یہ امریکی بھی کتنے بدذات اور جھوٹے ہیں ۔ وقفے وقفے سے متضاد بیانات اگلتے رہتے ہیں۔ اس دوغلے پن، دروغ گوئی، دھونس اور بلیک میلنگ کی تازہ ترین مثال، کابل میں واقع رسوائے زمانہ پاکستان دشمن خبر ایجنسی National Directorate Intelligence (NDS) کے دفتر کے قریب تباہ کن کار بم دھماکے میں 64 ہلاک شدگان اور 300 زخمی پر امریکی محکمہ خارجہ کے شعبہ نشرو اشاعت کی ڈائریکٹر Elizabeth Trudeau کا تعزیتی، عیادتی اور مذمتی بیان ہے جس میں خاتون نے کابل جنتا کے عائد کردہ جھوٹے الزام کو پاکستان پر تھونپتے ہوئے کہا کہ ہم ماضی میں بارہا اسلام آباد کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں بالخصوص حقانی عسکریت پسندوں کو افغانستان پر حملہ کرنے سے روکیں لیکن متواتر ہدایات کے باوجود حکومت پاکستان اپنے وعدے پر عملدرآمد نہیں کرتی۔ (ڈان)

ابھی زیادہ دنوں کی بات ہے کہ خطے میں انسداد دہشت گردی پر امریکی کانگریس کمیٹی کے روبرو افغانستان پاکستان کے امریکی رابطہ کار اور پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر Richard Olson نے پرزور انداز میں اس الزام کی تردید کی تھی کہ حکومت پاکستان نے شمالی وزیرستان میں آباد حقانی قبیلے کے عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ الٹا انہیں مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ جناب رچرڈ اولسن نے کہا کہ وہ متعدد بار حقانی قبائل کے علاقے کا دورہ کر چکے ہیں جنہیں پاکستان نے مکمل طور پر تباہ کردیا ہے، اب وہ سرحد پار افغانستان میں دراندازی یا جارحیت نہیں کرسکتے۔ (ڈان اتوار 24 اپریل 2016ء)

یہ بار بار کی ہرزہ سرائی حکومتِ پاکستان کو نہ سہی پاکستانی قوم کو بہت ناگوار گزرتی ہے۔ حقانی قبائل پختون قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ شمالی وزیرستان اور افغانستان دونوں ممالک میں مقیم ہیں اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ جب امریکہ کے دباؤ پر ہمارے حکمرانوں نے اس پرامن دوست قبیلے کی بہنوں پر حملہ کیا تو وہ اپنا گھر بارچھوڑ کر افغانستان چلے گئے جہاں ان کے ہم قبیلہ رہتے ہیں۔ اگر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ شمالی وزیرستان پر پاکستان کے لڑاکا طیارے اور بندوق بردار ہیلی کاپٹر قبائل پختون پر بم کی بجائے پھول گراتے تھے تو یہ ان کا فریب نظر ہے یا کوتاہ بینی اور بے بصری۔ لیکن امریکی ریاستی دہشت گردوں نے 2004ء سے آج تک شمالی اور جنوبی وزیرستان پر پھول تو نہیں برسائے ہوں گے۔ انتہائی مستند اطلاع کے مطابق ان لال منہ والے بندروں (Red Apes) نے قبائلی بستیوں پر 370 ڈرون حملے کئے جس میں چار ہزار شہری شہید ہوئے جن میں 200 بچے شامل ہیں اور ستم بالائے ستم کہ اس نسل کشی اور قتل عام پر امریکی صدر، سینٹ، ایوان نمائندگان نادم ہونے کی بجائے اسے جائز تصور کرتے ہیں۔ افغانستان میں ڈرون حملوں میں غیرملکیوں سمیت ہلاک شدگان کے پسماندگان کو معاوضہ دیا اور معافی بھی مانگی (اسلام اتوار 13 دسمبر 015) میں بار بار اپنے کالموں میں اسے غیرقانونی، غیر انسانی، نسل کشی اور جنگی جرم کہتا رہا ہوں مگر کیا کہیے حکمرانوں کی غیرت گو کہ سابق صدور مشرف، آصف علی زرداری اور معزول وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، ڈرون حملوں کو رکوانے کی بجائے ان پر چشم پوشی کرتے رہے ہیں۔

اس ضمن میں امریکیوں کو یوسف رضا گیلانی کا پیغام اخبارات میں شائع ہو چکا ہے کہ تم ڈرون حملے کرتے رہو ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔ پھر غداری اور قتل میں ماخوذ مفرور ملزم پرویز مشرف کا یہ اعتراف کہ ہم نے چند سو پاکستانیوں (بشمول دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی) کو امریکہ کے حوالے کرکے ڈیڑھ ارب ڈالر کما لیا کس قدر شرمناک ہے۔ ابن علقمی، میر جعفر اور میر صادق نے بھی ایسی ہی وطن فروشی کی تھی جن پر تاریخ لعنت بھیجتی ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں کے منہ میں زبان نہیں ہے کہ وہ امریکی صدر، وزیر خارجہ اور دفتر خارجہ کے اہلکاروں سے کہیں کہ اپنی زبان کو لگام دو، تم نے سلالہ کی چوکی پر تعینات ہمارے 24 میجر کرنل اور جانباز سپاہیوں کو قتل کیا۔ لہٰذا ان کے قاتلوں کو پاکستان کے حوالے کرو۔ اب تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان تحویل ملزمان کا معاہدہ بھی تو ہے۔ اگر تم ہم سے ذکر الرحمن لکھوی، مولانا اظہر مسعود اورحافظ سعید کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہو تو ہمیں ریمنڈ ڈیوس، 24 پاکستانی فوجیوں کے قاتلوں اور ڈرون حملے کرنے والوں بارک اوباما کو ہمارے حوالے کرو۔ تم کابل کی ریاستی دہشت گرد ایجنسی NDI کے دفتر کے قرب و جوار میں طالبان کے کار بم دھماکے کا الزام حکومت پاکستان پر دھرتے ہو تو پشاور آرمی پبلک سکول، چارسدہ اور شب قدر امریکہ کے مقبوضہ علاقے افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے قاتلانہ حملوں کو کیوں نہیں روکتے۔ آخر وہ دہشت گرد تو ہمارے امریکی زیر قبضہ سرزمین سے پاکستان کے شہروں پر حملہ کرتے ہیں۔

اگر امریکہ کے افغانستان میں کیے گئے جنگی جرائم کا ذکر کیا جائے تو اس کے لئے دفتر درکار ہوگا۔ بگرام فضائی اڈے میں امریکی فوج کے قائم کردہ عقوبت خانے میں بلا فردِ جرم عائد کردہ زیر حراست شہریوں کو برہنہ کیا جاتا ہے، ان کے حساس اعضاء کو بجلی کے جھٹکے دیئے جاتے ہیں، ان پر خونخوار کتے چھوڑے جاتے ہیں اور قرآن کریم کے متبرک نسخوں کو قیدیوں کے سامنے پرزے پرزے کر کے انہیں نعوذ باللہ طہارت خانوں میں بہا جاتا جاتا ہے اور جارج بش دوم کے حکم پر قیدیوں سے جبری اقبال جرم کرانے کے لئے ان کے بال پکڑ کر انہیں گردن تک پانی سے لبریز حوض میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ اسے Water Boarding کہا جاتا ہے۔ امریکی آدم خور سپاہی، افغان حریت پسندوں کا شکار کھیلتے ہیں اور ان کے اعضاء کی قطع برید کرکے انہیں اپنے سامنے رکھ کر یا اپنے کندھوں پر لٹکا کر گروپ فوٹو کھنچواتے ہیں۔ یہ تصاویر اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں مندرجہ بالا جرائم کنونشن برائے انسداد ایذا رسانی جنیوا کنونشن برائے اسیران جنگ کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور ان کے مرتکبین دندناتے پھرتے ہیں۔ انہیں بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ عدالت تو کانگو، کینیا، سوڈان کے صدور کو سزا دینے کے لئے قائم کی گئی ہے اسے امریکی فوجیوں اور شہریوں کے خلاف کارروائی کا کوئی اختیار نہیں ہے پھر امریکہ نے آئی سی سی کے ضابطے (Statute) کے تحت اپنے فوجیوں کو عدالت کے دائرہ اختیار سے مستثنیٰ کر رکھا ہے۔

یہ کیسا قانون ہے جو صرف کالوں کے لئے ہے، کمزوروں کے لئے ہے، گوروں کے لئے نہیں ہے۔ لیکن اس ناروا امتیاز کے خلاف معاشرہ ریاستیں احتجاج کیوں نہیں کرتیں، اس دہرے معیار کو ماننے سے انکار کیوں نہیں کرتیں؟لندن کے لارڈیئر Boris Johnson Mayor نے UNCLOS82 ICC پر دستخط نہ کرنے پر امریکہ پر منافقت کا الزام لگایا۔ (Dawn 17-04-2016)

اگر حکومتِ پاکستان کسی مصلحت کے تحت، ریاست پر عائد کردہ امریکی فردِ جرم کو مسترد نہیں کرتی تو عوام کو اس کی مخالفت کرنے سے کس نے روکا ہے، کیا میڈیا صرف سیاسی رہنماؤں کو بلیک میل کرتا ہے، استعماری ٹولے کی ریشہ دوانیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے۔ اگر میڈیا امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت پراحتجاج نہیں کرتا تو طلباء، اساتذہ، علماء، وکلاء، اطباء، خواتین اور محنت کشوں کی انجمنوں کی کیا مجبوری ہے کہ وہ اس کی مخالفت کیوں نہیں کرتیں۔ پاکستان کی عدالتِ عالیہ یہ پیغام دے چکی ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر ضربِ کاری ہیں۔ یہ قومی مسئلہ ہے اس پر ساری قوم کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر ملک اسی طرح خاموش کالونی بنارہا تو کل کلاں بھارت خدانخواستہ ہمارے ملک پر قبضہ کرلے گا تو بھی لوگ چپ سادھے رہیں گے؟اس وقت پاناما سکینڈل پر قوم کی توانائی ضائع کرنے کی بجائے ساری توجہ امریکی مداخلت کے سدباب پر مرکوز ہونی چاہیے۔ بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
-------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے