فلوجہ کے معرکے کا ایک ہی نتیجہ منتظر ہے اور وہ ہے داعش کی ہزیمت اور عراقی حکومت کی جانب سے فتح و کامرانی کی خوشیاں منانا جس کے پیچھے فرقہ وارانہ پاپولر موبیلائزیشن فورسز بھی کھڑی ہوں گی۔ معرکے کے بعد اعداد و شمار بھی عام لڑائیوں کے برخلاف ہوں گے۔ جہاں ہم داعش اور حملہ آور فوج کی سیکڑوں ہلاکتیں نہیں دیکھیں گے بلکہ مارے جانے والوں کی قلیل تعداد اور سیکڑوں قابض داعشیوں کی روپوشی سے ہم حیران رہ جائیں گے۔

یہ کوئی خیالی تجزیہ ہر گز نہیں بلکہ حال ہی میں داعش کے ساتھ ہونے والے اکثر معرکوں کے بعد سامنے آنے والی صورت حال کا بیان ہے۔ ان میں تازہ ترین فلوجہ کے پڑوس میں واقع قصبے الرطبہ کا معرکہ تھا۔ ذمہ داران کی زبانی یہ بات سامنے آئی کہ قصبے میں لڑائی کے آخری روز عراقی فوج کے سامنے داعش کے صرف 30 ارکان پائے گئے۔ تو پھر معرکہ، جنگجو اور ہلاک شدگان اور زخمی کہاں چلے گئے؟ یہاں تک کہ عراقی فوج کا بھی اپنے ارکان کے زندہ سلامت رہ جانے پر سر فخر سے بلند ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درحقیقت وہاں کوئی معرکہ ہوا ہی نہیں اور محاصرے کا خاتمہ اور اس کے لیے کی جانے والی تیاری کا انجام دہشت گردوں کے اپنے تیس ساتھیوں کے سائے میں انخلاء کی صورت میں نکلا۔

عراقی ذمہ داران جو بات نہیں بتاتے وہ یہ ہے کہ مذکورہ معرکے شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ معرکوں کے دوران سب سے زیادہ شدت ابتدائی مراحل میں شہروں کے اطراف میں لڑائی کے وقت نظر آتی ہے۔ اس کے بعد داعش دیگر معرکوں تک سب کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ گزشہ چند ماہ میں صلاح الدین صوبے کے شہروں میں یہ ہی کہانی سامنے آئی ہے، جہاں تنظیم پلک جھپکتے ہی روپوش ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی داعش تنظیم کل کی القاعدہ تنظیم سے کہیں زیادہ ہوشیار ہے۔ وہ اپنے ارکان اور جنگجوؤں کو دیگر معرکوں کے لیے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور ان مقابلوں کا ایندھن نہیں بناتی جن میں اس کو نیم شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے، جیسا کہ ماضی میں الانبار صوبے کے شہروں میں ہوا۔

غالبا ماضی اور حال کے مرحلوں میں نمایاں فرق یہ ہے کہ آج کی داعش تنظیم عراقی ہے جن میں اضافی طور پر دیگر عرب اور دنیا بھر کے جنگجو شامل ہیں۔ تاہم کل القاعدہ تنظیم کا حال یہ تھا کہ ان میں دیگر عربوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جب کہ عراقی شہری کم تھے۔ اسی واسطے داعش تنظیم اپنے عناصر کا بچاؤ کرلیتی ہے یا وہ روپوش ہونے پر زیادہ قدرت رکھتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے