یہ ایک حیران کن امر ہے کہ دو سال میں کتنا کچھ تبدیل ہوسکتا ہے۔یہ اس سے بھی زیادہ حیران کن امر ہے کہ جب ہم ایک ایسے ملک کے بارے میں بات کرتے ہیں جہاں تاریخی طور پر تبدیلی کا عمل سست رفتار رہا ہے اور یہ سعودی عرب ہے جس کے ساتھ ہمیشہ سے یہ معاملہ رہا ہے مگر امریکی صدر براک اوباما جب اسی ہفتے الریاض اتریں گے تو وہ ایک بدلا ہوا سعودی عرب دیکھیں گے۔

مارچ 2014ء میں امریکی صدر براک اوباما نے سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔تب سعودی شاہ کی طبیعت ناساز تھی،ان کی صحت بگڑ چکی تھی اور اس وقت اسی بات کا سعودی عرب اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات پر اطلاق کیا جاسکتا تھا۔

اس وقت امریکا نے مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون (اب اس کو سعودی عرب اور بیشتر خلیجی عرب ریاستوں نے دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے) کی حمایت پر اصرار کیا تھا اور اسی بات نے دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات میں زہر گھولا تھا۔امریکا خاص طور پر شام میں جاری بحران کے حل کے لیے کوئی بہتر اقدام اور معاملہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔صدر براک اوباما نے بشارالاسد کی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سزا دینے سے متعلق اپنے سابقہ اعلان پر یوٹرن لے لیا تھا۔

امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ سلسلہ جنبانی شروع کرچکی تھی اور یہ چند ماہ کے بعد ایک متنازعہ جوہری معاہدے پر منتج ہوا تھا۔اس معاہدے نے تہران میں موجود رجیم کو گذشتہ تیس سال میں پہلی مرتبہ آزاد کردیا تھا حالانکہ براک اوباما بہ ذات خود اس کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قراردے چکے تھے۔

مزید برآں سعودی عرب میں جانشینی سے متعلق بھی سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے تھے اور خلیجی ممالک کی ریاست قطر کے ساتھ شدید کشیدگی پائی جارہی تھی جبکہ خطے میں سنہ 2011ء سے عرب بہار کے نام سے اتھل پتھل جاری تھی اور اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا تھا۔یمن میں تب تک وسائل کھا جانے والی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت ایک سو ڈالرز فی بیرل کے لگ بھگ تھی۔سعودی عرب اقتصادی لحاظ سے شاندار پوزیشن میں تھا۔

شاہ عبداللہ کی وفات اور شاہ سلمان کے تخت پر فائز ہونے کے بعد سے بہت کچھ رونما ہوچکا ہے۔شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد سے تیل کی قیمتیں گھٹ کر نصف سے بھی کم رہ گئی ہیں۔یمن میں حوثی ملیشیا نے قانونی صدر عبد ربہ منصور ہادی کو صنعا سے چلتا کیا تھا اور وہاں اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔انھوں نے سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں کو بھی ڈرانا دھمکانا شروع کردیا تھا۔اس کے بعد یمن میں جنگ چھڑ گئی اور وہ آج بھی جاری ہے۔

اس دوران داعش سے درپیش خطرہ دوچند ہوگیا تھا۔اس دہشت گرد گروپ نے متعدد مرتبہ سعودی عرب میں حملے کیے ہیں،اس کے باوجود بہت سے ناقدین مضحکہ خیز انداز میں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ الریاض خفیہ طور پر اس گروپ کی حمایت کرتا چلا آ رہا ہے جس کا وہ استیصال کرنا چاہتا ہے۔مزید برآں صدر اوباما کی توقع کے برعکس ایران نے جوہری معاہدے کے بعد خطے میں اپنے تخریبی کردار کو تبدیل کیا ہے اور نہ کوئی ایسا اشارہ دیا ہے۔

ان تمام چیلنجز سے پیدا شدہ صورت حال کے نتیجے ،متعدد غلط فیصلوں اور مناسب بیرونی ابلاغ نہ ہونے کی وجہ سے عالمی میڈیا کی کوریج میں الریاض کی منفی تصویر پیش کی گئی اور اس میں نہ صرف مملکت کو ہدف تنقید بنایا گیا بلکہ ملک کی بقا کے حوالے سے ہی شکوک کا اظہار کیا گیا۔

تاہم سعودی عرب اس طوفان کے سامنے نہ صرف کھڑا رہا ہے بلکہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر سامنے آیا ہے۔یہ سب اس وجہ سے بھی ہوا ہے جس یاسیت اور ناامیدی کو پھیلایا گیا،وہ خود ساختہ اور قیاس آرائی پر مبنی تھی لیکن اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سب کچھ ناقابل یقین قوت مدافعت کا بھی نتیجہ ہے اور سعودی پالیسی سازوں کی نئی نسل خاص طور پر نائب ولی عہد محمد بن سلمان اس کا اظہار کررہے ہیں۔وہ ملک کے وزیر دفاع اور اقتصادی اور ترقیاتی امور کی کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔

دراصل شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جنوری 2015ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جو سب سے اہم کام کیا ہے اور جس کے سعودی مملکت میں شاندار اثرات مرتب ہوئے ہیں،وہ ان کا جانشینی کے مسئلے کو حل کرنے اور نوجوانوں کو ہمیشہ کے لیے بااختیار بنانے کا عزم تھا۔

اس کا نتیجہ ؟ صدر براک اوباما جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں اب ایسے وقت میں شرکت کے لیے الریاض آرہے ہیں ،جب باہمی چپقلشوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ان کا میزبان شہر اب تیس سے زیادہ ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کا بھی صدر دفتر ہے۔یہ ممالک دہشت گردی کے خاتمے،اس کے لیے مالی رقوم کی ترسیل کو روکنے اور انسداد دہشت گردی کے ایک جوابی نظریاتی بیانیہ پیش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے فعال انداز میں تعاون کررہے ہیں۔

چند روز قبل ہی سعودی عرب کی کابینہ نے محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (المعروف مذہبی پولیس) کے لیے نئے قواعد وضوابط جاری کیے ہیں جس کے تحت اس کو لوگوں کا پیچھا کرنے اور انھیں گرفتار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔سعودی عرب کے اندر اور باہر اس فیصلے کی تحسین کی جارہی ہے حتیٰ کہ سعودی مملکت کی ناقد انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس فیصلے کو سراہا ہے۔

مزید برآں سعودی عرب میں پہلی مرتبہ گذشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران خواتین کو پہلے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے اور پھر بطور امیدوار حصہ لینے کا حق دیا گیا ہے۔سعودی شوریٰ کونسل خواتین کی ڈرائیونگ پر عاید متنازعہ پابندی کو ختم کرنے پر غور کررہی ہے۔سعودی مارکیٹس اب غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے کھلی ہیں اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد نے حال ہی میں اکنامسٹ کے ساتھ انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ''شاہی زیور سعودی آرامکو'' میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

تاہم افسوس ناک بات یہ ہے کہ الریاض کی ہمیشہ منفی اور مایوس کن تصویر پیش کی جاتی رہی ہے۔گویا اگر وہ کرے تو پھر بھی مایوس کن اور اگر نہ کرے تو پھر بھی مایوس کن صورت حال کا مظہر قرار دیا جاتا ہے۔اب مذکورہ کامیابیوں کے بارے میں بعض حالیہ رپورٹس کا مضحکہ ہی اڑایا جاسکتا ہے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ صدر اوباما کے دورے سے قبل دراصل قومی سطح پر ''چہرے کو بہتر'' بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے مسٹر براک اوباما کا بطور صدر امریکا سعودی عرب کا یہ آخری سرکاری دورہ ہے۔اب وائٹ ہاؤس میں ان کے قیام کا عرصہ بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔اس لیے امریکا کی پالیسی یا رویے میں کسی بڑی جوہری تبدیلی کی توقع کرنا ویسے ہی عبث ہے۔موجودہ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں ہوسکتا ہے کہ اونچ نیچ آئی ہو لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ جب امریکا اور الریاض کے درمیان تعلقات آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اتحاد جاری وساری رہے گا کہ یہ باہمی مفادات ،احترام اور خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ 25 اپریل کو جب سعودی حکومت اپنے مستقبل کے ویژن کا اعلان کرے گی تو واضح طور پر سامنے آجائے گا۔اصلاحات کی گئی ہیں اور ہمیشہ کی جاتی رہیں گی تاکہ ملک کے شہریوں اور مکینوں کی پائیدار خوش حالی اور بھلائی کو یقنی بنایا جا سکے۔

درحقیقت کوئی بھی تیل پر انحصار کے منصوبے کو ختم کرنے ،معیشت کو متنوع بنانے اور نوجوانوں کی بالادستی کی حامل قوم کے لیے ایک طویل المیعاد منصوبے کو محض تعلقات عامہ کی حکمت عملی کے طور پر وضع نہیں کرتا ہے۔نہ یہ پالیسیاں اس حقیقت سے انکار کرسکتی ہیں کہ ابھی خواتین کے حقوق ،عدالتی اصلاحات ،میڈیا اور مزدوروں سے متعلق امور کے بارے میں بہت کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سچ یہ ہے کہ سعودی عرب تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور جو کوئی بھی امریکا کا اگلا صدر بنے گا،اس کو یقینی طور پر ایک نوجوان ،فعال اور بیرون پر نظر رکھنے والی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔یہ حکومت کامیابی اور حقیقی معنوں میں ایک مرتبہ پھر خطے کی قیادت کے لیے پُرعزم ہے۔
----------------------------------------
(فیصل جے عباس العربیہ انگریزی کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے