میں نے بہت سی باتوں پر خاموش رہنا منیر نیازی کی زبان میں اپنی ’’عادت سی بنالی ہے‘‘۔ حقائق کو گھما پھرا کر بیان کرنے سے رزق کمانے میں سہولت برقرار رہتی ہے۔ ویسے بھی ایک محاورہ ہمیں بتاتا ہے کہ جان بچی تو لاکھوں پائے۔ جان ہے تو جہان ہے۔ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال کر مصیبتوں کو دعوت دینے کو جی نہیں چاہتا۔ اپنے حصے کی بہت ساری مصیبتیں اپنے صحافتی کیریئر کے ابتدائی ایام میں بھگت لی ہیں۔ اب تو آرام صرف قفس کے گوشے ہی میں نصیب ہوتا ہے۔ ’’فیدا کی‘‘ والے مزاج کے ساتھ ’’ٹھنڈ پروگرام‘‘۔

پانامہ-پانامہ کے نام پر مچے شور کی بدولت عالمی اور مقامی اشرافیہ کی بہت ساری منافقتیں مگر اب عیاں ہوکر مجھے بہت دِق کررہی ہیں۔ بھنگ جیسے نشوں کے ذریعے بے حس بن جانے کی مجھے عادت نہیں۔ کچھ سوالات اٹھانا ہی ہوں گے تاکہ دل میں جمع غبار کچھ تو کم ہو۔

سب سے پہلے ذرا غور کر لیتے ہیں اس دعوے پر کہ پانامہ پیپرز کے ذریعے جو حقائق ہمار ے سامنے آئے ہیں اس کا تمام تر کریڈٹ جاتا ہے صحافت کے اس طرز کو جسے Investigative Journalism کہا جاتا ہے۔ یہ صنف جس کا میں نے ذکر کیا ہے میرے پیشے یعنی صحافت میں بڑی دھانسو شمار ہوتی ہے۔

پنی زندگی کے پورے 30 برس صرف رپورٹنگ میں صرف کرنے کے بعد مگر اب میں یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوں کہ Investigative Journalism ایک فراڈ ہے۔ سراب ہے۔ سرا سر دو نمبری۔

امریکی تاریخ کے ایک طاقتور ترین صدر نکسن کو نظر بظاہر Bob Woodward جیسے Investigative Journalist نے واٹر گیٹ سکینڈل کی کہانی سنا کر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا۔ Woodward کا یہ سکینڈل بریک کرنے میں مگر ذاتی کمال کیا تھا۔ ذرا سا غور کریں، تو کچھ بھی نہیں۔

موصوف امریکہ کے ایک بہت تگڑے اخبار واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے تھے۔ انٹیلی جنس کے شعبے سے متعلق خبروں پر نگاہ رکھنا بھی اس کی ذمہ داری تھی۔ ایسی خبریں حاصل کرنے کے لئے آپ کو CIA اور FBI وغیرہ میں اہم عہدوں پر فائز لوگوں سے دوستیاں بنانا ہوتی ہیں۔ ہمارے پیشے میں اس عمل کو Sources کو Cultivate کرنا کہا جاتا ہے۔ جس ’’سورس‘‘ کو Cultivate کیا جاتا ہے وہ آپ کو ’’نذر اللہ نیاز حسین‘‘ والے خیراتی رویے کے ساتھ کبھی خبریں نہیں دیتا۔ انٹیلی جنس والوں سے ’’خبر‘‘ لینے کے لئے انہیں بھی کچھ نہ کچھ ’’خبر‘‘ دینا ہوتی ہے۔ رپورٹر اور سورس کے مابین رشتہ لہذا Two Way Traffic کی مانند ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے اپنے اپنے شعبوں میں آگے بڑھنے، نام کمانے اور ترقی پانے میں ایک حوالے سے مدد گار ہوتے ہیں۔ ووڈورڈ کا ایسا ہی ایک مدد گار FBI میں موجود تھا۔ وہ سورس اور رپورٹر مختلف عمارتوں کی کار پارکنگ میں ملتے اور سورس نے واٹر گیٹ کی خبر رپورٹر کو دے دی۔

رپورٹر خبر لے کر اپنے دفتر گیا تو ہلچل مچ گئی۔ خبر چھاپنی ہے یا نہیں؟ یہ فیصلہ اخبار کی مالک کو کرنا پڑا۔ واشنگٹن پوسٹ آزادیٔ صحافت کے تمام تر دعوئوں کے باوجود امریکی اشرافیہ کا حقیقی ترجمان اور اس کے مفادات کا حتمی نگہبان بھی ہے۔ امریکی اشرافیہ جسے آپ ہمارے ہاں مروج اصطلاح میں Establishment بھی کہہ سکتے ہیں ان دنوں صدر نکسن سے بہت نالاں تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ صدر، ریاست کے روایتی اداروں سے بالا بالا کچھ فیصلے کر لیتا ہے۔ کمیونسٹ چین کے ساتھ پاکستان کے ذریعے روابط بڑھا کر اسے کسی نہ کسی طرح اپنا اتحادی بنا لینا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ تھا۔

2016ء میں بیٹھ کر ماضی کا جائزہ لیں تو چین سے تعلقات نے طویل المدتی تناظر میں امریکی ریاست کے مفادات کا نہ صرف تحفظ کیا بلکہ انہیں مضبوط تر بنانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ 1970ء کے اوائل میں ہوا یہ فیصلہ مگر اس وقت اشرافیہ کی روایتی اور فرسودہ سوچ میں فٹ نہیں ہو رہا تھا۔ خطرہ یہ بھی تھا کہ چین سے دوستی بڑھانے جیسے ’’تاریخی‘‘ فیصلے کرنے کی وجہ سے محض ایک فرد - یعنی نکسن - تمام ریاستی اداروں کے مجموعی وقار اور اجتماعی سوچ سے بھی کہیں زیادہ قد آور اور طاقتور بن جائے گا۔ نکسن کے پر کاٹنا لہذا ضروری ہو گئے۔

واٹر گیٹ کا واقعہ ہو چکا تھا۔ ’’اخلاقی‘‘ حوالوں سے وہ بہت غلط بھی تھا۔ اس واقعے کی تفصیلات ووڈورڈ کو Deep Throat کہلاتی سورس کے ذریعے بتا دی گئیں۔ امریکی اشرافیہ کے ایک طاقتور ترین اخبار کی مالک نے ان تفصیلات کو شائع کرنے کی ’’جرأت‘‘ دکھائی۔ رپورٹر اور اس کے اخبار کی بلے بلے ہوگئی۔ نکسن کو بالآخر اپنی جند چھڑانے کے لئے استعفیٰ دینا پڑا۔ چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات مگر برقرار رکھے گئے کیونکہ اس کے بعد آنے والوں کو بھی علم ہو گیا کہ یہ دوستی امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اشد ضروری ہے۔

نکسن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے والا ’’انقلابی اور جی دار‘‘ رپورٹر اب کئی برس سے بذات خود امریکی اشرافیہ ہی کا ایک مشہور اور با اثر رکن بن چکا ہے۔ امریکی صدور اسے وائٹ ہائوس کے ان اجلاسوں میں بھی خصوصی طور پر مدعو کرتے ہیں جہاں عراق اور افغانستان جیسے ’’حساس معاملات‘‘ پر قومی سلامتی سے متعلق ادارے اپنی معلومات اور تجزیے وغیرہ پیش کرتے ہیں۔ ووڈورڈ ان اجلاسوں کے بارے میں فوری خبر نہیں لکھتا۔ خاموش رہتا ہے اور بالآخر Obama's Wars جیسی ضخیم مگر معلومات سے بھرپور کتابیں لکھ کر ٹہکے والی زندگی گزارتا ہے۔

’’پانامہ لیکس‘‘ کسی پھنے خان Investigative Reporters کی بدولت ہمارے سامنے نہیں آئی۔ پانامہ کے دو ہونہار، ذہین اور شاطر وکیلوں نے ایک کمپنی بنائی۔ یہ کمپنی، آف شور کمپنیاں بنانے اور ان کے ذریعے دُنیا بھر کے مالدار لوگوں کے سرمایے کو مختلف کاروباروں میں لگاکر منافع کمانے کی مہارت رکھنے کے ضمن میں بہت مشہور ہوئی۔ اس کمپنی کا ایک ملازم کسی وجہ سے اپنے مالکوں سے ناراض ہو گیا۔ اس نے کمپنی کے ماسٹر کمپیوٹر میں موجود تمام تر Data کی کاپیاں بنائیں۔ اس Data کو ایک جرمن اخبار کے حوالے کر دیا۔ اس جرمن اخبار کو بھی اپنے تئیں اتنی بڑی ’’خبر‘‘ شائع کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس نے ICIJ میں جمع ہوئے ’’آزاد اور جی دار‘‘ صحافیوں سے رابطہ کیا۔ سب نے یکجا ہوکر کئی مہینے لگانے کے بعد بھاری بھر کم Data میں سے اپنی پسند کا مواد ڈھونڈ کر متعلقہ لوگوں سے چند سوالات پوچھ کر شائع کردیا۔

’’پانامہ لیکس‘‘ شائع کرتے وقت تہمت تراشی کے الزامات کے تحت قائم ہونے والے مقدمات سے بچنے کے لئے احتیاطََ یہ سطر بھی لکھ ڈالی کہ نظر بظاہر ’’آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کوئی غیر قانونی‘‘ کام نہیں۔ ’’غیر قانونی‘‘ البتہ ’’غیر اخلاقی‘‘ ضرور بن گیا ہے۔ رونق لگ چکی ہے۔ آف شور کمپنیاں مگر اب بھی کام کر رہی ہیں۔ وہ بند ہو گئی ہوتیں تو لندن میں ان دنوں میرے جیسے ’’فُقرے‘‘ بھی اپنی تمام جمع پونجی اکٹھا کرکے اور پاکستان میں وراثت اور بیوی کے توسط سے ملی جائیداد فروخت کرکے ایک چھوٹا سا فلیٹ خرید چکے ہوتے۔ آف شور کمپنیوں کا دھندا جاری ہے۔ وہ پاکستان میں مچے شور کی وجہ سے ہرگز نہیں رُکے گا۔ Investigative Journalism کا طنطنہ بھی اگرچہ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
--------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے