جن ملکوں کے مابین سرحدوں کی دیواریں کھڑی ہوں، جنہیں عبور کرنے کیلئے پاسپورٹ اور ویزا لازمی ہو ان کے درمیان تعلقات کی بنیاد مفادات ہوا کرتے ہیں، مذہبی، ثقافتی رشتے اور ہمسائیگی کا تعلق نہیں ہوا کرتے، اس پیمانے پر پاکستان اور ایران کے روز اول سے بالخصوص حالیہ چند برسوں سے تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو دونوں کے مفادات میں واضح ٹکراؤ نظر آئے گا، میرے 25 مئی کے کالم کے ایک اقتباس ’’اور بھارت چاہ بہار کو پوری طرح فنکشنل کر کے اپنا نیول بیس بھی بنا چکا ہو گا پھر چین کے لئے اس بھارتی پیش کش کو قبول کرنے کے سوا کیا چارہ ہوگا کہ چاہ بہار میں اشتراک کر لے بصورت دیگر اب تک کی جانے والی اربوں کی سرمایہ کاری سے ہاتھ دھونا پڑیں گے اگر ایسا ہوا تو پھر گوادر کار کردار بڑے جہازوں کی ان لوڈنگ اور وہاں سے چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے چاہ بہار ترسیل۔۔۔!!‘‘

کئی قارئین نے سوال اٹھایا ہے کہ جب چاہ بہار کی بندر گاہ فنکشنل ہو جائے گی تو پھر گوادر سے چھوٹے جہازوں کے ذریعے ترسیل کیوں ہو گی، کالم کی تنگ دامنی تفصیلات کی متحمل نہیں ہو سکتی تاہم اس کا جواب یہ ہے کہ چاہ بہار کا پانی اتنا بلند نہیں ہے کہ بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہو سکیں یہ صورت ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ چھ دن جوار بھاٹا کی صورت بنتی ہے ورنہ کراچی کی بندرگاہ اور پورٹ قاسم چاہ بہار سے زیادہ گہری ہیں، اسی لئے رواں سال جنوری میں ستیان کے گورنر آقائے علی ہاشمی کی قیادت میں 22 رکنی وفد نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری سے چاہ بہار کو ریلوے کے ذریعے گوادر سے ملانے کی یادداشت پر دستخط کئے حالانکہ یہ وفاق کا معاملہ ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا سرے سے اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

دراصل یہ یادداشت اس پروپیگنڈہ کی بنیاد بنی ہے جو ایرانی میڈیا اور پاکستان میں اس کے ہمنوا یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ پاکستان ایک برادر ملک سے رابطوں میں دلچسپی نہیں لے رہا یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہے کہ وسطی ایشیاء کے ممالک کے لئے بھارت کی برآمدات اس قدر نہیں ہیں کہ اس لئے ایک بڑی بندرگاہ کی ضرورت تقاضا بن جائے چاہ بہار میں بھارت کی دلچسپی کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ افغانستان کے علاقے بامیان سے لوہے کے ذخائر اس کے ذریعے ممبئی پہنچائے جا سکیں دوسرے یہ کہ بھارت نے اقتصادی پابندیوں کے دوران ایران سے سستے داموں ایل این جی خریدی اور ادائیگی کا ذریعہ بنک آف عمان بنا امریکہ نے جان بوجھ کر اس طرف سے آنکھیں بند رکھیں۔

بھارت کی جانب جو ادائیگیاں باقی ہیں ان کی ادائیگی شام، عراق اور لیبیا میں ایرانی گروہوں کو اسلحہ و گولہ بارود کی شکل میں کی جا رہی ہیں، یہ بات ذہن نشین رہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کی سمندری حدود میں توسیع کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور اب پاکستان کی سمندری حد عمان سے جا ملی ہے پاکستان سے تنازع کی صورت یا رضا مندی کے بغیر بھارتی جہازوں کے لئے ان حدود سے گزر کر چاہ بہار پہنچنا مشکل ہے اسی لئے لوہے کی صنعت سے وابستہ بھارتی سرمایہ کاروں کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاملہ اس وقت تک کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے جب تک گوادر کو چاہ بہار کے لئے ترسیل کا ذریعہ نہ بنا لیا جائے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے 27 مئی کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

ڈپلومیسی کے انداز میں خیر سگالی کی باتیں کی گئیں لیکن کچھ بین السطور میں بھی کہا گیا یہی دراصل غور طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک طالبان کی پرورش کرتے ہیں لیکن ایران کے طالبان کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں۔ (2) ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو گوادر سے منسلک کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ جہاں تک اس دوسری بات کا تعلق ہے اس کا جواب پہلے کی سطور میں دیا جا چکا ہے دوسری بات کا جواب یہ ہے کہ اس پورے خطے میں طالبان کی ’’پرورش‘‘ کا الزام مغربی میڈیا اور امریکی حکام کی جانب سے پاکستان پر مسلسل لگایا جا رہا ہے۔ سفیر محترم نے مغربی میڈیا اور امریکی حکام کے الفاظ بالواسطہ طور پر اپنی زبان پر لانے کی ضرورت کیوں محسوس کی، اگر ان کے بقول چاہ بہار اور گوادر کا باہم منسلک ہونا ایران اور پاکستان کے مفاد میں ہے تو اس میں پاکستان کے دشمن بھارت کو حصہ دار کیوں بنایا جا رہا ہے۔ باہمی معاہدہ کے تحت ایران گوادر کے ذریعے کم خرچ پر اپنی تمام برآمدات کا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔

سفیر محترم نے تیسری بات یہ کی کہ ’’ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کو ناکام بنایا گیا، بھارتی جاسوس کی گرفتاری کا معاملہ متعلقہ فورم پر لانا چاہیے تھا‘‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ چاہ بہار میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا معاملہ پاکستان کے میڈیا ، سیاستدان یا کسی حکومتی عہدیدار نے نہیں اٹھایا یہ جس جانب سے اٹھایا گیا وہ اس امر کا پوری طرح ادراک رکھتے ہیں کہ کون سی بات یا قدم ملک کے مفاد میں ہے یا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اب رہا سوال متعلقہ فورم کا تو جب کلبھوشن یادیو کے اس اعتراف کے بعد اس کا ایک جاسوس ساتھی گنیش اب بھی چاہ بہار میں موجود ہے اور اس سلسلے میں ایرانی حکومت سے رابطہ کیا گیا جس روز یہ خط ایرانی حکومت کو ملا اسی روز گنیش بڑی سہولت سے ایرانی سرحد پار کر کے نئی دہلی چلا گیا اس کے باوجود سفیر محترم کی جانب سے متعلقہ فورم پر سوال اٹھائے جانے کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے۔

سفیر محترم کا یہ دعویٰ کہ ایران کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں رہا اس لئے خلافِ حقیقت ہے کہ طالبان اور ایران کے رابطوں کے بہت سے شواہد منظر عام پر آ چکے ہیں، پہلی بات تو یہ کہ ایرانی شہر زابل میں ملا اختر منصور کے اہل خانہ کی موجودگی سے کیا ایرانی حکومت اور انٹیلی جنس ادارے بے خبر تھے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ملا اختر منصور کو 28 اپریل کو ایرانی ویزا دیا گیا وہ 25 اپریل کو ایران میں داخل ہوئے اور 22 مئی کو واپس اس راستے سے آئے۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق ایران اور طالبان میں عسکری تعاون کا سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور دوسرے بھارتی ایجنٹ کو حوالے نہ کرنے پر پاکستان اور ایران میں دوریاں پیدا ہوئی ہیں۔

افغان رہنما گلبدین حکمت یار نے، جو ایران کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں،بھی ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے اور اپنے غم وغصے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے ’’ایران کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘‘ ادھر طالبان نے 20 مئی سے 22 مئی تک تفتان بارڈر پر ڈیوٹی دینے والے ایرانی اہلکاروں کی فہرست حاصل کر کے اپنے طور پر چھان بین شروع کر دی ہے اس واقعہ میں ملوث اہلکار کی شناخت ساری صورتحال سے پردے اٹھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر پاکستان میں معاملات پر نظر رکھنے والوں کی یادداشت کمزور نہیں ہے تو انہیں یاد ہونا چاہیے میاں نواز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے گوادر کو بین الاقوامی معیار کی بندرگاہ بنانے کا اعلان کیا تھا تب ایک خاص گروہ نے اس کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائی تھی جس میں ایک انگریزی اخبار کا مالک اور اس کے ہمنوا صحافی اور اینکرز پیش پیش تھے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے