پانامہ لیکس کے ہنگام میں آج جس کسی سے بھی پوچھا جائے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو غالبا ہرکوئی دہشت گردی جیسے بڑے عفریت کو بھول کر یہی کہے گا کہ کرپشن ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس میں کوئی شبہ بھی نہیں کہ کرپشن چونکہ معاشروں اور ریاستوں کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں انتہائی زہرناک کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اگر کوئی بدعنوانی کو پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ قرار دیتا ہے تو یہ کچھ مبالغہ آرائی بھی نہیں ہے، لیکن یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ کرپشن اکیلے پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور پانامہ لیکس کے بعد تو یہ بات ثابت بھی ہوچکی ہے۔ مثال کے طور پر دوست ملک چین کے وزیراعظم کہتے ہیں کہ اُن کے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے، یہ چین میں اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ چین میں کرپشن کی سزا سزائے موت رکھی گئی ہے اور ہر سال سینکڑوں افراد کو کرپشن پر سزا بھی دی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود چین سے بدعنوانی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔بھارت کی سابق اور موجودہ سیاسی قیادت اور اہل دانش کا متفقہ جواب یہ ہے کہ بھارت کو اتنا خطرہ ہندوتوا اور علیحدگی پسند تحریکوں سے نہیں جتنا خطرہ بدعنوان اور کرپٹ مافیا سے ہے اور یہ کہ کرپشن کا ناسور بھارت کی جڑیں کھوکھلی کیے چلا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جاپان جیسے انتہائی ترقی یافتہ ملک میں ماضی میں وزیراعظم سمیت کئی لوگوں کو کرپشن کے الزامات کے تحت مستعفی ہونا پڑا۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ پر کرپشن کا الزام لگا اور انہیں جیل بھگتنا پڑی، خود برطانیہ اور امریکہ میں سیاست دانوں کی کرپشن کے اسکینڈلز منظر عام پر آتے رہتے ہیں، لیکن یہ بھی بجا کہ دنیا میں جہاں جہاں کرپشن کے کیسز سامنے آتے ہیں، وہاں کرپشن کے خاتمے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔

دنیا میں کرپشن کو بیماری سمجھ کر اس کا علاج کیا جاتا ہے تاکہ ناصرف اس بیماری کا علاج ہوسکے بلکہ آئندہ کیلئے اس بیماری سے بچاو بھی ممکن ہوسکے۔ کرپشن صرف عام سی بیماری ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک قسم کی چھوت کی بیماری ہے، جو ایک سے دوسرے کو لگتی ہے، دوسرے سے تیسرے کو اور یوں ایک مسلسل عمل کے ذریعے پورے معاشرے میں پھیلتی چلی جاتی ہے اور پھر پورے معاشرے کو نگل لیتی ہے۔ اس موذی بیماری نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور آج ہماری سوچوں کو اپنے اپنے مفادات کی جیل میں قید کرکے رکھ دیا ہے۔ اہل دانش بدعنوانی کو آکاس بیل سے بھی تشبیہ دیتے ہیں کہ کس طرح کرپشن کی زرد بیل معاشرے کی مختلف سرسبز شاخوں کو جکڑ کر اُن میں سے زندگی کا رس چوس لیتی ہے، کرپشن کی لعنت آکاس بیل کی صورت اگر ایک بار کسی معاشرے پر آن گرے تو ایک شاخ سے اگلی شاخ کو جکڑتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ ایماندی کا سبزہ ختم ہوجاتا ہے اور ہر جانب زرد ویرانی چھا جاتی ہے۔ یہاں تک کہ معاشرے کی اخلاقی صحت کے محافظ مذہبی اور تعلیمی ادارے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ کرپشن محض بد عنوانی، رشوت ستانی، گھپلوں، ہیرا پھیری اور غبن کا نام ہی نہیں ہے بلکہ اپنے عہد اور اعتماد کو توڑنا اور مالی یا مادی معاملات کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنا بھی تو بدعنوانی کی ہی شکلیں ہیں۔ ذاتی یا دنیاوی مطلب نکالنے کے لئے کسی مقدس نام کو استعمال کرنا کیا کرپشن نہیں ہے؟ اپنے عہدے اور رینک کے زور پر قانون اور آئین کے پرخچے اڑاکر رکھ دینا کیا کرپشن نہیں ہے؟ یقینا یہ تمام کرپشن کی ہی مختلف اشکال اور اقسام ہیں۔

پاکستان میں کرپشن کا کیا عالم ہے، اِس کا اندازہ سابق چیئرمین نیب ایڈمرل سید فصیح بخاری کے اُس دعوے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو سننے والوں کیلئے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ۔ فصیح بخاری کے مطابق پاکستان میں کرپشن کا حجم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ یومیہ 12 سے 15 ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے، اور اگر اس میں، ٹیکس چوری، ڈاکہ زنی، سرکاری وسائل کے ضیاع اور بینکنگ کے شعبے سمیت دیگر اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ یومیہ 15 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن بنتی ہے۔ کچھ اسی طرح کی باتیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ پبلک اکاؤ نٹس کمیٹی کے مطابق تین سو سے ساڑھے تین سو ارب روپے ہر روز بدعنوانیوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور یوں ہر سال قومی دولت کے 4 سے 5 ہزار ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی ریونیو، قبضہ مافیا، بینک قرضے ہڑپ کرنے، کسٹمز ڈیوٹی کے ہیر پھیر، لوڈ شیڈنگ کے نقصانات، اختیارات کے نا جائز استعمال سے سرکاری وسائل کے ضیاع اور دیگر شعبوں میں بدعنوانیاں بھی اگر کرپشن کے کلی جائزے میں شامل کرلی جائیں تو کرپشن کا حقیقی حجم اندازوں سے کہیں زیادہ ہوجاتا ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک کا انتظامی، مالی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچہ تباہی اور زوال کی آخری حدوں کو چھورہا ہے۔

یہ بھی غلط نہیں ہے کہ ٹیکس چوروں میں اگر اشرافیہ اور حکمران طبقہ شامل ہے تو ڈاکٹر ،وکیل، صنعتکار، دکاندار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد بھی لوٹ مار کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کرپشن پر قابو پانے اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے جب بھی کوئی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کی جاتی ہے تو اسے داخلِ دفتر تو کر دیا گیا مگر اُس پر عمل نہیں کیا جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ کسی برائی کے خلاف جد وجہد کا انحصار معاشرے کے جن اعلیٰ اخلاقی معیارات پر ہوتا ہے، وہ یہاں مفقود ہوچلے ہیں۔ برائی کے خلاف جدوجہد میں یقینا اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کے کس چیز کو رد اور کس کو قبول کیا جارہا ہے؟ کیا کسی کو کوئی شبہ ہوسکتا ہے کہ بد عنوانی کے رویوں (Corrupt Behaviours) کے ساتھ بدعنوانی کا مقابلہ ممکن نہیں؟ کوئی نگران اگر خود بد دیانت ہو تو لوٹ میں اپنا حصہ مانگ کر کرپشن میں معاونت کرتا ہے جس سے بربادی کا عمل اور گہرا ہو جاتا ہے اور یوں کرپشن کے خاتمے کا خواب پورا نہیں ہو پاتا۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے، لیکن وہاں کسی نے بھی کرپشن کے خاتمے کے لیے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو پاکستان میں اختیار کیا جاتا ہے، ترقی یافتہ ممالک میں سمجھا جاتا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہدف بناکر ممکن نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مسلسل عمل (پروسس) کا نام ہے، لیکن پاکستان میں جب بھی کرپشن کے خاتمے کی بات ہوتی ہے یا کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی تحریک چلائی جاتی ہے تو اس کا ہدف مخالفین ہی ہوتے ہیں اور یوں بلا تفریق احتساب نہ ہونے سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا ممکن ہی نہیں رہتا۔

قارئین کرام!! آزمائش کیلئے سات دہائیاں بہت ہوتی ہیں، امتحانات میں سے گزرنے کیلئے انہتر برس کچھ کم نہیں ہوتے ۔1947ء کے بعد کیا اب وہ وقت آنہیں گیا کہ اِس ملک سے آزمائش کا دور ختم ہوجائے؟ کیا اب اِس ملک کے عوام کے امتحانات کے دن گزر نہیں جانے چاہئیں؟ بدعنوانی، کرپشن، چور بازاری، اقرباء پروری، میرٹ کی خلاف ورزی،ٹیکس چوری، قرضہ معافی، کک بیکس، کمیشنز اور لوٹ مار سے جو صرف نظر ہوچکا، وہ ہی بہت ہے، اب یہ ملک اس طرح کی مزید بدمعاشیوں اور رعایتوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اَب احتساب ہونا چاہیے۔ چھوٹے اور بڑے، کمزور اور طاقتور، مقدس گائے اور عام بیل کا لحاظ کیے بغیر سب کااحتساب ہونا چاہیے۔ احتساب ہونا چاہیے اور سب کا ہونا چاہیے، ایسا بے رحمانہ احتساب کہ ظالموں کی سسکیاں بھی مظلوموں کی چیخوں سے اونچی اور دردناک ہوں۔ ورنہ اِس معاملے میں اگر ’’پک اینڈ چوز‘‘ اور پسند نا پسند سے کام لینے کی کوشش کی گئی تو ’’کرپشن مکاؤ، ملک بچاؤ‘‘ مہم خدانخواستہ ’’کرپشن بچاؤ، ملک مٹاؤ‘‘ مہم کا بھیانک روپ بھی بن سکتی ہے۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
-------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے