فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا:
میرا درد نغمۂ بے صدا میری ذات ذرہ بے نشاں
میرے درد کو جو زباں ملے مجھے آپ اپنا نشاں ملے

کشمیر کی صورتحال کو اس حوالے سے نارمل کہا جا سکتا ہے کہ وہاں اب فورسز پر پتھراؤ کے واقعات میں کمی آ گئی ہے عسکریت پسندی بھی معدوم ہوتی لگ رہی ہے اس کے باوجود وادی عدم اطمینان کے جذبات سے کھول رہی ہے۔ اس کی کوئی ایک وجہ تلاش کرنا مشکل ہے۔ اس کے بے شمار عوامل ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ بھارت کو وادی کے امور سے لاتعلق سمجھا جا رہا ہے کیونکہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق دفاع، امورخارجہ اور مواصلات کے سوا باقی تمام محکمے اور اختیارات کشمیر کو سونپ دیے گئے تھے اور وفاقی حکومت اپنی مرضی سے کشمیر سے کوئی اختیار واپس نہیں لے سکتی، لیکن حکومت ایسا کرنے کی کوشش ضرور کر رہی ہے۔

یہ وہ بات ہے جو بھارت کے اولین وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور کشمیر کے شیخ عبداللہ کے مابین طے پانے والے سمجھوتے میں شامل تھی جب کہ وہ دونوں آپس میں گہرے دوست بھی تھے۔ اس کے باوجود شیخ عبداللہ نے 12 برس حراست میں بسر کیے تاہم نہرو کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور انھوں نے اس سلوک کی تلافی کے طور پر شیخ عبداللہ کو وزیراعظم ہاؤس میں بلا کر ٹھہرا لیا۔ آخر ایک وزیراعلیٰ جس کے مرکزی حکومت کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہوں وہ وادی کو خود مختاری کا تاثر بھلا کر کس طرح دے سکتا ہے؟ یہی وہ سوچ ہے جس سے ریاست کی تمام سیاسی جماعتیں پریشانی کا شکار رہتی تھیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق نہیں ہونا چاہیے وہ آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرانا چاہتے ہیں، جس کے تحت کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے حالانکہ وہ لوگ نہ صرفآئین سے انحراف کر رہے ہیں بلکہ کشمیریوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔

بدقسمتی سے حکمران بی جے پی کا نکتۂ نظر مختلف ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے رویے سے وادی میں ایک دھڑکا سا لگا محسوس ہوتا ہے۔ ماضی میں کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کی بات کوئی نہیں سنتا تھا لیکن اب ان کی طرف بہت سے کان لگے ہوئے ہیں بلکہ ان کانوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت کو یہ بات سراہنی چاہیے کہ کشمیری سری نگر کے لیے مزید اختیارات طلب نہیں کر رہے۔ نیشنل کانفرنس نے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت سے نجات کے لیے بڑی طویل جنگ لڑی جس میں اس کی قیادت شیخ عبداللہ جیسے مقبول عام لیڈر کے ہاتھ میں تھی جو ریاست میں سیکولر جمہوری حکومت کا قیام چاہتے تھے۔

لیکن اسمبلی کے انتخابات میں یہ پارٹی ہار گئی کیونکہ اس کی قیادت نئی دہلی کے بے حد قریب سمجھی جاتی تھی۔ پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) جیت گئی کیونکہ اس کے بانی مفتی محمد سعید نے نئی دہلی سے ایک فاصلہ برقرار رکھا تھا لیکن اس کے ساتھ کوئی مغائرت بھی نہ کی۔ کشمیریوں نے انھیں ووٹ دیے کیونکہ انھیں محسوس ہوا تھا کہ مفتی سعید نے بھارت کے سامنے سر تسلیم ختم کرنے سے انکار کیا ہے۔ شیخ عبداللہ کے بیٹے عمر فاروق کو دہلی نواز ہونے کی قیمت ادا کرنی پڑی اور وہ انتخاب میں شکست کھا گئے۔ لندن کے جج لارڈ ریڈکلف نے برصغیر کو تقسیم کرتے وقت کشمیر کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ تقسیم کے کئی سال کے بعد میں نے ریڈکلف کا انٹرویو لیا جس میں اس نے بتایا کہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کشمیر کو اس قدر زیادہ اہمیت حاصل ہو جائے گی جیسا کہ ہوا۔ مجھے اس بات کا احساس چند ہفتے قبل ہوا جب میں ایک اردو جریدے کی پہلی سالگرہ کی تقریب کی صدارت کرنے سرینگر پہنچا۔ بھارت کی تقریباً تمام ریاستوں سے اردو کو دیس نکالا مل چکا ہے۔

حتیٰ کہ پنجاب سے بھی جہاں یہ چند برس پہلے تک سب سے بڑی زبان تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زبان کی اہمیت تقسیم کے فوراً بعد ہی ختم ہو گئی تھی کیونکہ پاکستان نے اسے اپنی قومی زبان بنا لیا تھا۔ کشمیر کو اس بات کا بڑی شدت سے احساس ہے کہ نئی دہلی حکومت اردو زبان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے اور اس زبان کو مسلمانوں کی زبان سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر نئی دہلی حکومت اردو کی حوصلہ افزائی کرے تو کم از کم کشمیریوں کو اپنی بیگانگی کا احساس قدرے کم ہو سکے گا۔وادی کے لوگ بھی بھارت کے دیگر لوگوں کی مانند غریب ہیں چنانچہ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں روزگار ملے جو کہ صرف تعمیر و ترقی کی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے۔

نیز کشمیر میں سیاحت کو خاصا فروغ دیا جا سکتا ہے لیکن وہاں عسکریت پسند بھی موجود ہیں جنھیںکشمیری عوام اپنے طور پر ہتھیار اٹھا کر باہر نہیں نکال سکتے۔ وہ خود بھی خوفزدہ ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عسکریت پنسد جو کر رہے ہیں اس کا مقصد کشمیریوں کو ایک شناخت دلوانا ہے۔ کشمیر میں جو تباہ کن سیلاب آیا تھا اس پر حکومت نے انھیں ایک بڑا پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ وہ اعلان صرف اعلان تک ہی محدود رہا۔ وہ پیکیج انھیں نہیں دیا گیا اور مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا نے بھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کشمیریوں کو وہ پیکیج دیا جائے اور نہ ہی کسی بھارتی لیڈر نے حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کروائی ہے کہ وہ کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ پورا کرے۔ اس لاپرواہی کوکشمیریوں سے دشمنی کے معنی پہنائے گئے۔

مجھے اب بھی یقین ہے کہ اگر بھارت 1953ء میں کشمیر کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے پر سنجیدگی سے عمل کرے کہ دفاع، امور خارجہ اور مواصلات کے سوا باقی تمام محکموں کے مکمل اختیارات ریاست کے حوالے کر دیے جائیں تو وہاں صورتحال بہت بہتر ہو سکتی ہے۔ کشمیری نوجوان اس وجہ سے ناراض ہیں کہ ان کی ریاست کی خصوصی حیثیت کا احترام نہیں کیا گیا حالانکہ اگر انھیں یہ یقین دلایا جائے کہ باقی سارے ملک کی مارکیٹ ان کے لیے کھلی ہے تب بھی ان کی تسلی کا سامان ہو سکتا ہے لیکن صرف یہی ایک بات کافی نہیں ہو گی بلکہ نئی دہلی حکومت کو وہ تمام قوانین واپس لینے پڑیں گے جو ریاست کے باشندوں کو دبانے کی خاطر نافذ کیے گئے ہیں۔

مسلح افواج کو 25 سال قبل خصوصی اختیارات تفویض کیے گئے تھے تاکہ وادی کے غیر معمولی حالات پر قابو پایا جائے۔ وہ قوانین ابھی تک نافذ العمل ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ انھیں ختم کرے اور اس کے ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کو زیادہ ذمے دارانہ طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کرے۔ حالات کا معمول پر آنا بھی دراصل ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ کشمیریوں کو احساس دلانا چاہیے کہ ان کی شناخت کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہو گا اور 1953ء کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے