سعودی عرب میں دہشت گری کا ایک اور صفحہ اس وقت پلٹ دیا گیا جب کچھ عرصہ قبل حکام نے مکہ مکرمہ کے نزدیک ایک دہشت گرد سیل کو تحلیل کردیا۔ اس موقع پر وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور التركی نے نوجوانوں کے درمیان "نامرادی کی صنعت" کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو جال میں پھانسنے کے لیے یہ مُحرک (اُکسانے والے) عناصر کا کامیاب ترین حربہ ہے !

سید قطب جو محرک عناصر میں ایک بڑا نام رہا ہے انہوں نے اپنے بنیادی نظریات میں ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالی اور وہ ہے "برہمی کی صنعت"! سید قطب نے 30 ستمبر 1946 کو الرسالہ جریدے میں شائع ہونے والے اپنے کو "برہمی کے اسکول" کا عنوان دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ " میں تو برہم ہی رہوں گا، اگر میرے بس میں ہوتا تو میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے ان اسکولوں سے دگنی تعداد میں اسکول بناتا اور ان میں لوگوں کو صرف ایک چیز سکھاتا وہ ہے برہمی۔ میرے بس میں ہو تو ایک اسکول قائم کروں اور وہاں سیاست دانوں کی موجودہ نسل پر برہمی سکھاؤں اور ایک اسکول میں ان مصنفین اور صحافیوں پر برہمی کی تعلیم دوں جو ملک میں رائے عامہ کے قائدین شمار کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان وزراء پر برہمی کے لیے بھی ایک اسکول قائم کروں"۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ تخریبی کارروائیاں کرنے والے اور گرفتار یا قتل ہونے والے بعض دہشت گردوں کی شخصیت پر "انسانی حقوق کی سرگرمیوں" کا ٹھپہ لگا ہوا تھا جیسا کہ "مصیبت زدہ کی مدد کرو" مہم کے معاملے میں دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں ظاہر ہوگیا کہ یہ القاعدہ اور داعش کے عناصر کے مجمعے میں تبدیل ہوگئی۔ انسانی حقوق کی یہ مبینہ مہم سعودی عرب کی تاریخ کے بعض پرتشدد ترین مناظر کا ذریعہ بنی۔

الاحساء میں خودکش بمبار عبدالرحمن التويجری، کویت میں شیعہ مسجد میں دھماکا کرنے والا بمبار فهد القباع، مسجد القدیح میں خودکش بمبار صالح القشعمی، ابہا کا بمبار يوسف السليمان، خودکش کارروائیوں کے لیے حملہ آور تیار کرنے والوں میں ريما الجريش، هشام الخضير اور ہادي الشيباني اور ان کے علاوہ عادل المجماج.. یہ تمام لوگ "مصیبت زدہ کی مدد کرو" مہم میں شامل تھے۔

کیا یہ محض اتفاق ہوسکتا ہے ؟!

*بشکریہ روزنامہ "عكاظ"

.......................................................
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے