ایران اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے حالیہ سربراہ اجلاس کے حتمی اعلامیے پر ہکا بکا رہ گیا ہے کیونکہ اس میں خطے میں ایران کی مداخلت اور حزب اللہ کی دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی۔ایرانی عہدے داروں نے او آئی سی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ بعض ممالک نے تنظیم کو ہائی جیک کر لیا ہے۔

درایں اثناء ایرانی وزیر خارجہ نے اس اعلامیے کی منظوری دینے والے اسلامی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ صدام حسین اور طارق عزیز کا انجام یاد رکھیں۔ایران حسبِ معمول تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کے ردعمل میں دھمکیوں پر اُتر آیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات نے یہ جملہ دُہرایا ہے:''آپ پچھتاؤ گے''۔

اشتعال انگیز بیانات

 او آئی سی نے ایران کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے ردعمل میں اشتعال انگیز بیانات کو بھی مسترد کردیا ہے۔ایران نے سعودی عرب میں دہشت گردی میں ملوّث مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے ردعمل میں یہ بیانات جاری کیے تھے۔او آئی سی نے ان بیانات کو سعودی عرب کے داخلی امور میں ننگی مداخلت قراردیا ہے اور انھیں اقوام متحدہ کے چارٹر ،او آئی سی کے چارٹر اور تمام بین الاقوامی کنونشنوں کے منافی قرار دیا ہے۔

بیشتر اسلامی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شدید خواہاں ہیں۔سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے عرب اور اسلامی لیڈروں اور صدور سے ملاقاتوں کے ایجنڈے میں تشدد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملیشیاؤں کے خاتمے کا موضوع سرفہرست رہا تھا۔تاہم ایران اس سب کچھ سے اپ سیٹ ہوا ہے کیونکہ عمارتوں ،سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو جلانے والے دہشت گردوں کی مذمت کی جارہی تھی۔

ہمارے سامنے اس وقت دو متوازی منصوبے ہیں اور ان کا آپس میں کبھی کوئی لگاؤ نہیں ہوسکتا۔ان میں ایک سعودی عرب کی قیادت میں ریاست ،اعتدال پسندی اور رواداری کا منصوبہ ہے۔دوسرا ایران کی سربراہی میں تشدد ،دہشت گردی اور ملیشیاؤں کے قیام کا منصوبہ ہے۔اب دنیا کو زندگی اور موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ 

-------------------------------------

 (ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے