ہم عراق اور شام میں جو کچھ رونما ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں،وہ عربوں یا سُنیوں کے مفاد میں نہیں ہے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہورہا ہے اور ہم واقعات کی اس فرقہ وارانہ نوعیت کو سامنے لارہے ہیں لیکن یہی کچھ تو رونما ہورہا ہے۔ایران ایک مخالف ملک ہے اور وہ عربوں اور سُنیوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔روس اپنے مختلف محرکات کی بنا پر ایران ہی کی طرح ہے۔


ایک بڑا مسئلہ اور اس بڑے عدم توازن کا ذریعہ امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ ہے۔اس نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کو تہ وبالا کردیا ہے۔وہ عرب اور مسلم دنیا حتیٰ کہ پوری دنیا کے مستقبل کے حوالے سے خطرات پیدا کررہی ہے اور یورپ کو بھی اس میں کھینچ لائی ہے۔

یہ خطرات صدر براک اوباما کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہیں گے۔وہ ایران کی مارکیٹنگ کرنے والے ایک سیاسی کارکن بن سکتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اٹلانٹک میگزین کے ساتھ انٹرویو میں کیا تھا۔

صدر اوباما نے بعض یورپیوں کو یہ باور کرادیا ہے کہ خطے میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ ہی واحد بڑا مسئلہ ہے۔انھوں نے شام میں سیاسی انتقال اقتدار سمیت دوسرے تمام سیاسی ایشوز کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

اس سے امریکیوں کے دوسرے ممالک اور خاص طور پر نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری آچکی ہے۔ترکی امریکا کے کرد دہشت گرد گروپوں کے ساتھ اتحاد پر نالاں ہے۔

حقیقت

عربوں اور سُنیوں کے خلاف یہ جارحیت ایک حقیقت ہے۔یہ نہ صرف سُنیوں کی رائے ہے بلکہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے عرب لکھاریوں کی بھی رائے ہے حالانکہ وہ کوئی ناراض سُنی نہیں ہیں۔میں نے حال ہی میں اس موضوع پر الشرق الاوسط اور الحیات میں شائع ہونے والے دو مضمون پڑھے ہیں۔

پہلا مضمون مشرق وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر عیاد ابو شکرہ کا ہے۔انھوں نے لکھا:''ہمارے سامنے اس وقت سُنی عربوں کے خلاف ایک حقیقی جنگ درپیش ہے۔ایک ایسی جنگ جو مشرقِ وسطیٰ کے ایک نئے نقشے پر منتج ہو گی اور نتیجۃً اس سے وہی کچھ برآمد ہوگا جو بویا جارہا ہے''۔

دوسرا مضمون لبنانی صحافی حازم صاغیہ کا تھا۔انھوں نے لکھا:''جو لوگ صورت حال کو مشاہدہ کررہے ہیں ،وہ کبھی اس کو فراموش نہیں کرسکتے۔ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور شیعوں کی الحشد الشعبی فورسز کے درمیان تعلق کو فلوجہ میں بڑی چابکدستی سے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی اور شامی قصبے منبج میں کردوں کی موجودگی سے عیاں ہے کہ سنی عربیت کا قتل عام کیا جارہا ہے اور اس سے شاید ایک نئی راہ نکل آئے اور نئے نقشے بن جائیں''۔

جب دنیا نے ایران اور روس کی حمایت میں شامی عوام کو تیاگ دیا تو داعش کا ظہور ہوا تھا۔آپ کا کیا خیال ہے کہ اس نئے غصے کے بطن سے کیا برآمد ہوگا؟

--------------------------
(سعودی صحافی مشاری الذایدی العربیہ نیوز چینل کے ویوز آن نیوز کے روزانہ شو ماریا کے میزبان ہیں۔وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں مہمان کے طور پر پیش ہوتے رہتے ہیں۔انتہاپسند گروپ اور ان کے نظریات ان کے خاص موضوعات ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے