شام کی پانچ سالہ جنگ میں محصورین کی راحت رسانی کے لیے 27 فروری کو جو جزوی جنگ بندی کی گئی تھی اس کے ساتھ ہی بشار الاسد جنتا اور ’’اعتدال پسند‘‘ حزب اختلاف میں سلامتی کونسل کے مندوب مستارا کے توسط سے مذاکرات شروع ہوئے تاہم روس نے اپنی فضائی بمباری جاری رکھی اور شام کے مردہ عجائب گھر والے شہر بالمریا [تدمر] کو داعش جنگجوؤں سے آزاد کرا لیا۔ اس محاذ کو سر کرنے کے لیے روس نے شہری بستیوں پر چالیس طاقتور بم گرائے تھے جن کے باعث اس علاقہ میں جو تباہ کاری ہوئی وہ اس سے کہیں زیادہ تھی جو اس پر اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے داعش جنگجوؤں نے کی تھی۔ اگر بین الاقوامی میڈیا بالمریا میں روس کی تباہ کن بمباری کی فلم کی نمائش کرے تو عالمی رائے عامہ پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ روس کی بمباری سے مقامی آبادی کا زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے یا داعش جنگجوؤں کی رائفلوں اور توپوں کا۔

بشار الاسد کی تنہائی اور کمزوری کا اس سے زیادہ مظاہرہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ باغیوں کے مقابلے میں جن علاقوں کو کھو چکا ہے اسے ایرانیوں، روسیوں، امریکیوں، فرانسیسیوں، انگریزوں اور ان کے نیٹو حواریوں نے اندھا دھند بمباری کرا کر ’’بازیاب‘‘ کرایا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے بھی اس محاذ پر باغیوں پر تابڑ توڑ فضائی حملے کیے ہیں۔ ذرا اس تناظر میں قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ جب روس اور نیٹو دونوں کی بالمریا اور دیگر علاقوں کو باغیوں سے چھین کر بشار الاسد کے حوالے کر رہے ہیں تو کیا مذاکرات امن میں اس درندہ صفت آمر کی پوزیشن مضبوط نہیں ہو جائے گی؟ کیا یہ صورت حال ترکی، سعودی عرب، امارات اور اردن کو قابل قبول ہو گی؟

جب نیٹو کی فضائیہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں پر آتش وآہن کی موسلا دھار بارش کرتی ہے تو کیا صرف جنگجو ہی ہلاک ہوتے ہوں گے اور جنگ زدہ علاقے کے مکین زندہ اور سلامت رہے ہوں گے؟ پھر اگر ان حملوں سے متاثرہ افراد اور ان کے متعلقین انتقاماً حملہ آوروں کے مراکز پر بم دھماکے کرتے ہیں تو اس پر میڈیا میں صف ماتم کیوں بچھ جاتی ہے؟ کون نہیں جانتا کہ برسلز صلیبی صہیونی ٹولے کا عسکری مرکز ہے؟ لہٰذا متحاربین کے لیے یہ نمایاں ہدف ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک فریق کو اپنے حریف کی بستیوں کو تاخت و تاراج کرنے کا حق ہے لیکن دوسرے کو اس کے خلاف دفاعی یا جوابی کارروائی کا حق نہیں ہے۔ اہل یورپ فرانس کے سابق وزیراعظم Dominiqe De la Villapin کا یہ انتباہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر تم شام کی جنگ میں ملوث ہو کر باغیوں پر حملہ کرو گے تو انہیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ اس لیے خیریت اسی میں ہے کہ باغیوں پر حملے سے باز آجاؤ مگر جہاں نقارۂ جنگ بج رہا ہو وہاں طوطی کی آواز کون سنتا ہے!

ہاں میں کہہ رہا تھا کہ جزوی جنگ بندی کر کے مذاکرات کا جو ناٹک رچایا گیا ہے اس میں بشار الاسد کی پوزیشن اتنی مضبوط کر دی گئی ہے کہ وہ اقتدار سے ہر گز دستبردار نہیں ہو گا چنانچہ اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ عبوری حکومت کے قیام کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا البتہ وہ مخلوط حکومت میں حزب اختلاف کی شمولیت پر غور کر سکتا ہے۔ (اسلام ہفتہ 2 اپریل 2016ء)

باالفاظ دیگر شام کے مجرم آمر بشار الاسد نے (1) شہریوں پر کیمیائی بم گرایا۔ (2) بستیوں پر بیرل بم گرا رہا گیا۔ (3) روس سے باغیوں کے زیر اقتدار علاقے پر بے تحاشا بمباری کرا رہا ہے۔ (4) نیٹو کو بلیک میل کر کے اس سے باغیوں کا قلع قمع کرا رہا ہے۔ (5) متحاربین جبۃ النصرہ، احرار الشام جنہیں اسلام کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں مصالحت کے محل سے خارج کرا دیا ہے اور بے ضرر، کمزور غیر عسکری یعنی ’’اعتدال پسند‘‘ عناصر کو مذاکرات میں شامل کرا کر ان پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔

اس چلمن میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کا کردار منافقانہ ہے۔ کہنے کو تو وہ برابر کہتے جا رہے ہیں کہ مجوزہ عبوری حکومت میں بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا کیونکہ وہ قانون انسانیت کا مجرم ہونے کی حیثیت سے حق حکمرانی کھو چکا ہے لیکن اس بارے میں اٹل مؤقف اختیار کرنے سے کتراتے ہیں۔

اگر وہ مذاکرات میں قانون انسانیت کے مجرم کو شرکت کی اجازت دیتے ہیں تو جبہہ النصرہ، احرار الشام اور داعش (جو اصل فریق ہے) کو مذاکرات میں کیوں نہیں شامل کرتے؟

اگر بین الاقوامی برادری داعش، جبۃ النصرہ، احرار الشام کو ’’دہشت گرد‘‘ ہونے کی وجہ سے جنگ بندی اور مذاکرات امن میں نہیں شامل کرتی تو ان سے بڑے مجرم بشار الاسد کو کیوں شامل کرتی ہے؟ کیا یہ شرمناک اور منافقانہ عمل نہیں ہے؟ یعنی بڑا مجرم قابل قبول لیکن چھو نامجرم قابل تعزیر۔ یہ کیسا قانون، کیسا انصاف اور کیسی روایت ہے؟

روس، برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی کو شام کے بحران میں مداخلت کا حق ہے لیکن اس کے (شام) ہمسایہ ممالک ترکی، اردن، سعودی عرب، خلیجی ریاست ، امارات جو اس جنگ سے براہ راست متاثر ہیں، انہیں دور رکھا جا رہا ہے۔ یہ نو آبادیاتی دور کی سیاست ہے جو بدقسمتی سے آج بھی کمزور ممالک پر مسلط کی جا رہی ہے۔

ٹھیک ہے برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہمنڈ نے بشار الاسد کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ عبوری حکومت کی بجائے بشار الاسد کی کابینہ میں اعتدال پسند ارکان حزب اختلاف کو شامل کر لیا جائے۔ (اسلام 2 اپریل 2014ء) یعنی سلامتی کونسل کی رائے بجا لیکن پرنالہ وہیں گرے گا۔

اگر سلامتی کونسل یا امریکہ، جنیوا مذاکرات میں حقیقی متحاربین کی شمولیت پر اصرار کرتا اور روس اس کی مخالفت کرتا تو امریکہ کو یہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ ٹھیک ہے پھر بشار الاسد اور جنگجوؤں دونوں کو مصالحتی عمل سے خارج کر دیا جائے تاکہ حکومت شام اور حزب اختلاف کے معتدل عناصر مل بیٹھ کر اس بحران کا حل تلاش کریں۔

اس وقت تو گیند بشار الاسد کے صحن میں ہے اور اسے ہی کھلاڑی سمجھا جا رہا ہے جبکہ وہ اور داعش مقابلے (Match) سے سزاءً خارجہ کر دیئے جانا چاہئیں۔

یوں بھی شام کو خانہ جنگی میں دو لاکھ ستر ہزار افراد کی ہلاکت اور نصف آبادی کی تباہی کا سامنا ہے ان کا گھر بار چھوڑنا یا ترک مکانی پر مجبور ہو جانا ہی بشار الاسد کی برطرفی کا سب سے بڑا جواز ہے۔

اگر شام کی خانہ جنگی میں ایک فریق کی جانب سے روس اور ایران کو مداخلت کا حق حاصل ہے تو باغیوں کی جانب سے ترک، اردن، سعودی عرب اور خلیجی امارات کو مداخلت کا حق کیوں نہیں ہے؟

اگر عراق میں عجم یعنی ایران کے پاسداران انقلاب اور ایران کے جنرل مداخلت کر سکتے ہیں تو عرب ممالک کا برادر عراق میں مداخلت کا زیادہ حق بنتا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 52 کے تحت علاقائی تنظیموں کو علاقائی تصادم فرو کرنے کا اختیار حاصل ہے چنانچہ یہ عرب لیگ شام کی خانہ جنگی ختم کرانے کے لیے سیاسی ، سفارتی حتیٰ کہ فوجی کارروائی کرنے کی بھی مجاز تھی۔ یہ اس تنظیم کی کوتاہی یا غفلت تھی کہ اس نے شام میں خانہ جنگی کی آگ کو سلگنے دیا اور اسے ٹھنڈا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس (عرب لیگ) کی بے عملی کے باعث اس میں استعماری طاقتیں ملوث ہو گئیں اور یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کے لیے کیا کم؟ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟ کے مصداق خرابی بسیار تو شام کا مقدر ہونا ہی تھا۔

اب بھی وقت ہاتھ سے گیا نہیں ہے۔ اگر عرب لیگ اس وقت فعال کردار ادا کرتے ہوئے غیر علاقائی طاقتوں کو اس خطے میں مداخلت سے روکے اور شام کی خانہ جنگی کے فوری خاتمے کے لیے مؤثر اقدام کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ 21 رکنی تنظیم بحران پر قابو نہ پا سکے۔ اگر سعودی عرب کی بجائے عرب لیگ اپنی رکن ریاستوں کے فوجی دستوں پر مشتمل امن فوج تشکیل دے دیتی تو عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے منشور کی رو سے شام میں قیام امن کے لیے اس کی مداخلت کا جواز بنتا۔ بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
---------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے