گزشتہ ہفتے امریکی ریاست انڈیانا کی ریپبلیکن پرائمری میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح نے صدارت اور ٹرمپ کے درمیان آخری بڑی رکاوٹ بھی گرا دی۔ ان کے دو قریب ترین ریپلیکن حریف ٹیڈ کروز اور جان کیشے یکے بعد دیگرے دوڑ سے خارج ہو گئے۔ البتہ جاتے جاتے ٹیڈ کروز نے اتنا ضرور کہا ’’اگر یہ شخص واقعی امریکا کا صدر بن گیا تو خدا جانے کیا کرے گا۔ خود اسے بھی نہیں معلوم‘‘۔ جب اگست میں ریپبلیکن پارٹی کا صدارتی کنونشن ہو گا تو ننانوے فیصد امکان ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلوبہ بارہ سو سینتیس ڈیلی گیٹ نہایت آسانی سے دستیاب ہو جائیں گے جو ان کی امیدواری پر آخری مہرِ تصدیق ثبت کر سکیں۔

دوسری جانب توقع ہے کہ ہلری کلنٹن اور بارنی سینڈرز کے درمیان کانٹے دار مقابلے کے باوجود ہلری ڈیموکریٹک کنونشن میں صدارتی ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

اگر ٹرمپ اب تک کی پیشین گوئیوں کو ملیامیٹ کرنے کا ریکارڈ قائم رکھ کے وائٹ ہاؤس بھی فتح کر لیتے ہیں تو آئزن ہاور کے بعد وہ امریکا کے پہلے صدر ہوں گے جو عہدہِ صدارت ملنے سے قبل کسی بھی سیاسی تجربے یا ذمے داری سے عاری ہیں۔ مگر آئزن ہاور کے برعکس ٹرمپ کو ریپبلیکن پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ اب تک ایک غیر سنجیدہ گیٹ کریشر اور آؤٹ سائڈر تصور کرتی آئی ہے۔ بش خاندان سمیت کسی قابلِ ذکر ریپبلیکن رہنما نے ٹرمپ کی تادمِ تحریر کھل کے حمایت نہیں کی بلکہ کئی ریپبلیکنز نے تو کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ اگر ٹرمپ صدارتی امیدوار بن جاتے ہیں تو ہم ان کے مقابلے میں ہلری کو ووٹ دیں گے۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ ٹرمپ جیسا رنگین مزاج، منہ پھٹ آؤٹ سائڈر جس نے انیس سو ستاسی میں اعلان کیا کہ اسے امریکی صدارتی امیدوار بننے سے کوئی دلچسپی نہیں اور پھر اسی ٹرمپ نے دو ہزار چودہ میں اعلان کیا کہ وہ صدارتی امیدوار بن کے رہے گا۔ کیا وہ واقعی اگلے چند ماہ کے دوران ایک سنجیدہ صدارتی امیدوار ثابت ہوں گے؟ ایسا کیوں ہے کہ امریکا کے پاس ہر شعبے میں وافر تعداد میں بہترین دماغ موجود ہیں لیکن اس الیکشن میں انھیں ٹرمپ جیسے غیر سیاسی اور ہلری جیسے اوسط ذہانت کے صدارتی امیدواروں میں سے کسی ایک کو صدر چننا پڑے گا؟

امریکا میں آخری بڑی معاشی ہل چل رونالڈ ریگن کے دور میں ہوئی جسے ’’ریگنامکس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تب سے اب تک واشنگٹن میں جتنی بھی صدارتی تبدیلیاں ہوئیں وہ تیزی سے بدلتے حالات میں امریکن مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو بہت زیادہ مطمئن نہ کر سکیں۔ گلوبلائزیشن کا عمل تیز ہونے کے سبب امریکی ملازمتیں آؤٹ سورس ہونے لگیں۔ چین کا معاشی جن تیزی سے جوان ہوتا چلا گیا اور پیداواری لاگت میں امریکا کا سب سے بڑا حریف بن گیا۔ اس عرصے کے دوران امریکا نے افغانستان اور مشرقِ وسطی میں جو جنگیں مول لیں انھوں نے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کیا اور پھر نائن الیون کا تھپڑ جس نے امریکیوں کے احساس عدمِ تحفظ کو مسلسل بڑھاوا دیا۔ آخری جھٹکا دو ہزار آٹھ کی کساد بازاری نے دیا جس کے سبب تنخواہیں بے معنی ہوتی چلی گئیں اور رہائشی لاگت بڑھتی گئی۔

اس پس منظر میں جب غیر سیاسی ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سیاست کے روائتی ٹھیکیداروں کے قلعے میں کودا تو ہلچل مچ گئی۔ اور یہ منظر ڈیموکریٹ دوڑ میں بارنی سینڈرز کے کودنے سے اور دلچسپ ہو گیا۔

سرمایہ دارانہِ نظام کے قبلہِ اول میں بارنی سینڈرز کا یہ کہنا کسی انقلاب سے کم نہیں کہ وہ سوشلسٹ ہے اور وال اسٹریٹ کے خون چوس ساہوکاروں سے امریکی نظامِ معیشت کی جان چھڑانا چاہتا ہے۔ سرد جنگ کے عروج میں اگر یہی بارنی سینڈرز اس سے آدھی بات بھی کرتے تو کیمونسٹ قرار دیے جانے کے بعد راندہِ درگاہ ہو جاتے۔ لیکن یہ اکیسویں صدی کا امریکا ہے جہاں کچھ بھی ہونا حیران کن نہیں۔

بارنی اور ٹرمپ کی متضاد شخصیات اور انداز نے موجودہ الیکشن مہم میں ایسی برقی رو دوڑا دی جس کے ہوتے دیگر تمام ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ صدارتی خواہش مند ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے فرسودہ نمایندے قرار پائے۔ اگر ٹرمپ نے اپنے تمام ریپبلیکن حریفوں کا یکے بعد دیگرے صفایا کر دیا تو بارنی بھی اب تک ہلری کلنٹن کو ہر پرائمری الیکشن میں لوہے کے چنے چبوا رہے ہیں۔ ہلری عورت ہیں مگر ڈیموکریٹک پارٹی کی حمائتی عورتوں کی اکثریت ستتر سالہ بارنی سینڈرز کے ساتھ ہے۔ برنی کی انتخابی مہم کو عملاً نوجوان لڑکے لڑکیاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ جب کہ وال اسٹریٹ کے چندے باز ساہو کار ہلری کے ساتھ ہیں۔

امریکی میڈیا دونوں گیٹ کریشرز میں سے واضح طور پر ٹرمپ کی حمایت میں لنگوٹ کس کے کود پڑا ہے۔ سی این این، اے بی سی، این بی سی، فوکس نیوز ٹرمپ کے اسیر ہیں۔ میڈیائی کوریج پر نگاہ رکھنے والے ایک ادارے ٹنڈر سینٹر کے سروے کے مطابق دو ہزار پندرہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مین اسٹریم امریکی میڈیا نے بارنی سینڈرز کے مقابلے میں بتیس گنا زائد کوریج دیا۔ اے بی سی نے اگر اکیاسی منٹ ٹرمپ کو دیے تو بیس سیکنڈ بارنی کو دیے۔ اگر یہ کوریج الٹا ہو جاتا تو آج بارنی ریپبلیکن ٹرمپ کی طرح واحد ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار رہ جاتے اور ہلری اب تک مقابلے سے دستبردار ہو چکی ہوتیں۔

امریکی صدارتی امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے چندوں اور سپانسر شپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ارب پتی پراپرٹی ٹائیکون ٹرمپ کو چندے کی حاجت نہیں۔

ٹرمپ کھل کے ایک عام امریکی (جو اپنی ریاست اور ذاتی روزگار سے باہر کے بارے میں کم ہی سوچتا ہے) کے سلامتی اور اقتصادی احساسِ عدم تحفظ کو ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً ہسپانوی نژاد ووٹرز بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ کو یہ کہنے میں کبھی عار نہیں ہوا کہ میکسیکو (ہسپانوی نژاد اکثریت کا ملک) سے جتنے بھی لوگ غیر قانونی طور پر امریکا آ رہے ہیں ان میں سے اکثریت منشیات کے عادی جرائم پیشہ ریپسٹ لوگوں پر مشتمل ہے۔ صدر بننے کے بعد وہ میکسیکو سے ملنے والی سرحد پر اونچی دیوار بنائیں گے اور خرچہ میکسیکو سے وصول کریں گے۔

مسلمان امریکی ووٹ بینک کا آٹھ فیصد ہیں۔ مگر ٹرمپ کھل کے کہتے ہیں کہ جب تک مسلمانوں کے بارے میں ہم یہ طے نہیں کر لیتے کہ وہ کس قماش کے لوگ ہیں تب تک ان کے امریکا میں داخلے پر پابندی رہنی چاہیے۔ وہ کبھی بھی شامی پناہ گزینوں کو امریکا میں دیکھنا پسند نہیں کریں گے کیونکہ کون جانتا ہے کہ ان میں کتنے دولتِ اسلامیہ کے ایجنٹ ہیں۔ دہشت گردوں کو نہیں ان کے خاندانوں کو بھی ختم کر دینا چاہیے۔ میں منتخب ہو گیا تو نہ صرف واٹر بورڈنگ (تشدد کا ایک بہیمانہ طریقہ) بلکہ اس سے بھی زیادہ موثر طریقے متعارف کروائے جائیں گے۔

ٹرمپ امریکی معیشت کے تحفظ کے لیے تجویز کرتے ہیں کہ درآمدات بالخوص چینی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔ بقول ٹرمپ ’’میں پوری زندگی لالچی رہا لیکن اب میں اپنے لیے نہیں بلکہ امریکا کے لیے دولت جمع کرنے کا لالچی ہوں۔ میں صدر بن گیا تو ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ کے بارے میں سوچوں گا۔ ہماری خارجہ پالیسی ایسی ہونی چاہیے کہ دوسرے انتظار ہی کرتے رہیں کہ اب امریکا اگلا قدم کیا اٹھانے والا ہے۔

ٹرمپ خواتین کے بارے میں ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو عام طور سے مردوں کی محفلوں میں ہی قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔ مگر چینلز کی ریٹنگ کی لالچ زندہ باد … مثلاً ہلری کلنٹن کے بارے میں انھوں نے گزشتہ برس ٹویٹ کیا کہ ’’جو اپنے شوہر کو مطمئن نہ کر سکے وہ امریکا کو کیا مطمئن کرے گی‘‘ …

حیرانی کی بات یہ ہے کہ امریکی ووٹروں کے کم وبیش ہر غیر سفید فام حصے اور خواتین کو ناراض کرنے کے باوجود ’’وائٹ امریکن ریپلیکنز‘‘ انھیں صدارتی امیدوار کے آخری منڈب تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ بقول شخصے ٹرمپ کے صدارتی امیدوار بننے سے سب سے زیادہ خوشی دو لوگوں کو ہو گی۔ ایک ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسری ہلری کلنٹن۔ بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'
---------------------------
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے