شاہ فہد قرآن کمپلیکس مدینہ منورہ قرآن پاک کی طباعت کا عمدہ ترین عالمی سعودی ادارہ ہے ساتھ ہی مسجد نبوی کی عظیم توسیع اور بیت اللہ کے اردگرر مسجد الحرام میں ائیر کنڈیشن بلاک کی تعمیر شاہ فہد مرحوم کے عظیم اسلامی جذبے کے آئینہ دار ہیں۔ اس سال رجب میں فہد قرآن کمپلیکس مدینہ منورہ کی طرف سے تقریباً سولہ لاکھ قرآن پاک کے نسخے مفت تقسیم ہوئے ہیں۔ سعودی حکومت ہر سال نوخیزہ حفاظ قرآن اور قراء کے مابین مقابلہ حسن قرآت کرایا کرتی ہے۔

میریٹ ہوٹل میں ایک نہایت عمدہ روحانی قرآنی تقریب کا انعقاد ہوا۔ مکتب الدعوہ کے مدیر ابو سعد بن الدوسری نے پاکستان بھر کے نوخیز حفاظ و قاری اطفال میں مقابلہ حسن قرآت کا درجہ بدرجہ اہتمام کیا تھا۔ میریٹ ہوٹل میں منتخب نوخیز حفاظ و قراء نے حاضرین کے سامنے تلاوت کلام پیش کی۔ تقریب کی صدارت وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سعودی سفیر عبداللہ مرذوق الزاہرانی، ڈاکٹر احمد الدریوش، سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے کی۔ سعودی سفیر الزاہرانی، نائب سفیر جاسم الخالدی، میڈیا ڈائریکٹر حبیب اللہ البخاری کی مسرت دیدنی تھی جبکہ شیخ ابوسعد تو اس کارکردگی پر مسرور تھے۔

وفاقی سردار محمد یوسف نے بہت دلچسپ بات کہی کہ اس مقدس تقریب کی ’’واحد زبان عربی‘‘ ہے۔ وہ وفاقی وزیر مذہبی امور ہیں مگر انہیں چونکہ عربی زبان نہیں آتی لہٰذا وہ تقاریر و تجاویز کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان کا موقف تھاکہ یہ بات ہی کافی ہے کہ پاکستان میں عربی زبان کی سرکاری نصاب کے طور پر لازمی تدریسی ہونی چاہئے تاکہ قرآن فہمی اور سنت رسولؐ کا فہم تو ممکن ہوسکے۔ ہم اس لمحے رب کریم کا شکریہ ادا کررہے تھے کہ ہم واحد شخص ہیں جو کئی سالوں سے نوائے وقت میں شائع ہونیوالے کالموں میں عربی زبان کی میٹرک تک لازمی تدریس کی ضرورت اور فوائد کا معاملہ اجاگر کر رہے ہیں۔

الحمد اللہ علی ذلک، یہ تقریب صبح 11 بجے شروع ہوئی اور سہ تین بجے اختتام پذیر ہوئی۔ شیخ ابو سعد نے بتایا کہ شاہ سلمان کی ذاتی محبت و سرپرستی سے مقابلہ قرآت کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہم نے ڈیڑھ سو کتب کے مصنف، بہت عمدہ خطیب پروفیسر ڈاکٹر سلیمان عبداللہ اباالخیل کا بہت ذکر، دعوہ اکیڈمی کے ڈاکٹر سہیل حسن، شریعہ و قانون کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، ڈاکٹر حافظ محمد انور اور حافظ مقصود احمد سے سن رکھا تھا۔ ڈاکٹر سلیمان کو شاہ عبداللہ کے آخری عہد میں وزیر مذہبی امور بنایا گیا تھا جب شاہ سلمان آئے تو ڈاکٹر اباالخیل واپس اپنے اصل تعلیمی میدان میں چلے گئے۔ مگر شاہ سلمان نے انہیں بدستور وزیر کے پروٹوکول پر برقرار رکھا ہے وہ جامعہ محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے پرو چانسلر ہیں۔

صدر مملکت ممنون حسین یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ انکی آمد کے ساتھ ہی حافظ مقصود احمد اور ان کے رفقاء نے اسلام آباد ہوٹل میں انکے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا۔ ڈاکٹر اباالخیل کے ہمراہ ریاض سے تعلیمی وفد بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ نہایت دلچسپ بات ہے کہ میرٹ ہوٹل میں تقریب مقابلہ حسن قرآت کی جس طرح زبان عربی تھی اس طرح اسلام آباد ہوٹل کی اس تقریب کی زبان بھی صرف عربی تھی۔

پاکستان بھر سے جامعہ محمد بن سعود الریاض کے فیض یافتگان اپنے عربی استاد و محسن کی جھلک دیکھنے کیلئے جمع تھے ان فضلاء نے اجتماعی طور پر ڈاکٹر اباالخیل کو تحفہ دیا۔ ڈاکٹر محمد انور نے تقریب میں پیش کار کا فرض نبھایا۔ حافظ مقصود احمد نے عمدہ عربی میں سپاسنامہ پیش کیا۔ ڈاکٹر احمد الدریوش، شیخ ابوسعد محمد، ڈاکٹر عبدہ عتین، سعودی فضلائ، پروفیسر ساجد میر و ابو تراب ،راجہ ظفر الحق اور پارلیمانی سیکرٹری دفاع محترم جعفر اقبال کیساتھ ساتھ سردار محمد یوسف اس تقریب میں مہمان تھے۔

جعفر اقبال نے وہی بات کی جو چند روز پہلے سردار صاحب نے مقابلہ حسن قرآت تقریب میں کہی تھی کہ قرآن و سنت عربی زبان میں ہے اس تقریب کی زبانی بھی صرف عربی ہے مگر انہیں چونکہ عربی نہیں آتی وہ کیسے ان تقاریر کو اور مقررین کا موقف سمجھ سکتے ہیں؟ اس ’’خلا‘‘ کے ذمہ دار مالدار عرب ہیں یا پاکستانی علماء کرام یا حکومت پاکستان؟

ڈاکٹر اباالخیل نے بہت عمدہ اور فن خطابت کے جملہ تقاضوں کیساتھ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی جامعات نے دنیا بھر میں جہاں کتاب و سنت کی تعلیم و فروغ کی خدمت سرانجام دی ہے وہاں اعتدال پسند مزاج کے اساتذہ علماء فراہم کئے ہیں۔ پاکستان اور اہل پاکستان سے شدید محبت کا اظہار ڈاکٹر اباالخیل نے جذباتی طور پر کیا۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو اسناد دینے کیلئے دسویں کانووکیشن کا انعقاد سوک سینٹر آبپارہ میں کیا۔ ہفتے کے دن صدر ممنون حسین نے کچھ طلبہ میں اسناد تقسیم کیں اور نصف سے زائد طلبہ کو ڈاکٹر اباالخیل نے اسناد دیں۔ اتوار کے دن صرف طالبات کا کانووکیشن تھا اور تعلیم مکمل کرنیوالی طالبات کو ڈاکٹر اباالخیل نے اسناد دیں۔ فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد 38002 ہوچکی ہے۔

ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی اور صدر ڈاکٹر احمد الدریوش نے بھی اسناد لینے والی طالبات سے ناصحانہ خطاب کیا۔ سوموار کے دن فیصل مسجد میں جامعہ اسلامیہ کیمپس کے آڈیٹوریم میں پاک سعودی تعلقات اور انتہا پسندی کیخلاف بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے کردار پر طویل نشست ہوئی۔ ڈاکٹر پروفیسر سلیمان اباالخیل اس تقریب میں مہمان خصوصی ہیں۔ جب سے ڈاکٹر احمد الدریوش یونیورسٹی کے صدر بنے ہیں انہوں نے یونیورسٹی کو فعال و متحرک ادارہ بنا دیا ہے۔

سعودی جغرافیئے کو توڑنے کی الداعش کوششیں شاہ عبدالعزیز کے عہد میں ہی شروع ہوگئی تھیں جب نجد کے ایک قبائلی سردار فیصل الداعش کی سرکردگی میں برطانیہ عظمیٰ نے بغاوت و سرکشی کی اس وہابی اخوانی نجدی قبیلے کی بھرپور مالی اور اسلحہ سے مدد کی تھی۔

مقصد شاہ عبدالعزیز سے عراق سے ملحق نجد کا علاقہ چھین کر نئی وہابی اخوانی الداعش ریاست کا قیام تھا جو برطانیہ سے نجد سے ریلوے لائن گزارنے کا معاہدہ کرے جبکہ زخمی و مغموم شاہ عبدالعزیز کو مجبور کردیا جائے کہ وہ اس ریلوے لائن کو جدہ کے قریب تک جانے دے جہاں برطانیہ عظمی اپنی نیول کالونی ازم کی جنگی بحریہ کا اڈا تعمیر کر کے سمندروں پر اپنی بادشاہت قائم کر سکے۔ آج کی عراقی الداعشی اس عہد رفتہ کی نئی سازشی کہانی ہے۔

قارئین اس سازش و سمجھنے کیلئے علامہ محمد اسد کی انگریزی کتاب (Road To Makkah) کا مطالعہ کرینگے تو سب کچھ سمجھ آجائیگا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے