امریکی انتظامیہ کی مدد سے کو لمبیا کے باغیوں نے 1903میں پانامہ کی آزادی کا اعلان کیا تو امریکہ نے فورََا ہی اس نئی ریاست کو تسلیم کر لیا ۔

پانامہ میں دس میل چوڑی ایک زمینی پٹی بحرالکائل اور بحر اوقیانوس کے درمیان امریکی بحری جہازوں کے محتصر ترین سمندری راستے کی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ اس پر نہر کی تعمیر سے پہلے امریکی ریاستوں نیویارک اور کیلیفورنیا کے درمیان سمندری سفر 12 ہزار میل اور 67 دنوں پر محیط تھا۔ پانامہ نہر کے بننے کے بعد یہ فاصلہ8 ہزار میل رہ گیا۔امریکی فوجیں 1999 تک پانامہ کنال پر تعینات رہی۔اس سے دس سال قبل امریکی فوج نے یلغار کرکے پانامہ کے فوجی حکمران مینول نوری ایگا کو گرفتار کر کے منشیات کے مقدمے میں 17 سال کیلئے قید کر دیا تھا۔ پانامہ کا یہ فوجی حکمران طویل عرصے تک امر یکی سی آئی اے کیلئے کام کرتا رہا اور نکاراگوا میں کانٹرا باغیوں کیلئے امریکی امداد کا ذریعہ بنا رہا۔

پانامہ میں امریکی مفادات اور اثر ورسوخ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پانامہ کی کاروباری آف شور کمپنیوں کی سرگرمیوں اور ان کمپنیوں میں سرمایہ لگانے والی بین الاقوامی شخصیات سے امریکی حکومت اور اس کے خفیہ ادارے بخوبی واقف رہے۔ اگر ان آف شور کمپنیوں میں لگائے گئے خفیہ اور کالے دھن کے بارے میں کوئی واقف نہیں تو صرف بیچارے وہ غریب اور مفلس عوام جن کے خون اور پسینے کی کمائی لوٹ کر انکے حکمرانوں نے ان آف شور کمپنیوں کے کاروبار کو رونق بخشی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکی حکومت اور اسکے خفیہ ادارے تیسری دنیا کے ان بدعنوان حکمرانوں سے متعلق ان معلومات کو کیسے امریکی مفادات کیلئے استعمال کرتے رہے ہو ں گے۔

خود امریکہ میں تو ایسی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری بھی قانونی جرم قرار دی گئی ہے اور شاید اسی لئے پانامہ دستاویزات میں امریکی سیاستدانوں سے متعلق کچھ زیادہ انکشافات دیکھنے کو نہیں ملے۔ تو پھر امریکی سی آئی اے نے بین الاقوامی دہشت گردی اور اس کے پیچھے مالیاتی امور پر اتنی گہری نظر رکھنے کے باوجود ان آف شور کمپنیوں کے معاملات کو کیسے نظر انداز کر دیا ہو گا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 11 ستمبر کے امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعد عراق اور افغانستان کے خلاف تو جنگ کر دی گئی اور دہشت گروں کے مالی معاونت کا ر ممالک اور ادارو ں پر تو معاشی پابندیاں لگائی گئی مگر ایسی مشکوک آف شور کمپنیاں 15سال تک امریکی سی آئی اے کی نظروں سے اوجھل رہی اور ان کے مالیاتی امور خفیہ۔ یہ ممکن نہیں۔

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے کرپٹ سیاست دانوں کے کالے دھن سے متعلق امریکی خفیہ ادارے ہمیشہ سے واقف رہے ہیں اربوں ڈالروں کی اس چھپائی ہوئی دولت کو بچانے کیلئے نجانے ان سیاست دانوں نے اپنے غریب ملک کے مفلس عوام کے مفادات کا کیا کیا سودا کیا ہو گا اور انہیں کس کس کے ہاتھ بیچا ہو گا؟ چاہے ہمارے فوجی حکمران ہو ں یا سیاسی وزراعظم یہ معلوم کرنا انتہائی ضروری ہے کہ آج تک ان حکمرانوں کے اثاثے کیسے بنائے گئے اور یہ ملک کے اندر اور باہر کہاں کہاں ہیں؟

یہ مسئلہ محض نواز شریف یا ان کے بیٹوں اور ایک بیٹی کا نہیں، یہ مسئلہ پاکستان بننے سے لے کر آج تک کا ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ محض جلا وطن کئے گئے ان سیاستدانوں کا بھی نہیں جنہوں نے بیرون ملک میں خیرات مانگنے کی بجائے اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دی اوراس کاروبار کو آئندہ بھی ممکنہ جلا وطنی کے برے وقت کیلئے جاری رکھے ہوے ہیں۔ ان سیاستدانوں اور سیاسی حکمرانوں کے بزدلانہ فیصلوں اور غیر جمہوری قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کو اور کیا سمجھا جائے؟

اب اسے اپنی سیاسی بقا کہیں یا ممکنہ برے وقتوں میں اپنے خاندان کیلئے مالی تحفظ کی انشورنس ان سیاسی خاندانوں و حکمرانوں کے پاس ملکی وسائل کو کنٹرول کرنیوالی اصل قوتوں کا مقابلہ کرنے کا کوئی اور راستہ بھی تو نہیں۔ اگر یہ سیاستدان اپنے سارے وسائل، اثاثے اور جمع پونجی پاکستان میں ہی لے آئیں تو اس سے اچھی کیا بات ہو گی۔ مگر پھر پاکستان کے اندر موجود وسائل اور قومی اثاثوں کے ساتھ جو ہمارے سیاسی اور فوجی حکمران کر رہے ہیں اور کرتے رہے ہیں اس کے بعد ان وسائل کے ملک کے اندر یا باہر ہو نے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ کیا پاکستان میں غیر قانونی اثاثوں کے تمام مالکان اور تمام ٹیکس چوروں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے کہ اب بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کا احتساب شروع کر دیا جائے؟

سچی بات تو یہ ہے کہ پانامہ دستاویزات پر صرف اور صرف سیاست کی جا رہی ہے۔ ہمارے ملک میں چور وہ نہیں جو چوری کرتا ہے بلکہ چور وہ ہے جو پکڑا جاتا ہے اور اس ملک میں پکڑا صرف جیب کترا جاتا ہے اور اس سے بھی مال برآمد کر کے دو لتر مار کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس ملک میں عام لوگ اور سیاستدان احتساب کا سامنا تو کر لیتے ہیں مگر فوجی آمر اور آمرانہ سوچ رکھنے والے فوجی کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ آف شور کمپنیوں میں لوٹا ہوا مال لگانے کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ معلومات اور کاروبار خفیہ رہے گا۔ بد قسمتی سے ایسے مال اور کاروبار کو خفیہ اور بیرون ملک رکھنے کی ضرورت بھی صرف سیاستدانوں کو ہی پڑتی ہے۔ اس ملک کے فوجی حکمرانوں، ان کے اہل خانہ اور طویل مارشل لائوں کے طفیلی جرنیلوں کو تو اپنے اثاثوں اور کاروبار کیلئے کسی آف شور کمپنی کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں کھلم کھلا ایسے فوجی حکمرانوں اور انکے طفیلی ساتھیوں کے اثاثوں کی نمائش جاری ہے مگر ہے کوئی جو ان سے سوال کرے؟

ہم کب تک آف شور کمپنیوں کے ٹرکوں کی بتی کے پیچھے عوام کو لگائے رکھیں گئے جب یہاں پاکستان کے اندر ہی اربوں اور کھربوں روپوں کے اثاثوں کا حساب لینے کی کسی میں جرأت نہیں۔ ہے کوئی حکومت، کوئی وزیر اعظم، کوئی ریٹائرڈ یا حاضر سروس جج، کوئی سیاستدان، کوئی صحافی یا اینکر جو آف شور کمپنیوں کے شور سے نکل کر پاکستان کے اندر کھربوں روپوں کے اثاثوں کے مالکان سے حساب مانگے۔

یہ آف شور کمپنیوں کا شور بنیادی طور پر ملک کے اندر اختیارات اور وسائل پر جاری اس جنگ کا حصہ ہے جو سیاسی حکومتوں اور فوجی اسٹیبلشنمٹ میں جاری ہے۔ بات ملک سے باہر خفیہ یا غیر خفیہ اثاثوں کی نہیں بات عوام کی منتخب نمائندہ حکومتوں کو اس قابل نہ چھوڑنے کی ہے کہ وہ ملکی وسائل پر حقیقی کنٹرول رکھنے والوں سے حساب مانگ سکیں۔ بیرون ملک خفیہ دولت کا حساب ضرور مانگا جائے مگر اپنے عزیز ہم وطنوں کے ملک میں موجود ظاہر شددہ قومی اثاثوں کا حساب دینا بھی ضروری ہے۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت
----------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے