ایک عام آدمی کی مدد کے لیے وضع کیے جانے والے یورپی قوانین میں بھی سقم موجود ہیں،ان سے وہ جرائم پیشہ افراد ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں،جو اپنے اپنے ملکوں کو مطلوب ہوتے ہیں اور جو قتل وغارت کرنا چاہتے ہیں۔تاہم یہ قوانین ایسے نہیں رہیں گے جیسے کہ یہ اب دکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر فرانس کے ہنگامی حالت کے قانون کے تحت دوسرے ممالک اور خاص طور پر برطانیہ سے بھی بہت جلد مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں۔پیرس میں نومبر 2015ء کے حملوں اور برسلز میں مارچ 2016ء میں حملوں کے بعد یورپ میں احساس تحفظ بیدار ہوا ہے۔

بعض یورپی تنظیموں نے عرب اور خلیجی ممالک کا مضحکہ اڑایا ہے اور یہ الزام عاید کیا ہے کہ ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل اظہار رائے کی آزادی کے خلاف جنگ ہے۔

یہ تو بعد میں پتا چلا کہ مساجد میں متعدد بمباروں نے ''مصیب زدگان کی مدد کیجیے'' ایسے نعروں اور مہموں کے تحت راستہ نکالا تھا۔وہ ٹویٹر کے اشتعال انگیز ہیش ٹیگز کے پردے میں آگے بڑھے تھے۔

یورپ اب شہریت منسوخ کرنے کی باتیں کررہا ہے اور بے دخلی کے لیے اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔بالآخر اس کو خطرے کا ادراک ہوگیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ہم نے نفرت پھیلانے والے قریباً اسّی مبلغین کو بے دخل کیا ہے اور ہم فرانسیسی نوجوانوں کے انتہا پسندانہ نظریے کو قبول کرنے اور عراق اور شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہونے کی مظہریت کا مقابلہ کریں گے''۔ واضح رہے کہ قریباً چھے سو فرانسیسی شہری داعش کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔

یورپ میں آزاد ماحول سے برے آدمیوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔اگر وہ اپنی سکیورٹی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اس پر وہ دوسری اقوام کو مورد الزام تو نہ ٹھہرائیں۔ ایک وقت آئے گا یورپ بلند آہنگ انداز میں یہ کہہ رہا ہو گا:''یہاں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے''۔

-------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے