ملا اختر منصور ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع دی ہے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے۔اس کے بعدپاک امریکہ تعلقات جو پہلے ہی کمزور تھے، لگتا ہے اب وہ کمزور ہو جائیں گے۔ ملا اختر منصور طالبان کے نئے جانشین بنے تھے۔ وہ پاکستانی حدود کے اندر ڈرون میزائل لگنے سے مارے گئے۔پاکستان نے سفارتی سطح پر ابھی جو مؤقف لیا ہے وہ بہت واضح نہیں ہے کیونکہ ملا اختر منصور کی ہلاکت ابھی تک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ جس گاڑی میں ملا اختر منصور کے مارے جانے کی اطلاع ہے وہ ملا اختر منصور نہیں بلکہ مرنے والا ولی محمد قلعہ عبداللہ کا رہائشی ہے۔ولی محمد ایران سے کرائے کی گاڑی پر آ رہا تھا کہ نشانہ بن گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس واقعہ سے ان مذاکرات کو شدید دھچکا لگا ہے جو بیک ڈور سے طالبان اور امریکہ کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کر رہے تھے جن میں پاکستان بھی پیش پیش تھا۔ امریکہ کی سینٹ نے پاکستان کے بارے میں جو قرارداد پاس کی ہے اس کے بعد پاک امریکہ تعلقات بحال ہونے میں وقت لگے گا۔ کیونکہ امریکہ نے تین تازہ مطالبات پاکستان کے سامنے رکھ دیئے ہیں ۔ قوموں اور ملکوں کے تعلقات ہمیشہ باہمی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ جب تک یہ تعلق قائم رہتا ہے ، گرمجوشی برقرار رہتی ہے مگر یہ رشتہ جیسے ہی کمزور پڑا، تعلقات اوپر سے نیچے آنا شروع ہو جاتے ہیں اور سرد مہری کی ایک دیوار بیچ میں آن کھڑی ہوتی ہے۔

پاک امریکہ تعلقات کی کہانی بھی ایسی ہے کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ کبھی اپنی ضرورت کے مطابق ہمارا دوست اور کبھی دوسری طرف کھڑا نظر آتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں پاک امریکہ تعلقات کی کہانی لیاقت علی خان سے شروع ہوتی ہے جب انہوں نے روس کا دورہ ملتوی کرکے خارجہ پالیسی میں امریکہ کی طرف قدم بڑھائے مگر قائد ملت سے امریکہ کو بہت سی توقعات تھیں۔ خاص طور پر ایران کے تیل کے حوالے سے امریکہ کے جو مفادات وابستہ تھے، لیاقت علی خان نے ایران کو سفارش کرنے سے انکار کیاتو امریکی افشا ہونے والے پیپرز میں بہت سی کہانیاں لکھی گئیں۔ محمد علی بوگرہ بھی پاک امریکہ تعلقات میں وکالت کا کردار ادا کرنے والوں میں شامل تھے۔ پاک امریکہ تعلقات کی خوشگوار ابتدا میں آنے والے تمام حکمرانوں نے اس تعلق کو مضبوط بنانے کیلئے جدوجہد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ برطانوی نو آبادیات سے ابھرنے والے بیورو کریسی نے بھی اپنا رشتہ ہمیشہ واشنگٹن سے جوڑا۔

ایوب خان نے جب مارشل لاء لگایا اور سیاسی حکومت کو چلتا کیا تو بھی پاک امریکہ تعلقات میں کوئی تبدیلی نہ آئی جس سے ان شبہات کو تقویت ملی کہ یہ پیش رفت بھی امریکہ کے ایماء پر ہوئی ہے۔ ایوب خان نے سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کے مقابلے میں امریکہ کا ساتھ دینے کیلئے سیٹو اور سینٹو معاہدوں میں شرکت کر لی تو پاکستان کیلئے مختلف قسم کی امداد کے دروازے کھل گئے اور ہر جگہ تھینک کیو امریکہ کی صدائیں آنے لگیں مگر یہ سیاسی ہنی مون بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔ ایوب خان جب امریکہ کے پہلے دورے پر گئے، ان کا استقبال تو شاندار ہوا مگر یہ پہلا دورہ ہی ناکامی سے دوچار ہوا۔ بھارت کے مقابلے میں 65ء کی جنگ میں امریکہ نے کوئی خاص مدد نہ کی۔ امریکہ نے پاک فضائیہ میں استعمال ہونے والے طیاروں کے سپیئر پارٹس اور دیگر جنگی سامان کی ترسیل بند کردی تاکہ یہ اسلحہ کسی طرح بھارت کے خلاف جنگ میں استعمال نہ ہو جس سے تنگ آ کر ایوب خان نے امریکہ کے بارے میں کہا کہ پاکستان کو آقا کی نہیں دوست کی ضرورت ہے اور اس پس منظر میں انہوں نے اسی نام سے ایک کتاب بھی تحریک کی۔ امریکہ کی سرد مہری دیکھتے ہوئے ایوب خان نے صدارتی انتخاب کرانے کا اعلان کیا۔

ایوب خان کے سرد رویے کی وجہ سے تبدیلی ناگزیر ہو گئی اور مبینہ طور پر ایک ایسی تحریک چلی جس کے بارے میں ایوب کے ساتھیوں کا خیال تھا یہ ایک سازش ہے۔ یحییٰ خان کے دور میں بھی ایوان اقتدار میں امریکہ کی مہمان نوازی کا رجحان غالب رہا۔ مشرقی پاکستان کی کہانی یحییٰ خان کے دور میں ہی لکھی گئی۔ آٹھواں بحری بیڑا مدد کو نہ آیا اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ یحییٰ خان کے دور میں پاکستان نے امریکہ کیلئے بہت سی خدمات سرانجام دیں جن میں ہنری کسنجر کا خفیہ دورۂ چین بھی شامل تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں تعلقات نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے خراب ہوئے۔ جب بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا مصمم ارادہ کر لیا تو بھٹو کو ملنے والے دھمکی کے جواب میں جو کچھ کہا تھا کہ ہم گھاس پھوس کھا لیں گے لیکن ایٹمی پروگرام ہر صورت میں بنائیں گے۔ یہ صورت حال پاکستان کیلئے خاصی مشکل تھی۔ بھٹو کو نشان عبرت بنانے کی جو دھمکی دی گئی تھی وہ مکمل بھی ہوئی۔ جن دنوں بھٹو کے خلاف ملک میں تحریک چل رہی تھی، بھٹو کو اندازہ تھاکہ ان کی مخالف جماعتیں ان کو ہٹانے کیلئے ڈالرز استعمال کر رہی ہیں۔ بھٹو کو جانا پڑا لیکن پاک امریکہ تعلقات کا اگلا دور 1979ء میں اس وقت شروع ہوا جب افغانستان میں سوویت یونین کی یلغار اتنی شدید ہو گئی کہ واشنگٹن کو اپنے تعلقات ایک بار پھراسلام آباد کے ساتھ مضبوط کرنا پڑے اور خاص طور پر جب روس افغانستان سے شکست کھانے کے بعد نکل گیا اور طالبان حقیقت میں کابل پر حکمرانی کرنے لگے۔

پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر او آئی سی کا جو خصوصی اجلاس ہوا اس میں طالبان کے نمائندے بھی شامل تھے۔ 12اکتوبر کو پرویز مشرف اقتدار میں آئے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ امریکی نائب وزیر خارجہ آرمٹیج نے پرویز مشرف کو دھمکی دی تھی آپ فیصلہ کریں کہ کس کے ساتھ ہیں۔مشرف نے امریکہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا جس پر امریکی صدر بش نے ان کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔ پرویز مشرف نے اسی موقع پر سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا۔ 19ستمبر 2001ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی چار ترجیحات کا اعلان کیا جس میں ملکی حفاظت اور سالمیت، نیوکلیئر اور میزائل سٹریٹجک اثاثے اور کشمیر کاز کو سب سے پہلے شامل کیا۔ مشرف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا پہلے پاکستان کی سلامتی پھر کچھ اور۔ میں پاکستان کا سپہ سالار ہوں۔ پہلے اپنے ملک پھر کسی دوسرے کا دفاع ہو سکتا ہے۔ غلط فیصلے سے ملکی بقاء خطرے میں پڑ سکتی ہے اور صحیح فیصلے سے ہمیں مشکلات میں کمی آ سکتی ہے اور اس کے بعد پرویز مشرف نے امریکہ کو شمسی ایئر بیس سمیت جو سہولتیں دے رکھی تھیں اور مشرف نے جتنی خدمات امریکہ کیلئے سرانجام دیں ، اس کے صلے میں اسے ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ پابندیاں لگنے اور اٹھنے کی کہانی بڑی طویل ہے اور مشرف کے دور میں سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھانا پڑا اور پورا ملک مشرف دور میں دہشت گردی کی آگ میں جھلستا رہا۔

حتیٰ کہ خود مشرف دو بار حملوں کی زد سے بچے اور وزیراعظم شوکت عزیز پر بھی ایک خودکش حملہ ہوا۔ مشرف امریکہ کا سب سے بڑا دوست، اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ وہ اسے یوں تنہا چھوڑ دے گا۔ سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا تھا اور مشرف کو استعفیٰ دینا پڑا جس میں امریکہ آشیرباد حاصل تھی۔ مشرف کی جگہ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو پاک امریکہ تعلقات اوپن سے زیادہ پوشیدہ نظر آئے۔ بلیک واٹر جیسی تنظیموں کا پاکستان میں متحرک ہونا بھی سوالیہ نشان تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کے ایشو سے لے کر کتنے ہی معاملات تھے جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سب اچھا والے نہیں تھے۔

پیپلزپارٹی کے دور میں پاک امریکہ تعلقات کا سب سے بڑا یو ٹرن 2مئی 2011ء کاتھا جب اسامہ بن لادن ایک خفیہ آپریشن کے نتیجے میں ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں مارے گئے۔ جس کے بعد ایبٹ آباد آپریشن کے مرکزی کردار شکیل آفریدی کی گرفتاری سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ شکیل آفریدی نے پولیو ورکر کی حیثیت سے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا جسے امریکہ اپنا ہیرو سمجھتا ہے۔ اس کی رہائی اور پاکستان کے ایٹمی اثاثے اور حقانی نیٹ ورک کا خاتمہ پاک امریکہ تعلقات میں ایک بار پھر رخنہ کا باعث بن گیا ہے۔ ملا منصور کو جس طریقے سے مارا گیا ہے اس پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے۔ امریکہ پاکستان کو دور کیوں کر رہا ہے یہ نہ سمجھ آنے والی بات ہے مگر امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے تو پاکستان اس میں اپنا کردار ادا کرے گا اور کرتا رہا ہے۔

بشکریہ نئی بات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔‎

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے