برطانوی لیبر پارٹی کے پاکستانی نژاد رکن صادق خان لندن کے میئر بن گئے۔ غیرسرکاری حلقوں نے انتخابات کے نتائج سے قبل ہی اس استحقاقی جیت کا ذکر کر دیا تھا۔

بس ڈرائیور کا بیٹا یورپ کے اس اہم ترین دارالحکومت کا میئر بن گیا جو ایک طویل سامراجی اور تہذیبی تاریخ رکھتا ہے۔ تاہم صادق خان اپنی شناخت، مذہب یا پاکستانی نژاد ہونے کی بنیاد پر نہیں جیتا بلکہ ایک ایسے برطانوی ہونے کی بنیاد پر کامیاب ہوا جس کی اپنی اور کسی بھی دوسرے برطانوی کی ہم وطنی میں کوئی فرق نہیں۔ وہ ریاست، ہم وطنی اور ذاتی اہلیت کے حقیقی معنی کے ضمن میں جیت کا مستحق ٹھہرا۔

تقریبا دو دہائیوں سے یورپ اپنے افکار اور نظریات کے ذریعے ریاست کے معنی کی پختہ سالی میں مصروف عمل ہے۔ ہم وطنی کے تحت "سماجی معاہدے" کو زیربحث لا کر اس آئندہ معنی کو واضح کیا گیا۔ وہ معنی یہ ہے کہ انسان اپنی وابستگی کے مقام کی یا اپنی پیدائش کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاتا بلکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔

صادق خان کی جیت ان ہزاروں افراد اور پناہ گزینوں کے سامنے ایک کامیاب اور شاندار نمونہ پیش کرتی ہے جو اچھی زندگی گزارنے کے واسطے یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ جیت اس بات کا پیغام ہے کہ یہ ممالک مضبوط اداروں اور نظام کے پابند ہیں اور یہ کہ اپنی مستقبل کی شناخت میں ضم ہو جانے سے آپ کے لیے اس ملک کے اصل باشندوں کے مساوی مواقع یقینی ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ قوانین، نظام اور ثقافت کی پاسداری کے ذریعے حاصل ہونے والے میل ملاپ، شناخت کی سمجھ بوجھ اور ہم وطنیت کے اثبات کا نتیجہ ہے۔

صادق خان، بس ڈارئیور کا بیٹا، مسلمان، پاکستان سے ہجرت کرنے والا، یہ تمام عوامل اسے انگریزوں کا مقابلہ کرنے اور اہل وطن کے ووٹوں کے ذریعے اس منصب تک پہنچنے سے نہ روک سکے۔ یہ ریاست سے تعلق، ہم وطنی کو یقینی بنانے اور میل ملاپ اور گھل مل جانے کی سادہ سی مثال ہے۔

بشکریہ روزنامہ "عکاظ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے