شام کے شہر الرقہ کے لیے جنگ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔منگولوں نے اس شہر قبضہ کیا اور اس کو تباہ کردیا تھا۔وہ اس وقت تک اس شہر میں موجود رہے تھے جب تک انھیں وہاں سے نکال باہر نہیں کیا گیا تھا۔اس کو بالآخر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے قبضے سے بھی آزاد کرا لیا جائے گا۔اس جنگجو گروپ نے اس شہر کے باسیوں کے خلاف ناقابل تصور ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے ہیں۔اس کی عکاسی اور تشہیر داعش کے جنگجو خود ہی کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے قتل عام کیا،لوگوں کو چھتوں سے نیچے گرا دیا،اسکولوں میں لڑکیوں کی عصمت ریزی کی ،غیرملکیوں کو قتل کرنے کی خبریں پھیلائیں ،لوگوں کو جبری مشقت کے لیے یرغمال بنایا۔الرقہ سفاکیت اور بہیمیت کا عالمی دارالحکومت بن چکا ہے۔

داعش نے اس شہر کو تیل کے کنووں اور تیل کی تنصیبات کی بنا پر اپنا دارالحکومت منتخب کیا تھا تاکہ ان کی ریاست کے لیے رقوم کی ترسیل کا سلسلہ جاری رہے۔وہ کسی کو بھی تیل فروخت کرسکیں۔وہ کوئی ایسا معاہدہ کرسکیں جس سے ان کی شامی رجیم کے ساتھ مصالحت ہوسکے اور شامی حکومت ہی داعش سے تیل کی بڑی خریدار ہے۔تیل کی خرید کے بدلے میں داعش شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے طور پر خدمات بجا لاتے رہے ہیں اور وہ جیش الحر اور حزب اختلاف کے دوسرے دھڑوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔

الرقہ کی جنگ امریکا کی قیادت میں اتحاد کا سب سے اہم فوجی اور سیاسی کام ہے۔امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو ایک بڑی پروپیگنڈا مہم سر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کو اپنی شام پالیسی کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگر الرقہ کو آزاد کرا لیا جاتا ہے تو پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی شب خون کارروائی میں ہلاکت کے بعد یہ اوباما انتظامیہ کی بڑی عسکری کامیابی ہوگی۔

الرقہ کی آزادی اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے نہ صرف داعش کے دارالحکومت بلکہ اس کی خلافت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔اگر امریکی اتحاد داعش کے ہزاروں جنگجوؤں کو ہلاک کرنے یا ان کے مضبوط گڑھ سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے النصرۃ محاذ سمیت دوسرے انتہا پسند گروپوں کو بھی ایک مضبوط پیغام جائے گا۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟

اس فتح کو بڑے جوش وجذبے کے ساتھ ٹی وی پر بیان کیا جائے گا لیکن اس کے نتائج صرف برسر زمین ہی محدود رہیں گے۔ہم ماضی میں دہشت گرد گروپوں کو چوہوں کی طرح بھاگتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔انھوں نے ایک جگہ سے بھاگنے کے بعد دوسری جگہ اپنی خفیہ کمین گاہیں بنالیں اور پھر لڑائی میں شریک ہوگئے۔

عراق کے مغربی صوبے الانبار میں داعش کو شکست سے دوچار کیا گیا ہے اور وہ وہاں شکست کے بعد شمالی شہر موصل تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ الرقہ میں بھی ایسا ہی معاملہ پیش آئے گا اور پھر انھیں شام کے دوسرے شہروں میں ہدف بنایا جائے گا۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد الرقہ کو آزاد کرا لیتا ہے تو اس کے بعد پروپیگنڈے کے حاصلات کے باوجود وہ داعش کے خطرے کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ یہ تنظیم شام میں طوائف الملوکی کے سہارے زندہ ہے اور اسد رجیم کی مجرمانہ کارروائیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

قریباً پانچ لاکھ شامی گذشتہ پانچ سال کے دوران لڑائی میں مارے جاچکے ہیں اور لاکھوں دربدر ہیں یا اپنے پیاروں سے محروم ہوچکے ہیں۔ایران ،حزب اللہ اور روس کی مدد سے سنگین جرائم کا مرتکب اسد رجیم داعش سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔

وہ بشارالاسد کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔داعش اگر اسد رجیم کو ہدف بنانے کا پھر سے نعرہ بلند کرتے ہیں تو پھر انھیں ہزاروں شامیوں اور دوسروں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ داعش الرقہ میں اپنی خلافت کے قیام کے بعد اسد رجیم پر حملوں سے دست بردار ہوگئے تھے۔

داعش اپنے دارالحکومت سے محروم ہوں گے اور دنیا بھر میں انھیں پروپیگنڈا کی جنگ میں شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔بعد میں شاید عراق میں فلوجہ شہر میں بھی انھیں اسی طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔تاہم ان فتوحات سے عراق اور شام میں دہشت گردوں کا مکمل استیصال نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو ایک شہر سے دوسرے شہر میں چلے جائیں گے۔

--------------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے