایران کے ساتھ امریکہ اور پانچ طاقتور مغربی ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کو جو خود اوباما کی قیادت میں پایہ تکمیل تک پہنچا، اوباما نے اپنی تاریخی کامیابی قرار دیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ ان کے دور صدارت میں ہونے والی تمام کامیابیوں میں سرفہرست ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ اوباما کی صدارت کےدوران امریکہ نے کچھ اقتصادی کامیابیاں تو حاصل کی ہیں مگر کوئی سیاسی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ اوباما کا دور حکومت مشرق وسطیٰ میں بد ترین ناکامیوں سےعبارت ہے، اس دوران امریکہ کو دنیا میں تمام اہم اڈوں سے پسپائی اختیار کرنی پڑی اور اس نے میدان خطرناک عالمی دہشت گردوں کے لئے خالی چھوڑ دیے جن میں القاعدہ، داعش، حزب اللہ اور ایران کی پالتو دیگر دہشت گرد تنظیمیں شامل ہیں۔

جریدے 'دی اٹلانٹک' کو دیا گیا صدر اوباما کا حالیہ انٹرویو ان کے سیاسی نظریہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ انٹرویو بڑی صاف گوئی اور بے باکی سے اوباما کی سیاسی سوچ کو عیاں کرتا ہے جس پر وہ پچھلے دو صدارتی ادوار میں عمل درآمد کرتے رہے ہیں اور جس کے باعث آج امریکہ اپنی مقبولیت کی پست ترین سطح تک گر گیا ہے۔ اوباما کی قیادت میں امریکہ، شام کے محاذ پر ناکام ہوا اور عرب دنیا کے انقلابات سمیت تقریباً تمام سیاسی معاملات میں بری طرح ناکام ثابت ہوا۔

'دی اٹلانٹک' سے انٹرویو میں اوباما نے کہا کی خلیج کے خطے کو ایران سے الگ کر کے دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے اشارتاً یہ بھی کہا کہ سعودی عرب ’مفت کی سواری‘ کرنے والے ممالک میں ہے جو بہت ذیادہ شرائط عائد کرتے ہیں۔ سعودی شہزادے ترکی الفیصل نے اوباما کے تبصرے کا جواب دیتے ہوے جو معلومات دی ہیں ان سے اوباما کے دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ترکی الفیصل کہتے ہیں کہ سعودی عرب، اوباما کے مطابق مفت کی سواری کرنے والے ممالک میں قطعاً نہیں ہے کیونکہ اس نے خطے کے بحرانوں کو حل کرنے کے لئے ایک بہت موثر کردار ادا کیا ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام اہم ممالک کا حلیف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاض نے عرب ممالک کے انقلابات کے منفی اثرات کے خاتمے کے لئے بے پناۃ تعاون کیا ہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے اپنے بجٹ سے اربوں ڈالر افغانستان کے غریب اور مستحق افراد پر خرچ کئے ہیں اور دنیا کے کئی خطوں میں جنگ کے شعلے بجھانے کے لئے اپنے وسائل استعمال کیے ہیں۔ ترکی الفیصل نے لکھا ہے کہ ‘ہم نے دہشت گردوں کے خلاف اتحاد کو مزید موثر بنانے کے کئے اپنے فوجی بھی میدان جنگ میں پیش کیے ہیں۔ ہم نے امریکی فوج کو دعوت دینے کے بجائے یمن کے عوام کے لئے اس فوجی، سیاسی اور انسانی تعاون کا آغاز کیا جو ان کو اپنا ملک قاتل حوثی باغیوں سے آزاد کرانے میں مدد دے رہا ہے جو ایرانی قیادت کی حمایت سے یمن پر قابض ہو گئے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ "ہم نے دنیا بھر میں دہشت گردی کی تمام اقسام کا مقابلہ کرنے کے لئے تیس سے زیادہ ممالک کا ایک اتحاد بنایا۔ شام، یمن اورعراق کے مہاجرین کی امداد کرنے والے ہم سب سے بڑے ملک ہیں۔ آپ کے خارجہ اور دفاع کے وزراء نے اکثر برملا دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعاون کی تعریف کی ہے۔ آپ کے محکمہ خزانہ کے افسران نے بھی عوامی سطح پر سعودی عرب کے ان اقدامات کی تعریف کی ہے جن کا مقصد ایسی سرمایہ کاری کو کم کرنا ہے جس کا دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پہنچنے کا امکان ہو۔

اوباما کے نظریہ کا جائزہ

"دی اٹلانٹک" کو دیے اوباما کے انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ کے مبصر ڈینئل ڈریزنر نے "اوباما کے نظریہ پر پانچ خیالات" کے عنوان سے اپنے ادارتی مضمون میں اس انٹرویو کی "حیران کن" باتوں کا احاطہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ "اوباما کی نظر میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کی کوئی وقعت نہیں ہے اور مشرق وسطیٰ کے عرب لیڈروں کی عزت تو اور بھی کم ہے۔ اوباما کے اندر کچھ نہ کچھ ڈونلڈ ٹرمپ چھپا ہوا ہے۔ اوباما کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی اپنی نوعیت میں داخلی ہے۔ امریکہ دنیا بھر میں مانی جانے والی ایک قوت کی حیثیت سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔"

اوباما نے دعوی کیا تھا کہ بشار الاسد کے خلاف حملے کرنے کا فیصلہ انہوں نے واپس لیا تھا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ "امریکی محکمہ خارجہ میں پائے جانے والے سعودی عرب کے دفاع کے سیاسی نظریہ کو ختم کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔" انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ ان کے جنگی بیڑے صرف دیشت گردی کے خاتمے اور اسرائیل کے خلاف کسی ممکنی ایٹمی حملے کے تدارک کے لئے ہی حرکت میں لائے جائیں گے۔

اوباما، امریکہ کے تمام تاریخی تعلقات اور ان کی تمام اقتصادی اور سیاسی جہتوں کی طرف سے پیٹھ موڑ لینا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقت سب نے نوٹ کی تھی کہ کیمپ ڈیوڈ میں امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کے بعد سے تمام خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب نے خود انحصاری کی پالیسی اپنا لی تھی مثلاً جنگیں لڑنے، مخالفین کو خوفزدہ کرنے اور اتحاد بنانے کے لئے اپنے وسائل اور اپنے سفارتی ذرایع استعمال کرنے لگے تھے۔

امریکہ کی حالیہ صورتحال ہمارے حق میں بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ ہم اپنے سیاسی اور سلامتی کے بحرانوں کو خود ہی حل کرتے رہیں گے تاکہ اپنے عوام کی بھلائی اور اپنی سرحدوں کا تحفظ جاری رکھیں۔ سعودی عرب کے دفاع پر مبنی آئزن آور نظریہ سے چمٹے رہنے سے ہم بہت لاپرواہ ہو چکے ہیں۔

"اس خطے سے امریکی واپسی کے واشگاف اعلان اور پھر اس سے انکار" پر دنیا ختم نہیں ہو جاتی بلکہ درحقیقت یہ خلیجی ممالک کے لئے خود انحصاری کے راستے کا نقطہ آغاز ہے جس پر چل کر وہ حقیقی دوستوں اور نیم دلانہ دوستوں میں تمیز کرنا سیکھ لیں گے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے