سعودی عرب صرف خطہ عرب کا ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کا ایک اہم ترین ملک ہے۔ ایک جانب اگر سعودی مملکت میں حرمین شریفین کی موجودگی کی وجہ سے ساری اسلامی ممالک کو سعودی عرب کے ساتھ خاص اُنس ہے تو دوسری جانب تیل کی بے پناہ دولت کے سبب باقی دنیا بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بنا کر اور استوار رکھنے پر مجبور ہے۔ عرب دنیا میں کیے جانے والے فیصلوں میں بھی سعودی عرب کو ہمیشہ سے اہم مقام حاصل رہا ہے۔ خود مغربی دنیا خطے میں امن کیلئے سعودی عرب کے کردار پر تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتی، لیکن ایک امریکہ ہے کہ جو دوستوں کی پیٹھ پیچھے وار کرنے اور عین ضرورت کے وقت دغا دینے میں پہلے ہی کافی مشہور تھا لیکن سعودی عرب کے معاملے میں ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی اپنے مفادات کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

مشرق وسطی میں امریکہ کی ہمہ وقت بدلتی ہوئی پالیسیوں پر سعودی عرب کی نظریں شروع سے ہی لگی ہیں، لیکن پہلے نائن الیون کے واقعہ اور پھر عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری اور پھانسی کے بعد خطے میں امریکی پالیسیوں میں تلون کچھ زیادہ ہی در آیا ہے۔ امریکہ نے عربوں سے ہٹ کر خطے میں اپنے نئے اتحادیوں کی تلاش تو بہت پہلے ہی شروع کردی تھی لیکن سعودی عرب کو ساری صورتحال اُس وقت زیادہ کھٹکی جب 2011ء میں تیونس سے نام نہاد ”عرب بہار“ کا آغاز ہوا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دہائیوں سے قائم کئی شخصی حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا۔ یہ ”عرب بہار“ زیادہ تر اُن ممالک کو متاثر کر رہی تھی جہاں سعودی عرب کے عقائد اور فلسفے کے قریب قریب سمجھے جانے والے لوگوں کی حکومتیں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اِس عرب بہار سے اسرائیل کی یہودی حکومت کو کوئی فرق پہنچا نہ ہی لبنان اور شام کی حکومتوں کو کوئی حقیقی خطرہ محسوس ہوا۔

عرب ممالک چاہتے تھے کہ جہاں خطے میں صدام حسین، حسنی مبارک، زین العابدین، معمر قذافی اور دیگر افراد کو حکومتوں سے ہاتھ دھونا پڑا، وہیں شام کی اسد حکومت کا بھی خاتمہ ہو جاتا، لیکن اِس مقصد کیلئے عربوں کے دیرینہ اتحادی امریکہ نے اُس سنجیدگی کے عشر عشیر کا بھی مظاہرہ نہ کیا، بلکہ اُس کے برعکس عرب ممالک کے سرخیل سعودی عرب کو یمن کی سرحدوں پر حوثی ”باغیوں“ کی دہشتگردی کا سامنا بھی کرنا پڑ گیا۔ بجائے اس کے کہ امریکہ سعودی عرب کی مدد کرتا، اوبامہ انتظامیہ نے سعودی عرب پر شدید تنقید شروع کردی کہ ”سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ہوتے ہوئے مشرق وسطی میں تنازعات کو ہوا دے رہا ہے، سعودی عرب امریکی خارجہ پالیسی سے مفت میں فائدے اٹھاتا رہا ہے“۔

باراک اوبامہ نے ایران کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے انکار کرنے پر اور مذہبی عدم برداشت بڑھانے کا الزام لگا کر بھی سعودی عرب پر تنقید کے خوب نشتر چلائے۔ باراک اوبامہ کی اس تنقید نے مشرق وسطیٰ کی مسلسل سلگتی ہوئی صورتحال پر تیل کا کام کیا اور سعودی عرب نے بھی امریکہ کو ترکی بہ ترکی جواب دینا شروع کر دیا۔ سعودی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے واضح کیا کہ ”امریکہ ہم پر شام، یمن اور عراق میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کا الزام لگا رہا ہے، حالانکہ خود امریکہ نے ہم سے اُس ایران کے ساتھ اپنی دنیا بانٹنے کے لیے کہہ کر ہمارے زخم تازہ کر دیے ہیں، جسے خود امریکی دہشت گردی کا حامی ملک کہتے ہیں“۔

پرنس ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ”کیا امریکہ اپنی 80 سالہ دوستی کو چھوڑ کر ایسی ایرانی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے جو ہمیشہ سے امریکہ کو سب سے بڑا دشمن کہتی آئی ہے اور مسلم اور عرب دنیا میں فرقہ وارانہ ملیشیاوں کی مسلسل مالی مدد کے ساتھ ساتھ انھیں اسلحہ فراہم کرتی رہی ہے“۔ پرنس ترکی الفیصل نے جب یہ واضح کیا کہ ”نہیں مسٹر اوبامہ! ہم مفت میں فائدہ اٹھانے والے نہیں ہیں“۔

تو اس پر امریکہ میں بحث چھڑ گئی کہ سعودی عرب نے مفت فائدہ اٹھایا تو کیسے اٹھایا اور اگر بقول سعودی شہزادے اس کی ”قیمت“ ادا کی تو کیا قیمت ادا کی؟ اس قیمت کا پتہ اُس وقت چلا جب یہ انکشاف ہوا کہ اِس وقت امریکہ میں سعودی عرب کے 750 ارب ڈالر امریکی خزانے کی سکیوریٹیز کی شکل میں موجود ہیں۔ جس کے بعد صورتحال اچانک اتنی بدل گئی کہ امریکی سینیٹرز اور ایوان نمائندگان نے ایک ایسے بل کی تیاری شروع کردی، جس کے تحت کوئی امریکی عدالت سعودی عرب کو نائن الیون کے حملوں کا ذمہ دار قرار دے کر اُس کے امریکہ میں اثاثے منجمد کر سکے گی۔ اس بل کے خد وخال سامنے آنے پر سعودی عرب نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر امریکی انتظامیہ نے کوئی ایسا قانون یا بل منظور کیا تو سعودی عرب امریکہ میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے فوری فروخت کر دے گا یا امریکہ سے نکال لے گا۔

سعودی عرب کی اِس دھمکی کے بعد سے اب امریکہ کے ہاتھ پاوں پھولے ہوئے ہیں اور اوباما انتظامیہ کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان کو قائل کرنے میں مصروف ہے کہ وہ کانگریس میں اس قسم کے بل کو روکنے کی کوشش کریں۔ یہ صورتحال اگرچہ سعودی معیشت کیلئے بھی کوئی سود مند نہیں ہوگ ی، لیکن امریکہ کے مسلسل بدلتے پینتروں کے بعد سعودی حکومت کا موقف اس سے کہیں زیادہ سخت ہو سکتا ہے، جو اُس نے 2013ء میں سلامتی کونسل کی عارضی رکنیت کو ٹھکرا کر دکھایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صورتحال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے صدر باراک اوبامہ بدھ کو سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ رہے ہیں جہاں سعودی عرب کے خدشات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

قارئین کرام!! امریکی کمیشن کی جانب سے نائن الیون حملوں میں سعودی عرب کو کلیئر قرار دینے کے باوجود قانون سازی کے ذریعے سعودی عرب کو نائن الیون حملوں میں پھنسانے اور امریکی خزانے میں سکیورٹیز کی شکل میں پڑے سعودی عرب کے 750 ارب ڈالر ہڑپ کرنے کیلئے امریکی چالیں ہی کچھ کم نہ تھیں کہ پانامہ پیپرز میں سعودی حکمرانوں کے نام آنے سے صورتحال مزید پیچیدہ اور دشوار ہو گئی ہے۔

سعودی حکام سمجھتے ہیں کہ پانامہ پیپرز کوبلیک میل کرنے کے حربے کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ 80 سالہ دوستی کو ایک طرف رکھ کر اپنی اصلیت ظاہر کرنے پر تلا ہوا ہے اور سعودی عرب کسی واضح ”فیصلے“ کے موڈ میں دکھائی دیتا ہے، تو پانامہ پیپرز کے انکشافات نے ایک ایسا پنڈورا باکس کھول دیا ہے، جو شاید اب کھولنے والوں کیلئے بھی سمیٹنا اتنا آسان نہ ہوگا۔ اس لیے یہ وجہ بھی جلد سامنے آجائے گی کہ پانامہ پیپرز کیوں لیک ہوئے؟ کس نے لیک کیے؟ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
-------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے