ایرانی اور عرب ایک طویل عرصے سے 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں کے اس امن اور مصالحت کی تلاش میں ہیں جو وہ سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں کھو بیٹھے تھے۔ایران میں انقلاب کے بعد سے چیزیں تبدیل ہوچکی ہیں۔اس انقلاب کے بعد انتہا پسندوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

قاہرہ ،تہران ،الریاض ،کویت ،بیروت اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے دوسرے دارالحکومت آج سے بالکل مختلف ہوا کرتے تھے۔تب لوگ زیادہ مہذب اور شاہراہیں بظاہر زیادہ محفوظ ہوا کرتی تھیں۔اس دور کے بعد پیدا ہونے والے اپنے شہروں کا تب اور آج سے موازنہ کرتے ہیں تو ان کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔

تہران کب خوش تھا؟1970ء کے عشرے کے اوائل میں یا اکیسویں صدی میں؟قاہرہ آج تار تار ہے لیکن یہ صدر جمال عبدالناصر اور انورالسادات کے زمانے میں خوشیوں بھرا اور ایک تخلیقی شہر ہوا کرتا تھا۔اس نسل کی خواہشات اپنے والدین سے بالکل بھی مختلف نہیں ہیں۔یہ بہت سادہ خواہشات ہیں لیکن یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ وہ اپنے جس مستقبل کی توقع کرتے ہیں،وہ ان کا شاندار ماضی ہے۔

چینی مثال

تہران ،قاہرہ ،الریاض اور دوسرے شہروں کو مذہبی انتہاپسندی کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ہمارا خطہ کوئی پہلا علاقہ نہیں ہے کہ جس کو اس صورت حال کا سامنا ہوا ہے۔چین کو کمیونسٹ انتہا پسندوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کو غلط طور پر ''ثقافتی انقلاب'' کا نام دیا گیا تھا۔

1966ء میں ماؤزے تنگ کی قیادت میں کمیونسٹوں نے بیداری کی تحریک چلائی تھی لیکن یہ تحریک کمیونسٹ کے دشمنوں کے خلاف نہیں بلکہ اپنے ہی کمیونسٹ کامریڈوں کے خلاف تھی۔انھیں وہ خود سے کم پُرعزم خیال کرتے تھے۔

کمیونسٹ پارٹی نے معاشرے پر انتہا پسند خیالات مسلط کرنے کے لیے نوجوانوں کو استعمال کیا تھا۔والدین اور اساتذہ کو ترغیب دی ،کتابیں جمع کیں اور پھر انھیں جلا دیا تھا۔انھوں نے چین کی بہت سی ثقافتی علامتوں اور تاریخی یادگاروں کو تہس نہس کردیا تھا۔ان کی کاریں شاہراہوں پر فراٹے بھرتی نظر آتیں اور وہ ماؤزے تنگ کے نظریات کا پروپیگنڈا کرتے تھے۔وہ لوگوں کو یہ ترغیب دیتے کہ جو کوئی بھی ماؤ کی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہوتا،اس کا پیچھا کیا جائے۔

چین کی عوامی رائے عامہ نے بعد میں جو کچھ ہوا تھا،اس کے خلاف آواز بلند کی اور اس کو مسترد کردیا۔اس کا مظہر اصلاح کی تحریک تھی۔اس نے بیداری کے لیڈروں کے خلاف مقدمات چلائے اور انھیں قابل مواخذہ قراردیا۔ اس کے بعد چین تبدیل ہوگیا،لوگوں کے خیالات ،ان کے آپسی تعلقات اور دنیا کے ساتھ تعلقات بھی تبدیل ہوگئے۔

لوگ بہ خوشی رہنا چاہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کم مذہبی ہیں اور اس سے روایات پر بھی سمجھوتا نہیں ہوتا۔کوئی دن ایسا آئے گا جب ایرانی رجیم ہی میں سے کوئی تحریک چلائے گا اور وہ انھیں 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں واپس لے جائے گا۔وہ مذہبی انتہا پسندی کا قلع قمع کردے گا۔یہی کچھ عرب دنیا میں بھی ہوگا۔

-------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ ٹیلی ویژن چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے