ہر دھویں یا بادل کی چاندی ایسی رنگت کی لکیریں ہوتی ہیں۔خلیجی ممالک کے فیصلہ ساز،جو برسوں سے تیل سے حاصل ہونے والی بھاری رقوم استعمال کرنے کے عادی تھے،اب بہتر انداز میں جان گئے ہیں کہ یہ شے جلد یا بدیر ختم ہوجائے گی۔گذشتہ پچاس برسوں کے دوران انھوں نے ان ہی حالات پر مبنی پالیسیاں اور حکمت عملیاں ترتیب دی تھیں۔

جنھوں نے تیل کے استعمال کا مضحکہ اڑایا تھا،ان کا کہنا تھا کہ ایک نسل اس حالت میں بیدار ہوگی کہ کالے سونے کے سوتے خشک ہوچکے ہوں گے۔پھرلوگ اپنے خیموں میں چلے گئے ہیں یا اس سرزمین کو خیرباد کہہ رہے ہیں جو ایک وقت تھا کہ معدنی دولت سے مالا مال تھی لیکن اب اپنے وسائل سے محروم ہورہی ہے۔تاہم اکیسویں صدی میں تیل پر انحصار کم کرنے کا ایشو ایک ایسا بڑا مقصد بن چکا ہے جس کو آیندہ عشروں میں حاصل کیا جائے گا۔

سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مجھ سے حالیہ انٹرویو میں تیل کے ایشو اور تیل پر انحصار کم کرنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔شہزادہ محمد ہی نے سعودی ویژن 2030ء پیش کیا ہے اور کابینہ اس کی منظوری دے چکی ہے۔

اس انٹرویو کے دوران شہزادہ محمد نے اپنے دادا کے بارے میں ایک بات کہی :''شاہ عبدالعزیز اور جن لوگوں نے ان کے ساتھ ریاست کے قیام کے لیے کام کیا تھا،انھوں نے تیل پر انحصار نہیں کیا تھا۔انھوں نے تیل پر انحصار کیے بغیر سعودی مملکت قائم کی تھی۔انھوں نے اس ریاست کو تیل کے بغیر چلایا اور تیل کے بغیر ہی اس ریاست میں رہے تھے۔انھوں نے برطانوی کالونیل ازم کو چیلنج کیا اور برطانوی سعودی عرب کی سرزمین کا ایک انچ بھی حاصل نہیں کرسکے تھے۔انھوں نے یہ سب تیل پر انحصار کیے بغیر کیا اور ان کا فقط بندوں پر انحصار تھا''۔

''لیکن اب تو ایسے ہے کہ تیل ہمارا آئین بن چکا ہے۔قرآن اور سنت کے بعد تیل ہی کا نام لیا جاتا ہے۔یہ ایک بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے۔ہمیں سعودی عرب میں تیل کے نشے کی لت پڑچکی ہے اور اسی نے گذشتہ برسوں کے دوران بہت سے دوسرے شعبوں میں ترقی کے عمل کو تہس نہس کیا تھا''۔

یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے۔ماہر سماجیات فروک لیزنبورغیس کے مطابق''ترقی پسند ایجادات مستقبل کی احتیاجات کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں لیکن وہ اس وقت تک اپنے مقاصد پورے نہیں کرسکتی ہیں جب تک درکار موجودہ مفادات کو حاصل نہ کر لیا جائے گا۔اختیار کردہ ماڈل ،موجودہ تخمینے اور معلومات تیل کے استعمال کو ترک کرنے اور نئی تبدیلی کے لیے کوشش میں اہم کردار کی حامل ہیں۔''

تیل کی اہمیت سے انکار کوئی آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس کے لیے تو ثقافت میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہوگی۔اس کے لیے اقتصادی اور انتظامی سطح پر بھی تنظیم نو کی ضرورت ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے بڑے کھلے لفظوں میں ہر کسی سے درخواست کی ہے کہ وہ بعد از تیل دور کے لیے تیار رہیں کیونکہ تیل کوئی ''مقدس'' چیز نہیں اور یہ ملک کا ''آئین'' بھی نہیں ہے۔

تیل کا دور سعودی عرب کے ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ناگزیر تھا۔تیل نے معاشروں کو دولت مند بنایا ہے،نسلوں کو روزگار اور نان ونفقہ مہیا کیا ہے اور معیشت کو ترقی دی ہے۔تاہم اس کو مقدس بنانا اور اس کو ایک ایسا وسیلہ بنا لینا کہ جس کے اختتام پر نقصان ہوگا تو اسی تشویش کے پہلو سے یہ تجاویز سامنے آئی تھیں کہ تیل معاشرے کو ایک صارف بنانے والا بدعنوان عنصر ہے۔

استثنائی ویژن

سعودی عرب نے جو ویژن اختیار کیا ہے،یہ استثنائی اور تاریخی ہے۔جب ملک کا تیسرا بڑا اہم عہدے دار احتساب کی بات کرتا ہے۔تیل کے دور سے ماورا جانے کی بات کرتا ہے،کرپشن کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیتا ہے۔سماجی طبقات کے درمیان برابری کے حصول پر بات کرتا ہے تو وہ اس یقین دہانی کے احساس کو بڑھا دیتا ہے کہ بعد از تیل دور کے خدوخال واضح کردیے گئے ہیں۔

اس نوجوان شہزادے کے ذہن میں یہ بات واضح ہے کہ ان کا معاشرہ آگہی چاہتا اور اس کو عوام کے درمیان بڑھانا بھی چاہتا ہے اورانھیں یہ اختیار کردہ راستے پر متحد ہوکر چلنے کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔

سعودی عرب نے تیل پر مبنی معیشت کے دور کے اختتام سے قبل ہی تیل پر بتدریج انحصار کم کرنے کا آغاز کردیا تھا۔انتظار میں بیٹھے رہنے کے بجائے نئے چیلنج سے پیشگی نمٹنے کی تیاری زیادہ بہتر ہے۔سعودی عرب کے معاملے میں جیسا کہ شہزادہ محمد نے کہا ہے سیاہ سونے کو ایک ایسے ذریعے میں تبدیل کیا جائے گا جو دوسرے وسائل کا حصہ ہوگا اور یہ واحد اور مقدس ذریعہ نہیں رہے گا۔

انھوں نے ایک واضح ویژن پیش کیا ہے۔ان کی منطق سائنسی ہے اور اس کو ڈیٹا اور تجرباتی شواہد سے تقویت دی گئی ہے۔لوگوں کو یقین دہانی کرانے کے لیے شاعرانہ بیانات کے دن اب لد چکے ہیں۔معاشرے اور قیادت کے درمیان سعودی عرب کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کے لیے اب نئے تال میل کا آغاز ہوچکا ہے۔

---------------------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے