جب یہ بات ظاہر ہوئی کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں شریک ہونے والے دہشت گردوں میں سے پندرہ سعودی ہیں تو اسی وقت ہمیں اس بات کا ادراک ہوگیا تھا کہ ہم ایسے بحران کے سامنے ہیں جو ہمیشہ دوست اور حلیف بن کر رہنے والے دو ملکوں کے تعلقات میں برسوں تک تک کردار ادا کرتا رہے گا۔ 2001ء کے بقیہ ہفتے اور اس کے بعد آنے والے سال سست روی سے گزرتے رہے یہاں تک کہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنا کام مکمل کرلیا اور سعودی عرب کے اس معاملے سے کوئی تعلق نہ ہونے کی تصدیق کردی۔ تاہم گزشتہ ہفتوں کے دوران ریاض اور واشنگٹن کے درمیان انتہائی درجے کی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ مزید برآن بدترین پیش رفت یہ ہوئی کہ امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کرلی کہ اگر حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ عدالت میں ثابت کردیں کہ حملوں میں سعودی عرب ملوث ہے تو پھر وہ مملکت کے خلاف مقدمات دائر کرسکتے ہیں !

اس سے قبل تاریخ کی ایک سب سے بڑی تحقیقاتی کارروائی میں امریکی تحقیق کاروں اور معائنہ کاروں نے اس جرم (حملوں) سے ادنی درجے کا بھی تعلق رکھنے والوں کی تلاش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا تاہم انہیں سعودی عرب کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ تمام تر شواہد القاعدہ تنظیم کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو خود سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا دشمن ہے اور جس نے انیس سو نوے کی دہائی سے مملکت کے خلاف براہ راست جنگ شروع کر رکھی ہے۔

مشرق وسطی کے امور سے واقف کوئی بھی امریکی سیاست داں، سیکورٹی ماہر یا انٹیلجنس ماہر کسی طور یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ القاعدہ تنظیم کی کسی کارروائی سے سعودی عرب کا کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ خواہ وہ نیویارک اور واشنگٹن یا دنیا میں کسی بھی اور مقام پر کیے جانے والے حملے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بے ہودہ الزام نے حال ہی میں ایک سنجیدہ سیاسی موضوع کا روپ اختیار کیا ہے جب کہ سیاسی تعلق میں مختلف امور کے حوالے سے سردمہری اور نقطہ ہائے نظر کی دوری اور مغرب کے سامنے ایرانی کشادگی دیکھی جارہی ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کرنے والوں کی 28 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت منظرعام پر نہیں لانا چاہتی تھی، تاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو نقصان نہ پہنچے۔ وہ ایسا وقت تھا جب جذبات بھڑکے ہوئے تھے اور ایسے میں جذباتی عناصر غلطیوں اور دانستہ افعال کے درمیان فرق نہیں کرسکتے تھے۔ اسی دوران میں نے ایک سعودی ذمہ دار سے اس رپورٹ کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ ہم نے اس کو روکنے کا مطالبہ نہیں کیا اور ہمیں اس کے جاری ہونے پر بھی کوئی اعتراض نہیں، تمام تر حقائق تحقیقاتی کمیٹی کو معلوم ہیں۔ اب وہ روکے گئے صفحات بھی جاری کردیے گئے ہیں جن کو سعودی عرب کے مخاصم سیاسی جدل میں استعمال کریں گے تاہم یہ کوئی مذمتی دستاویز نہیں ہے۔

القاعدہ تنظیم کی 20 سالہ عمر کے دوران سعودی عرب کا اس دہشت گردی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ مملکت تو تنظیم کے اولین دشمن رہی۔ اس دوران ایران کی القاعدہ کے ساتھ معاملہ بندی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ایران نے القاعدہ کے درجنوں رہ نماؤں کو پناہ دی جو2001 میں امریکی بمباری کے نتیجے میں افغانستان سے فرار ہوگئے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے ان دستاویزات کو جاری کیا گیا جو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی خفیہ پناہ گاہ اور جائے قتل سے امریکیوں کے ہاتھ لگی تھیں۔ ان دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ القاعدہ کے سربراہ نے اپنے آدمیوں کو تحریری ہدایات ارسال کیں کہ وہ ایران کو نشانہ نہ بنائیں اور عراق میں ایرانی شیعوں پر حملے نہ کریں۔ اس لیے کہ ایرانی حکومت القاعدہ کی حلیف ہے جو ان کو مالی رقوم، افرادی قوت، ہتھیار اور رابطوں کے سلسلے میں سہولتیں پیش کررہی تھی۔ ہم ایران کی حلیف یعنی شام میں بشار الاسد کی حکومت کے کردار کو بھی نہیں بھول سکتے جس نے القاعدہ کے ہزاروں جنگجوؤں کی میزبانی کی۔ بعد ازاں یہ جنگجو سرحد عبور کر کے عراق میں داخل ہوئے اور امریکی افواج کے خلاف زیادہ تر کارروائیاں کا حصہ بنے۔ ان کارروائیوں میں تقریبا چار ہزار امریکی فوجی مارے گئے۔

ریاض اور واشنگٹن کے درمیان اختلافی موضوعات مرکزی نوعیت کے نہیں ہیں۔ ماضی میں ان میں مشکل ترین معاملہ شدت پسندوں کی سرگرمیوں، شدت پسند مبلغین، عطیات جمع کرنے والوں اور میڈیا میں القاعدہ کی حمایت سے متعلق گردش میں رہتا تھا۔ یہاں تک کہ سعودی وزارت داخلہ فکری طور پر دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ڈھانچوں کو منہدم کر دینے میں کامیاب ہوگئی۔ اس نے "جہادیوں" کی بھرتی، عطیات جمع کرنے یا اس کے لیے پروپیگنڈہ میں کردار ادا کرنے والے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا۔ ان سب سے بڑھ کر سعودی عرب نے امریکی وفاقی تحقیق کاروں کے لیے ان تمام مشتبہ اور مشکوک امور کی تحقیق کے لیے دروازے کھول دیے جو تحقیقات کے دوران پیش کیے گئے تھے۔

گرد کے حالیہ طوفان کے ساتھ امریکا ایران تعلقات میں بڑی تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں تعلقات کے مشترکہ ویژن کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کی جانی چاہیں۔ تہران، جس نے واشنگٹن کے خلاف معاندانہ پالیسی اپنا رکھی تھی اب تیس برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد یہ انکشاف کر رہا ہے کہ مخاصمت کے سبب نقصان اٹھانے والا وہ اکلوتا فریق ہے لہذا اس نے مصالحت اور دست برداری کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایرانی نظام کی فطرت اسے حقیقی طور پر مغرب کی جانب ڈھلنے اور اس کے ساتھ دائمی تعلقات برقرار رکھنے سے روکے گی۔ * بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے