آج ہر دردمند دل کیلئے دنیا بھر کے مسلمانوں کی حالت قابل رحم ہے، دنیا بھر میں دہکتی ہوئی دہشت گردی کے بلند شعلوں ہی کو لے لیجئے، آج جہاں کہیں بھی یہ شعلے بھڑکتے ہیں، اس کا ذمہ دار مسلمان ہوتا ہے یابنا دیا جاتا ہے۔ مثلاً پیرس یا برسلز میں جو تازہ شعلے بھڑکے اور انکے ذمہ داروں پر مشرق و مغرب میں لعنت برسائی گئی مگر حال ہی میں جو کچھ عراقیوں اور شامیوں کے ساتھ ہوا یا مثلاً پشاور اور لاہور میں سینکڑوں معصوم بچوں کے ساتھ ہوا، اس پر مشرق میں تو کچھ نہ کچھ واویلا ہوا مگر مغرب کے اونچے ایوانوں میں وہ چیخ و پکار نہ سنی گئی جو پیرس اور برسلز کے المناک حوادث پر سنی گئی۔ ہاں یہ ضرور سنائی دیا کہ ان تمام دھماکوں میں اپنا منہ کالا کرنیوالے مسلمان ہی تھے جن کے نبیؐ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں اور جن کا مذہب ہی دنیا کی سلامتی کا علمبردار ہے بلکہ اسلام کے تو معنی ہی اطاعت خداوندی اور دنیا میں قیام امن ہے۔ حالانکہ مسلمان تو دنیا بھر کے مفلس اور غریب مانے جاتے ہیں تو ان کے پاس یہ دھماکے کرنے کیلئے سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ پیرس اور برسلز جیسے مہنگے شہروں تک ان کی رسائی، قیام اور وسائل کس نے مہیا کئے؟ اگر یہ خودکش بمبار غریب مسلمان صرف اجرتی قاتل تھے تو ان کی اجرتیں کن سود خوروں نے ادا کیں؟ اصل دہشت گرد یہ سودخور ہیں یا بھسم ہو جانیوالے غریب مسلمان؟

یہ سوال میں نے آپ سے اس لئے کئے ہیں کہ آپ اس پر غور کرسکیں اور بتا سکیں کہ عرب دنیا میں عرب سپرنگ یعنی عرب بہار کے عنوان سے ایک جمہوری تحریک چلی تھی جس کے نتیجے میں عرب دنیا کے بہت سے بڑے بڑے برج الٹ گئے تھے جن میں مصر پر چالیس سال مسلط رہنے والا حسنی مبارک تو اپنے انجام بد کو پہنچ گیا مگر شام کا ڈکٹیٹر حافظ الاسد ظلم کرکے مرا تھا تو اس کا بیٹا بشار الاسد مسلط ہوگیا تھا اور یوں باپ بیٹا ساٹھ سال تک نوے فیصد سنی مسلمانوں پر تلوار چلاتے رہے مگر آج پھر اسی پرانے مہرے بشار الاسد کو نام نہاد سوشلسٹ روس اور جمہوری ملک اس کو شامی مسلمانوں پر دوبارہ مسلط کرنے کیلئے بے گناہوں کا خون بہانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی پانی کی طرح انڈیل رہے ہیں اور اسلحہ کے ڈھیر بھی لگا رہے ہیں۔ آخر یہ کیا کھیل ہے؟ صرف یہی ناکہ کسی طرح نوے فیصد سنی مسلمان شام کے حکمران بن کر اسرائیل اور اسکے گماشتوں کے لئے خطرہ نہ بن جائیں۔

لیکن اس سلسلے کی جو خبر ترکی کے دارالحکومت استنبول سے آئی ہے، وہ تو اسلامی دنیا کو خون کے آنسو رلا دینے والی ہے، یہ خبر افسوسناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔ اس خبر کو آپ سب نے سنا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ آپ کا تاثر مجھ سے مختلف نہیں ہوگا۔ بڑی مدت کے بعد آج کے مایوس کن اور تاریک ماحول میں ایک بہادر ترک اور غیرت ایمانی سے مزین لیڈر جناب رجب طیب اردگان نے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے زیراہتمام مسلمان سربراہان کی کانفرنس بلائی مگر ہائے افسوس کہ اس کانفرنس کو بھی عالمی دہشت گردوں نے ناکام بنا دیا ہے جس پر تل ابیب اور نئی دلی میں تو شادیانے بج رہے ہیں اور مغرب کے گورے سامراجی رقص کررہے ہیں مگر اسلامی دنیا کے دردمند مسلمان ہر جگہ میری طرح خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔ اس شرمناک خبر کا اندوہناک پہلو یہ ہے کہ مشرق وسطی کے مسلمانوں کو فرقہ پرستی کی خوفناک جنگ میں جھونکا جارہا ہے اور ایک امریکی یہودی کالم نویس تھامس فریڈمین کی نصیحت پر عمل جاری ہے کہ ’’دی وار ودان اسلام ایٹ آل کاسٹ‘‘ یعنی اسلامی دنیا میں ہر قیمت پر جنگ اور بدامنی رہے! لیکن خدانخواستہ مشرق وسطیٰ میں یہ جنگ چھڑ گئی تو عالمی صہیونیت کی عالمی دہشت گردی کی آرزو کے مطابق مسلمانوں کیلئے کچھ بھی نہیں رہے گا۔

اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی دہشت گردوں کی نظریں اب اسلامی دنیا کے واحد ایٹمی ملک پاکستان پر ہیں، یہی بری اور خوفناک نظریں بھارت ماتا کے برہمن پنڈت لبھورام کی بھی ہیں۔ اب یہ کام ہمارے پیارے دوراندیش سیاسی لیڈروں کا ہے کہ وہ پانامہ لیکس کی چادر میں خود کو لپیٹتے ہیں یا اسے پھاڑ کر تار تار کرتے ہیں؟ وزیراعظم سے اگر کوئی لغزش ہوئی بھی ہے تو قانون اور عدالت سے ثابت کیا جائے لیکن اگر یہ عالمی دہشت گردوں کی طرف سے لگائی جانے والی محض تہمت ہے تو اس پر سیخ پا ہونے کے بجائے وطن عزیز کی عزت و سلامتی کیلئے ایک متحدہ مؤقف اختیار کیا جائے۔ پانامہ لیکس بظاہر جال ابلیس ہے جو آج کی اسلامی دنیا کے لیڈروں کو پھنسانے کیلئے اسی طرح بچھایا گیا ہے جس طرح عرب لیڈروں کے جنازے نکالنے کیلئے عرب سپرنگ کا پھندا تیار کیا گیا تھا۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
-------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے