دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہو تو فورا پاکستان کے خلاف معاندانہ ماحول پیدا کردیا جاتا ہے ، پھر اِس معاندانہ ماحول میں پاکستان کی سنی بھی نہیں جاتی اور بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو فورا مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ یہ بھی نہیں دیکھا جاتا پاکستان تو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہے، اب یہی دیکھیں کہ پاکستان شروع دن سے ہی کہے چلے جا رہا تھا کہ پٹھانکوٹ واقعہ سے اُس کا کوئی تعلق نہیں لیکن کیا کیا جائے کہ پاکستان کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا، لیکن اب بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر نے خود اعتراف کیا ہے کہ ’’پٹھان کوٹ حملے میں حکومتِ پاکستان یا کسی پاکستانی ایجنسی کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے‘‘ ۔

این آئی اے کے ڈائریکٹر شرد کمار کے مطابق ’’بھارت کو ایسے شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہو کہ پاکستانی حکومت یا ایجنسی نے دہشت گرد حملے میں مدد کی‘‘۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر کی جانب سے اہم موقع پر دیا جانے والا یہ بیان پاکستانی موقف کی تصدیق کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے، پٹھانکوٹ واقعہ پر دی جانے والی اطلاعات پر فوری ایکشن اور پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے پٹھانکوٹ کا دورہ اور معلومات کا جائزہ لینا بھی درصل پاکستان کے غیر مشروط تعاون کا عکاس تھا۔

پٹھانکوٹ واقعہ سے پاکستان کی بریت اور وہ بھی خود بھارتی ہندو افسر کے ہاتھوں بریت کوئی معمولی بات نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے ایک نہایت ہی اچھی خبر ہے، اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ ہفتے کے دوران ایک اور اہم خبر جو قابل تذکرہ ہے وہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا بجٹ تھا۔ پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا معاملہ ہمیشہ سے بڑا اہم رہا ہے، حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 204 ارب روپے مالیت کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ بعض شعبوں کے لیے ٹیکسوں کی شرح کم کی گئی ہے۔لیکن بجٹ میں اہم بات یہ ہے کہ اس دفعہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ یعنی 36 کھرب 21 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

ٹیکس وصولیوں میں اضافے کیلئے ظاہر ہے کہ نئے ٹیکسوں کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کیلئے کئی شعبوں کو چنا گیا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں جائیداد کی خرید وفرخت کو بہت منافع بخش کاروبار تصور کیا جاتا ہے، اِسی لیے مالی سال 2016-2017 کے بجٹ میں پانچ سال کے اندر اندر خریدی گئی جائیداد فروخت کرنے پر دس فیصد کیپٹل گین ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔چینی پر عائد آٹھ فیصد فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کو ختم کر کے آٹھ فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔مشروبات پر عائد ڈیوٹی کو 10.5 فیصد سے بڑھا کر 11.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پان اور چھالیہ پر عائد موجودہ ڈیوٹی کو دوگنا کرنا اور ایل ای ڈی یا انرجی سیور بلب، شمسی توانائی کے لیے ہوم سولر پینل کی درآمد پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ آئندہ سال بھی جاری رکھنا کچھ غلط بھی نہیں۔۔ ٹیکسز میں جو اچھے ٹیکس لگائے یا بڑھائے گئے ہیں اُن میں سگریٹ پر لگائی جانے والی ڈیوٹی بھی شامل ہے، کم معیار کے سگریٹ پر عائد ڈیوٹی کو 23 پیسے فی سگریٹ کرنے اور اعلیٰ معیار کے سگریٹ پر یہ شرح 55 پیسے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے حکومت کوجہاں اضافی 15 ارب روپے ملنے کا امکان ہے، وہیں سگریٹ مہنگا کرنے سے تمباکو نوشی اور منشیات کی لعنت کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ سمارٹ موبائل فونز کا استعمال ضرورت سے کہیں زیادہ عیاشی یا فضول خرچی کے زمرے میں آتا ہے اور جو لوگ یہ فضول خرچی ’’افورڈ‘‘ کرسکتے ہیں، ظاہر ہے انہیں مہنگے موبائل فون کی خرید پر عائد سیلز ٹیکس 1000 روپے کی بجائے 1500 اور درمیانے درجے کے موبائل فون پر سیلز ٹیکس 500 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے دینے میں بھی کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔

لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹروں کی درآمد پر عائد ڈیوٹی ختم کرنا بھی مستحسن ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ سالانہ دس لاکھ روپے کم آمدن کمانے والے افراد کے بچوں کی 60 ہزار روپے سالانہ اسکول فیس پر عائد پانچ فیصد ٹیکس تو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن تعلیم کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر انتہائی کم رقم کیوں رکھی گئی ہے۔ مزدوروں کی کم سے کم اجرت 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار کرنے کی تجویز دی گئی، جو ظاہر ہے مہنگائی کی موجودہ لہر کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے، اس میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے

قارئین کرام!! ایک ایسا ملک جس کا بال بال قرضوں میں جھکڑا ہو، جو گزشتہ پندرہ برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہو، بیرونی قوتیں جس کے خلاف ہر روز سازشوں کے نئے جال بن رہی ہوں اور پڑوسی ممالک جس کے خلاف ہر لمحہ کوئی ناں کوئی چال چل رہے ہوں، وہاں اِس سے بہتر بجٹ بھلا پیش بھی کیا کیا جا سکتا تھا؟ لیکن اس کے باوجود وزیر خزانہ کو زراعت کے شعبے میں اپنے اچھے اقدامات پر بھی اپوزیشن بنچوں سے تالیاں بجانے کی خود گزارش کرنا پڑی۔

حکومت کو چاہیے کہ کچھ اور نہیں تو اگلے بجٹ میں غریب کیلئے اتنا ضرور کردیا جائے کہ وہ بے چارہ دال روٹی کیلئے زلیل و خوار نہ ہوتا پھرے اور جو کچھ ایک غریب آدمی کماتا ہے، اُس کے پیٹ کی آگ بھی اُس کی اُسی کمائی سے ہی بجھ جائے، جو وہ بمشکل کما پاتا ہے۔ اگر آئندہ بجٹ تک غریب آدمی کو تن ڈھانپنے اور سر چھپانے کیلئے دوسروں کے آگے بھکاریوں کی طرح ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں تو وزیر خزانہ کو تالیوں کیلئے گزارش نہیں کرنا پڑے گی بلکہ بجٹ تقریر کے ایک ایک جملے پر تالیاں خود بجیں گی!
بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
----------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے