شامی حکومت نے اپنے ہی عوام کے قتل عام کے لئے اسپتال، آبادیوں اور اسکولوں کو چن چن کر ہدف بنانے میں انسانی تاریخ کے بدترین ظالموں کو بھی مات کر دیا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے محصور، بھوکے اور نہتے لوگوں پر بے تحاشہ بمباری کے بعد ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ سسک سسک کر مر جائیں۔

حالیہ چند دنوں میں متعدد شہروں خصوصاً حلب شہر کی کئی آبادیوں پر اس تواتر کے ساتھ بمباری کی جاتی رہی ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں اور مکانات کا ملبہ ہٹانے اور لاشوں کو دفنانے والے کارکن بھی کم پڑ گئے ہیں۔ بمباری سے مرنے والوں میں ڈاکٹر، نرسیں، امدادی کارکن اور عام شہری شامل ہیں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے جو بد قسمت بھاگ کر بھی اپنی جانیں بچانے کے قابل نہ تھے۔

حلب میں پچھلے کئی دن سے مسلسل بمباری کی جارہی ہے جس سے ہزاروں شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس شہر کے لاکھوں شہریوں کو ظالم بشار حکومت، اس کی پروردہ ملیشیاؤں اور روسی حملہ آور فوجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں کوئی بھی ان بے یارومددگار لوگوں کو بچانے کے لئے کچھ نہیں کر رہا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ پورا شام بالخصوص حلب شہر اس امن معاہدے کے تحت آتے ہیں جو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کیا گیا ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر عام شہریوں کا قتل عام کیا جارہا ہے مگر جنیوا کنونشن کی پابند تمام حکومتیں بے کار بیانات دینے کے سوا کسی قسم کا بھی کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہیں۔ حلب میں بمباری سے ہونے والا جانی نقصان بہت خوفناک اور دہشت ناک ہے مگر عالمی پابندیوں کی وجہ سے اس کا مکمل منظر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر اس جانی اور مالی نقصان کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا اس جھوٹے امن معاہدے اور مذاکرات کے تماشے کو یکسر مسترد کردیتی تاکہ اس قوم کے معصوم شہریوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں جو پہلے ہی کئی سال سے ریاست کی نگرانی میں فرقہ وارانہ قتل عام اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔

ایسے خوفناک قتل عام پر ،جس کی مثال انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، خلیجی ریاستوں کی خاموشی بھی ناقابل فہم۔ ہے۔ ترکوں اور مغربی ممالک کی جانب سے شام کے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دینے کے بعد ان کے پاس اپنے بچاؤکا کوئی راستہ نہیں رہ گیا ہے۔ مغربی ممالک کی سنگدلی کا حال یہ ہے کو انہوں نے ڈھائی کروڑ شامی عوام کو محض چند ہزار داعش جنگجوؤں کی وجہ سے مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔

روس کے شام کی خانہ جنگی میں چھلانگ لگانے کے بعد سے حلب شہر تباہی اور بربادی کا خاص نشانہ بنا ہوا ہے۔ حلب شام کے بڑے شروں میں شمار ہوتا ہے اور بشار حکومت نے پچھلے چار سال سے اس کو خصوصی طور پر بمباری اور فوجی حملوں کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ حالیہ چند ماہ سے روسی طیاروں نے اس شہر پر بے تحاشہ بمباری کی ہے جس سے بے اندازہ تباہی ہوئی ہے۔ اگر چہ بمباری دمشق کے علاقے غوطہ پر اور دیگر شہروں جن میں اللاذقیہ قابل ذکر ہے پر بھی کی جا رہی ہے مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری صرف ان علاقوں میں فوجی کمک بھیج رہی ہے جن پر داعش کا کنٹرول ہے۔

اقوام متحدہ نے 150 فوجیوں کا دستہ الحسکہ شہر میں بھیجا ہے۔ دوسری طرف ترکی نے دھمکی دی ہے کو وہ شام کی سرحد عبور کر کے کرد باغیوں کی سرکوبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مگر ان دھمکیوں کے شور میں محصور شامی شہریوں کے لئے کوئی امید کا پیغام نہیں ہے اور ان کو بشار حکومت کی فوج اور اس کی پروردہ ملیشیاؤں کے مقابلے کے لئے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ حلب شہر پہلے ہی کئی ماہ سے سخت ترین محاصرے میں ہے جہاں غذائی اور ادویہ کی ترسیل مکمل بند ہے۔ تمام مواصلاتی رابطے کٹ چکے ہیں، تمام اہم سڑکیں بند ہیں۔ ترکی کی جانب ہجرت کرنے والے کئی ہزار افراد بھوکے پیاسے محصور ہیں کیونکہ ترک سرحد کی جانب جانے والی تمام سڑکیں بھی بند ہیں۔

اقوام متحدہ اپنا یہ عہد پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے کہ امن مذاکرات جنگ بندی کے ساتھ کئے جائیں گے اور امدادی کارکنوں کو زخمیوں اور محصور شہریوں کے لئے لازمی اشیا کی ترسیل کی اجازت دی جائی گی۔ جنگ بندی کے دوران شامی شہریوں کے منظم قتل عام میں مرنے والوں کی تعداد جنگ کے دوران مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اور یہ حقیقت ثابت کرتی ہے کہ مذاکرات کا مقصد بشار حکومت کو روسی اور ایرانی افواج کی مدد سے نہتے شامی شہریوں کے مزید قتل عام کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان سنگین حقائق سے امن کے تمام امکانات زمیں بوس ہو چکے ہیں۔
--------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے