بہت سے لوگ اور جماعتیں سعودی عرب اور مصر کے درمیان تعلقات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ان میں سب سے نمایاں اخوان المسلمون اور مصر کا بایاں بازو ہے۔ان میں ناصری اور نام نہاد شہری حقوق کے گروپ بھی شامل ہیں۔ان تمام کو 25 جنوری کے کارکنان کی چھتری کے زمرے میں بھی لایا جاسکتا ہے۔

یہ سب سعودی عرب اور مصر کے تعلقات کو تہس نہس کرنے کے درپے ہیں کیونکہ اس تعلق سے دونوں ملکوں کا درجہ اور قوت بڑھی ہے۔بالخصوص مصر بااختیار ہوا ہے۔وہ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے کیونکہ وہ ابھی تک افراتفری اور بد امنی پر قابو نہیں پا سکا ہے۔

اخوان المسلمون اور ان کی پروپیگنڈا مشین یہ خیال کرتے ہیں کہ الریاض کے قاہرہ کے ساتھ اتحاد سے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں۔خاص طور پر سعودی عرب کی اسلامی اہمیت اور سیاسی ،اقتصادی اور میڈیا صلاحیتوں سے ان کی کوششوں کو روک لگی ہے۔ جہاں تک بائیں بازو اور ناصریوں کا تعلق ہے تو انھیں اپنے سیاسی کلچر کی روایات کے عین مطابق ہمیشہ سعودی عرب کی مخالفت کرنی چاہیے۔

یمن

وہ تمام جماعتیں اور ان سے متاثر گروہ ،مثلاً میڈیا کی شخصیات اور سعودی عرب میں سوشل میڈیا کے کارکنان حتیٰ کہ وہ بھی جو خود کو اخوان المسلمون سے مختلف سمجھتے تھے،ان سب نے یمن میں آپریشن فیصلہ کن طوفان میں مصر کے فوجی اور سیاسی کردار کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی اور سعودی عرب اور مصر کے دو طرفہ تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے جھوٹ پھیلایا۔

لیکن ان کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوگئی ہیں۔سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد عسیری نے منگل کے روزایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اتحاد نے مصر سے یمن میں زمینی دستے بھیجنے کے لیے نہیں کیا تھا کیونکہ ایسا فیصلہ رضاکارانہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''جنگ میں زمینی دستوں کو جھونکنا اتحاد کے منصوبے کا حصہ نہیں تھا کیونکہ وہ یمنی فوج کو کسی بھی زمینی کارروائی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتا تھا۔مصری پائیلٹوں نے فضائی حملوں میں حصہ لیا ہے۔اس کے علاوہ مصر کی بحری افواج نے بھی بھرپور طریقے اس آپریشن میں اپنا کردار ادا کیا ہے''۔

مصری بحریہ نے یمن میں مجاز حکومت کی بحالی کے لیے اتحاد کی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مصر نے پہلے زمینی کارروائیوں میں حصہ لینے کی پیش کش کی تھی لیکن اتحاد نے یہ فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں یمنیوں پر انحصار کرنا زیادہ بہتر رہے گا۔

حکومت پر تنقید ایک چیز ہے لیکن تعلقات کو تباہ کرنے کی کوشش چیزے دیگر است۔ایسی کوشش کرنے والے ناکامی سے دوچار ہوں گے۔

_________________________

(سعودی صحافی مشاری الذایدی العربیہ نیوز چینل کے ویوز آن نیوز کے روزانہ شو ماریا کے میزبان ہیں۔وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں مہمان کے طور پر پیش ہوتے رہتے ہیں۔انتہاپسند گروپ اور ان کے نظریات ان کے خاص موضوعات ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے