دہشت گردی کی ہر کارروائی کے بعد ہم پُرجوش ہو جاتے ہیں اور اپنا تشخص خوش نما بنانے لگ جاتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا امیج بہتر ہونا چاہیے۔ ایسا ہر مرتبہ کسی قسم کی ترمیم اور بہتری کے بغیر ہونا چاہیے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مغرب دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا سامنا کرنے کے باوجود ہمیں سمجھنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ بات بالخصوص بعض افراد کے بارے میں درست ہے۔ ہالی ووڈ کے مشہور اداکار ٹام ہانکس نے حال ہی میں مراکش کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے وہاں بعض بیانات جاری کیے۔ ہم ان پر کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔

ہانکس اپنی نئی فلم ''اے ہولوگرام فار دا کنگ'' کے سلسلے میں مراکش میں تھے۔ وہاں سے واپسی پر انھوں نے کہا: ''دس سال قبل ہم نے چارلی ولسن کی وار کے کچھ حصے مراکش میں فلمائے تھے۔ میں اس سے قبل کسی مسلمان ملک میں نہیں گیا تھا۔ میری رنگت گوری تھی اور مغربی امریکی تھا۔ میں نے دیکھا کہ مؤذن جب بھی اذان کے لیے پکارتا۔ ہر کوئی اپنی دکان بند کردیتا اور مقامی مسجد کی جانب چل پڑتا۔ اس کے بعد سے تھوڑی بہت تبدیلی کے سوا کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ اس سے (مسلمانوں کے بارے میں) ایک بڑا اسٹیریو ٹائپ ٹوٹا تھا''۔

ٹام ہانکس پر جو چیز اثرانداز ہوئی، وہ رواداری کا اصول ہے۔ یہ گہری جڑیں رکھنے والا اصول مسلمانوں کی پوری تاریخ میں کار فرما رہا ہے۔ جیسا کہ اندلس (اسپین) میں تھا اور وہاں کی انتظامیہ اور سرکاری عہدوں پر عیسائی ،مسلمان اور یہودی فائز ہوتے تھے۔

وہ معاشرے میں اکٹھے رہتے تھے اور ان کے کردار میں روداری نمایاں ہوتی تھی اور اس میں کسی طرح کی کوئی تحدید یا پابندی نہیں ہوتی تھی۔

ٹام ہانکس نے روحانیت اور صوفی ازم سے بھرپور مراکش کے بارے میں کہا ہے کہ ''مراکش ایک ایسے کلچر کا حامل ہے جو آپ کے ساتھ رواداری سے پیش آتا ہے لیکن آپ کو قبول نہیں کرتا ہے''۔
------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔اس تحریر میں انھوں نے اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کیا ہے،ان سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے