صدر اوباما کے ''دا اٹلانٹک'' میگزین کے اپریل کے شمارے میں شائع شدہ انٹرویو سے عرب دنیا میں بہت سوں میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔جیفرے گولڈبرگ کے ساتھ اس انٹرویو میں انھوں نے ''اوباما ڈاکٹرائن'' کی وضاحت کی تھی۔بہت سے تبصرہ نگار،لکھاری اور اربابِ اقتدارو سیاست اس سے مشوش ہوئے تھے۔سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے اس انٹرویو کے ردعمل میں جوابی حملے کیے گئے تھے۔ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنھوں نے کبھی اس جریدے کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔

براک اوباما نے وائٹ ہاؤس کے مکینوں کی روایت کے مطابق یورپ اور مشرق وسطیٰ کے الوداعی دورے کیے ہیں۔اس سے بہت سے لوگوں میں اطمینان پیدا ہوا اور وہ خوشی سے پھولے نہیں سمائے کیونکہ جب انھوں نے امریکی صدر سے آخری مرتبہ ملاقات کی اور وہ یہ سمجھے کہ ان کی واپسی کے بعد تمام چیزیں معمول پر آجائیں گی اور ہم ایک مرتبہ پھر امریکا کے اتحادی بن جائیں گے۔تاہم یہ خواہشات پر مبنی سوچ کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ مکمل نابالغ پن کی علامت ہے۔اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے بعض پالیسی سازوں اور امریکی امور کے خود ساختہ ماہرین نے گذشتہ پچاس سال کے دوران کچھ بھی نہیں سیکھا ہے۔

چیزیں تبدیل ہوجاتی ہیں،لوگ اور قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ جغرافیائی تزویرات نئے رخ اختیار کرتی ہیں اور بالکل ایک نئے نظریاتی دور میں داخل ہوجاتی ہیں۔میں اپنے علاقے سے تعلق رکھنے والے خود ساختہ سیاسی پنڈتوں کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ آنٹی ہلیری کلنٹن جو کچھ کہہ اور کر رہی ہیں،ایک نظر اس پر بھی ڈال لیں۔

وہ تقریر پر تقریریں کررہی ہیں اور ان میں اسرائیل کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کررہی ہیں۔انھوں نے آن ریکارڈ امریکی ،اسرائیل پبلک افئیرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:''میں صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد پہلا کام یہ کروں گی کہ اسرائیلی وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دوں گی''۔

انھوں نے یہ بھی کہا:''ہم اسرائیل کے مخالفین (مراد ہم عربوں) کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے درمیان رخنہ ڈالنے کا سوچیں''۔محترمہ نے یہ بھی فرمایا:''میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت بیرونی پارٹیوں کی جانب سے کوئی حل مسلط کرنے کی شدت سے مخالفت کروں گی''۔

اس کا یہ مطلب ہے کہ اسرائیلی دہشت گردوں کو فلسطینیوں کو قتل کرنے ،زندہ جلانے اور ان کا مثلہ بنانے کی سبز جھنڈی دکھا دی گئی ہے۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ عرب دنیا میں اسرائیل کی مداخلت بڑھ جائے گی جبکہ عرب دنیا پہلے ہی خانہ جنگیوں ،مدبر قیادت کے قحط الرجال اور سیاسی عزم کی کمی کی وجہ سے تار تار ہے۔

اور ہاں! اس کے بعد مسٹر ٹرمپ کو بھی مت بھولیں۔وہ ہمیں حقیقی معنوں میں دھچکا دیں گے۔وہ علانیہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں کریں گے اور نہ دھمکیوں کو خاطر میں لائیں گے۔اس کے برعکس وہ جارحانہ اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں۔امریکا میں سیاسی موسم کا درجہ حرارت بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور اوباما کو مشکل ہی سے کسی اشاعت کے پہلے پانچ صفحات میں دو سطریں ملتی ہیں۔لکھاری اور سیاسی تجزیہ کار مسلسل ایسی خامہ فرسائی کررہے ہیں جو حقیقی معنوں میں گمراہ کن ہے۔

پھر ہم ایسی صورت حال سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ مہربانی فرما کر مجھے یہ نہ کہا جائے کہ تعلقات عامہ کی ناقابل اعتماد فرموں پر مزید رقوم لگائی جائیں۔نیزمہربانی فرما کر ماضی کی یاد داشتیں بھی تازہ نہ کی جائیں کیونکہ وہ امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں موجود نہیں رہتی ہیں۔امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس کے پاس بھی نہ جائیے یا رپورٹروں سے بھی یہ مت کہیے کہ ہمارے حق میں کچھ اچھا لکھیں۔

ہمیں اس وقت سیاسی جانکاری رکھنے والے افراد کی جانب سے مکمل طور پر ایک مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ جامعات سے تعلق رکھتے ہوں اور امریکا کے سیاسی نظام کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہوں اور آغاز میں ہمارے پاس بالکل باہر سے نئے چہرے بھی ہوسکتے ہیں۔

جو لوگ اوباما کی رخصتی پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں،میں انھیں یہ باور کرانا چاہوں گا کہ عربوں کے لیے اوباما ہی آخری سانتاکلاز ہیں۔

----------------------------------

(تجربے کار صحافی اور تجزیہ کار خالد المعینا اخبار سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے: kalmaeena@saudigazette.com.sa اور  Twitter: @KhaledAlmaeena
العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا ان کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے