جب لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کا بم دھماکے میں قتل ہوا تو حزب اللہ نے عجیب وغریب تھیوریاں پیش کی تھیں اور اسرائیل کو اس جُرم میں ملوث بڑا مجرم قرار دیا تھا۔ہمیں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی وہ مشہور زمانہ تقریر یاد ہے۔ اس میں انھوں نے ایسے نقشے اور ویڈیوز دکھائی تھیں جو ان کی جماعت کے مؤقف کی تائید کرتی تھیں۔مگر انھوں نے جو کچھ بھی دکھایا،وہ واقعات کے تسلسل کے بالکل برعکس تھا۔

حسن نصراللہ اپنی جماعت اور شامی حکومت کو اس قتل سے بری الذمہ قراردینا چاہتے تھے اور لوگوں کی توجہ دوسری جانب مرکوز کرانا چاہتے تھے۔انھوں نے اس بم حملے میں استعمال کی گئی کار کے بارے میں تنازعے کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی تھی حالانکہ بین الاقوامی تفتیش کار ڈیٹلیو محلیس نے اس کار کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بیروت کے علاقے الضاحیہ کی جانب سے آئی تھی۔

تاہم جب حزب اللہ کے بعض کمانڈروں کی ہلاکت ہوئی ہے تو اس نے اسرائیل کو بری الذمہ قراردینے کی کوشش کی ہے۔حسن نصراللہ نے ٹیلی ویژن پر اپنی حالیہ نموداری کے دوران میں اس بات پر اصرار کیا ہے کہ مصطفیٰ بدرالدین ''تکفیری'' گروپوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔انھوں نے بدرالدین کے قتل کے تمام بیانیے میں سے اسرائیل کو نکال دیا ہے۔

رفیق حریری کے قتل کے بعد حزب اللہ ہمیشہ یہ سوال کرتی رہی تھی:''حریری کے قتل سے کس کو فائدہ پہنچا تھا؟''تاہم جب بدرالدین کے قتل کا معاملہ آیا ہے تو وہ ایک اور سوال پوچھ رہی ہے.''دشمن کون ہے؟''

دُہرے معیارات

حزب اللہ ملیشیا شامی عوام اور اعتدال پسند شامی باغی گروپوں سے لڑرہی ہے۔یہ شامی عوام کے حقوق کے خلاف لڑرہی ہے مگر سب سے عجیب بات یہ ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کو مصطفیٰ بدرالدین کے قتل سے بری الذمہ قرار دے رہی ہے لیکن وہ صہیونی ریاست کے رفیق حریری کے قتل میں ملوّث ہونے پر اصرار کرتی رہی ہے۔اس سے اس کی ابو عدس اور دوسری من گھڑت کہانیوں کے ذریعے پھیلائی گئی منطق بھی اظہر من الشمس ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کے لبنان کے بارے میں خصوصی ٹرائبیونل کی جانب سے فرد جرم کے اجراء کے بعد لوگ یہ جان گئے تھے کہ حزب اللہ ،اس کے کمانڈر اور شامی حکومت سیاسی شخصیات کے قتل میں ملوث ہیں کیو نکہ وہ ان سے متفق نہیں تھیں لیکن قسمت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں اور حزب اللہ اب اسی کپ سے پی رہی ہے جس سے جبران ،سمیرقصیر اور رفیق حریری نے پیا تھا۔

اسرائیل سے زیادہ خطرناک یہ ملیشیائیں ہیں جو اسرائیل کو حالات اور اپنے مفادات کی بنیاد پر برّی الذمہ یا ذمے دار قرار دیتی ہیں۔
_________________

ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:@TurkiAldakhil.

العربیہ ڈاٹ نیٹ کا ان کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے