جنگ کا اصول ہے کہ مقصد پوری طرح واضح ہو اور اس میں کسی بھی مرحلے پر تبدیلی نہ لائی جائے ورنہ شکست مقدر بن جاتی ہے۔ اسے ہم Maintenance of Aim کہتے ہیں۔ اس تناظر میں امریکہ کا افغانستان کیخلاف جنگ کا مقصد 9/11کے حملے کا بدلہ لینا تھا جس کیلئے افغانستان کا انتخاب کیا گیا جو روسیوں کیخلاف جنگ اور آٹھ سالہ خانہ جنگی کے بعد تباہ حال تھا۔ اس کیخلاف امریکہ نے پوری طاقت استعمال کی 'Shock and Awe' حکمت عملی کا بدترین مظاہرہ کیا اور امریکی قوم کو یہ پیغام دیا کہ‘‘دیکھو ہم نے بدلہ لے لیاہے۔’’امریکہ نے چند مہینوں میں افغانستان پر قبضہ کر لیا’اپنی مرضی کی حکومت بنائی اور ایک سال کی مدت میں جنگ کا مقصد حاصل کر لیا۔ اسکے بعد امریکہ اور اسکے اتحادی جنگ کے مقصد سے ہٹ کر سازشوں میں الجھ گئے اور یہیں سے انکی شکست کے آثار نمایاں ہوئے جو آج انکی پسپائی اور ناکامی کی عبرتناک تصویر پیش کرتے ہیں۔اسکے برعکس افغان طالبان دوبارہ منظم ہوئے اورآزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ انکی جنگ کا مقصد بڑا واضح تھا جو ملا عمر نے میرے سوال کے جواب میں بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا تھا ’جسے میں بار بار دہراتا رہا ہوں تاکہ ہم اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں تو افغانستان میں بہت جلدقیام امن ممکن ہوگا۔ مئی 2003 میں جو پیغام مجھے ملا وہ یہ تھا:
 

’’ہم نے اپنی آزادی کے حصول تک جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اورانشاء اللہ ہم فتحیاب ہونگے۔ جب ہم آزادی حاصل کرلیں گے تو اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے ایسے فیصلے کرینگے جوتمام افغانوں کیلئے قابل قبول ہونگے ’اب ہم ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔‘‘ ہمارے لئے امریکی ایجنڈے پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے اسلئے کہ ایسا فیصلہ کرنے کا ہماری روایات اور قومی غیرت اجازت نہیں دیتیں۔’’اب ہم امریکہ اور پاکستان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے جیسا انہوں نے 1989-90میں روس کی پسپائی کے بعد کیا تھا۔مستحکم اور پرامن افغانستان کی خاطرہم شمالی اتحاد کے ساتھ مل کر قیام امن کی راہیں استوار کرینگے اور اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی اورتعاون پر مبنی تعلقات قائم کرینگے۔"ہمارے خلاف امریکہ کی جنگ میں پاکستان ہمارے دشمنوں کا شراکت دار رہا ہے لیکن اسکے باوجودوہ ہمارا دشمن نہیں ہے۔ پاکستان ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہماری سلامتی کے تقاضے اور مفادات مشترک ہیں اور ہماری منزل ایک ہے۔ " ہمیں مستقبل میں ایک سخت جدوجہد درپیش ہوگی لیکن ہم پرامید ہیں کہ ہم اس سے بخیروخوبی عہدہ برآہوں گے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ : ’’بالآخر تمہارے دشمن پیٹھ پھیرپھیر کر بھاگ جائینگے۔ ‘‘
 

ملا عمر کے ان الفاظ میں جنگ کا مقصد اور غیر متزلزل عزم بڑا واضح ہے اور آج تک اس میں ذرہ برابربھی کمزوری یا تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان کیخلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔سازش یہ ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کافی عرصے سے طالبان کے ساتھ شراکت اقتدار کی کوشش میں ہیں لیکن طالبان کو امریکہ کی سرپرستی میں چلنے والی حکومت میں شریک اقتدار ہونا منظور نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی افغانستان سے مکمل انخلا کریںتو بات ہو سکتی ہے۔ امریکہ بھی اس حقیقت کو جانتا ہے کہ افغانستان میں سب سے زیادہ موثر اورحاوی قوت طالبان ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا اپنی ہتک سمجھتاہے حالانکہ گذشتہ پچیس برسوں سے افغانستان میں یہی طالبان چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ’جس میں پاکستان بھی شامل ہے، پہلے ملا عمر اوراب ملا منصور کی قیادت میں شکست دی ہے۔

طالبان ایک مضبوط حکمت عملی کے تحت افغانستان پر اپنے تسلط کو بڑھاتے جارہے ہیں۔ گذشتہ سال بھی میں نے کہاتھا کہ طالبان سردی کے موسم میں بڑے بڑے حملے کرکے اپنی دھاک بٹھائیں گے اور ایساہی ہواہے۔ پاکستان کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک کا امدادی بیس (Support Base) فاٹا سے نکل کر کابل کے شمال میں منتقل ہو چکا ہے اور یہاں انکی قوت میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ انہیں تاجکستان‘ ازبکستان ترکمانستان اور شرقی ترکستان (سنکیانگ) اور دوسرے ممالک کے جہادیوں کی مدد حاصل ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ طالبان کے اس نئے امدادی بیس تک انکے دشمن ممالک کو رسائی حاصل نہیں ہے۔فاٹا میں تو پاکستان کو رسائی حاصل تھی لیکن اب وہ مطمئن ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی نئی حکمت عملی پر عمل پیراہیں۔امریکہ پاکستان پر دباو ڈال رہا ہے کہ حقانی گروپ کیخلاف کاروائی کی جائے لیکن پاکستان بے بس ہے ’اس لئے کہ حقانی گروپ اور ان کے اہل و عیال یہاں سے جا چکے ہیں۔ امریکہ اور اتحادیوں پر عجب بے بسی کا عالم ہے۔طالبان کانیا سپورٹ بیس قندوز کا صوبہ ہے جو حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یا ر کا آبائی علاقہ ہے لیکن وہاں حکمت یار کی جماعت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔یہ چار ممالک (QCG) جو افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں انہیں زمینی حقائق کا اندازہ ہونا چاہیئے۔ان میں چین کے علاوہ تین تو طالبان کے دشمن ہیں جو ان کیخلاف جنگ لڑتے رہے ہیں۔ ان دشمنوں میں امریکہ اور افغان حکومت نمایاں ہیں۔

طالبان نے جنگ کرکے انہیں شکست دی ہے اور یہی ممالک افغانستان میں امن کی راہوں کی تلاش میں ہیں جو قانون فطرت کیخلاف ہے کیونکہ ناکام اور شکست خوردہ قوتیں مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا کرتیں۔ اشرف غنی کی حکومت امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ قیام امن کی کنجی جس قوت کے پاس ہے اسے افغانستان میں اقتدار کی حدود سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔1990 ء کی دہائی میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا کہ جولوگ اقتدار کے اصل وارث تھے ’یعنی افغان مجاہدین‘ انہیں اقتدار نہ ملا اور خانہ جنگی کرائی گئی جس کے نتیجے میں طالبان ابھرے۔اب بھی وہی کہانی دہرانے کی کوشش ہے۔ طالبان ان سازشوں کو سمجھتے ہیں اور وہ اپنے مقصد میں یکسو ہیں۔ان تمام سازشوں سے وہ پوری طرح واقف ہیں اور اب دھوکے میں نہیں آئینگے۔

لاس وقت زمینی صورت حال یہ ہے کہ طالبان نے چند بڑے شہروں کا رابطہ کابل سے کاٹ دیا ہے۔ مثلاً تاجکستان سے قندوز آنے والی سڑک پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔طالبان اس سڑک کو اپنی ضرورت کے مطابق کھولنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یعنی اپنے لیے ہتھیاروں اور خوراک کی ضرورت کے وقت راستے کھولتے ہیں۔ ان کوکمک کون بھیجتا ہے’یہ چار ملکی اتحادQCGکے سوچنے کی بات ہے۔اسی طرح مزار شریف جو ایک بڑاتجارتی مرکز ہے جہاں سے وسطی ایشیا کو راستے جاتے ہیں۔ یہ راستہ بھی طالبان نے بلاک کر دیا ہے۔ابھی دو دن پہلے طالبان نے صوبہ بغلان کے مرکزی شہر پل خمری میں افغانستان ملٹری اکیڈمی پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا ہے اور ایک درجن سے زیادہ ٹینک اور دیگر جنگی سامان تباہ کر دیا ہے۔


اب حالات کچھ ایسے ہیں جیسے 1994 میں تھے کہ جب طالبان نے پیش قدمی شروع کی تو ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے افغان فوج اور پولیس ہتھیار ڈالتی گئی۔ قندوز‘ مزار شریف اور پل خمری کی جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ افغان فوج اور پولیس میں طالبان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔رہا یہ سوال کہ پاکستان اس چار ملکی اتحاد میں کیوں شامل ہوا تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی حکومت کایہ فیصلہ 2001 میں جنرل مشرف کے فیصلے سے اخذ کیا گیا ہے جب ہم امریکہ کے ساتھ اسکی نام نہاد جنگ میں شامل ہوئے اوراپنے پڑوسی برادر اسلامی ملک پر امریکہ کو حملے کی اجازت دی۔ طالبان آزادمنش لوگ ہیں وہ آزاد فضا میں ہی فیصلہ کرتے ہیں اور مضبوط فیصلہ کرتے ہیں۔ افغان قوم میں یہ خوبی بھی ہے کہ وہ قوم پرست ہیں۔اس چھتیس سال کی جنگ میں جبکہ اکثر اوقات نظام حکومت تتر بتر رہا ہے اس دوران افغانستان کے کسی علاقے یا کسی قوم نے بھی الگ ہونے یا تاجکستان’ازبکستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کی کوشش نہیں کی بلکہ دسمبر 2012 میں جب پیرس میں انٹرا افغان مذاکرات ہوئے تو ان کا متفقہ فیصلہ یہی تھا کہ ’’ہمیں آزاد چھوڑدو’ہم اپنے معاملات خود طے کر لیں گے‘‘ لیکن انکی اس آواز کو دبا دیا گیا۔پاکستان‘ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ افغانستان میں اسلامی حکومت ناگزیر ہے۔اگر افغانستان میں طالبان کی حکومت بنے گی تو داعش کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ہر حال میں یہی طالبان پورے افغانستان پر قابض ہونگے۔حالات خراب ہونے سے پہلے بہتر ہے کہ طالبان کے مطالبات مان لیے جائیں اور انکے ساتھ مذاکرات کیے جائیں کیونکہ حالات اور وقت کا یہی تقاضا ہے۔

بشکریہ نوائے وقت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔‎

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے