کیا کسی عرب دنیا کا وجود ہے ؟ یہ وہ سوال تھا جو ایک امریکی کالج کے پروفیسر نے داغا۔ہم لوگ مصر کے ایک ساحلی سیاحتی مقام پر ایک میز کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔میرے ذہن میں تاریخ کی وہ تمام کتب یکے بعد دیگرے آئیں جو میں نے پڑھ رکھی تھیں۔جن واقعات کا میں نے مشاہدہ کیا اور مشرق وسطیٰ میں جس گومگو کی صورت حال سے ہم دوچار ہیں،یہ سب کچھ ذہن میں ایک فلم کی طرح چلنا شروع ہو گیا۔

ایک سو سال قبل سلطنت عثمانیہ سے سائکس پیکو معاہدے،1950 اور 1960ء کے عشروں میں عرب قومیت ،پان عرب دنیا کے وجود کی تمنا کی بازگشت وغیرہ سب کچھ یک لخت ذہن میں تازہ ہوگیا مگر خواہش اور اس کی تکمیل میں بہت بڑی خلیج حائل تھی۔1945ء میں جب عرب لیگ معرض وجود میں آئی تو امید کی کرنیں مزید روشن ہوگئی تھیں۔

تاہم بالکل آغاز ہی میں بڑے بڑے واقعات کے رونما ہونے اور سیاسی اتھل پتھل کے باوجود کوئی بھی اجتماعی اقدام نہیں کیا جاسکا تھا۔یک طرفہ فیصلے کے تحت اسرائیل کا قیام ،لاکھوں فلسطینی مہاجرین کی دربدری، نئی نئی قائم شدہ عرب ریاستوں میں حکومتوں کے خلاف بغاوتیں اور خونیں انقلابات اور ان عرب ریاستوں کی بے جوڑ سرحدی حد بندی دراصل ایسے مسائل تھے جن کا خمیازہ آج ہم علاقائی طوائف الملوکی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

غیر یقینی صورت حال کے تسلسل ،نظریات کے تجربات ،فہم و تدبر کے فقدان اور لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ملکوں میں افراتفری پیدا ہوئی۔بعض عرب لیڈروں کی مہم جوئی ،ایران ،عراق جنگ ،کویت پر چڑھائی اور طاقتوروں کے جبرو استبداد نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ان سب واقعات سے عربوں کے مسائل میں اضافہ ہوا حالانکہ وہ بھی دنیا کسی بھی دوسرے خطے کے لوگوں کی طرح وقار ،خوش حالی اور امن کے ساتھ جینا چاہتے تھے اور ہیں۔

لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی تھی۔آمروں نے کوئی سول ادارے قائم نہیں کیے تھے۔بہت سی عرب سرزمینوں میں لوگ کانا پھوسی کے سے انداز میں زواراللیل یا رات کو چکر لگانے یا دہشت زدہ کرنے والی مباحث یا خفیہ پولیس کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔

بین العرب تعلقات

 

عرب دنیا کے مصائب ومسائل بین العرب تعلقات کی نوعیت کی وجہ سے بھی پیچیدہ تر ہوئے ہیں کیونکہ عربوں کے باہمی تعلقات عرب لیڈروں کے درمیان ذاتی تعلقات پر مبنی رہے ہیں۔

عرب لیڈر اگر گرتے ہیں تو ان کے ممالک کے قومیت پسندوں کا غم وغصہ دوچند ہوجاتا ہے۔پھر تو پوری آبادی تنقید کی زد میں آجاتی ہےاور متعلقہ ممالک کی پروپیگنڈا مشینیں اپنا اپنا کام دکھانا شروع کردیتی ہیں۔

ایسی صورت حال میں ایک وفادار اور مجہول میڈیا گالیوں کا تبادلہ کرے گا۔یہ تقسیم درتقسیم کا عمل عراق پر 2003ء میں تباہ کن حملے تک جاری رہا تھا۔اس ملک کو جان بوجھ کر تار تار کردیا گیا۔پھر لیبیا پر حملہ ہوا،شامی تنازعے نے جنم لیا اور عرب بہار کی بد انتظامی ہم نے ملاحظہ کی۔

اب پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا اب تک کوئی عرب دنیا موجود ہے؟ ہم زیادہ دیر تک خوش امیدی سے جی نہیں بہلا سکتے۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک مسلسل تعاون کو جاری رکھنے اور اتحاد کی ایک مثال ہیں جبکہ انھوں نے اپنی اپنی قومی شناختوں کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔اس تنظیم نے خلیج کے خطے میں معاملات کو درست رکھا ہوا ہے۔مغرب میں واقع دوسری عرب ریاستیں اور بحرمتوسط کے ساتھ واقع عرب ممالک اس مثال کی پیروی کرکے کچھ بہتر اقدام کرسکتے ہیں۔

اور یہی کچھ تو عرب عوام چاہتے ہیں کہ اپنے گھر کو سیدھا رکھا جائے۔

----------------------------------------

(کہنہ مشق ،تجربے کار صحافی اور تجزیہ کار خالد المعینا روزنامہ ''سعودی گزٹ'' کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان کے نقطۂ نظر سے العربیہ نیوز/ العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے