شام کے بحران کے حوالے سے آخری مثبت پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ روس اس پُر امن حل کا خواہاں ہوگیا ہے جس میں شامی اپوزیشن کو شامل کیے جانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ جنگ میں روس کے شامی اور ایرانی حکومتوں کے شانہ بشانہ عسکری طور پر شامل ہونے کے بعد پہلی مرتبہ یہ موقف دیکھنے میں آیا ہے۔ منفی جانب یہ ہے کہ روس چاہتا ہے کہ بشار الاسد اپنے تمام تر مرکزی اختیارات کے ساتھ باقی رہے اور اپوزیشن کے لیے کچھ حصے سے دست بردار ہوجائے جو کہ ایک برا حل ہے اور یقینا اپوزیشن کے نزدیک ناقابل قبول ہونے کے سبب کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ روس ان کی سوچ میں ایسی پیش رفت لائے جس سے مذاکرات کاروں کے لیے بالآخر کسی حل تک پہنچنا ممکن ہوسکے ؟

روسیوں نے تقریبا نصف سال گزار لیا ہے اور اپنی تجربہ گاہوں میں موجود ہتھیاروں کی آخری جدید ترین ٹکنالوجی کے ساتھ داخل ہونے کے بعد بھی وہ بشار الاسد حکومت کے دشمنوں کے خاتمے کے حوالے سے اپنے وعدے کو بہت زیادہ پورا نہیں کرسکے ہیں۔ یہاں تک کہ حلب شہر جس کو آزاد کرانے کا روس نے عہد کیا تھا، ابھی تک اس کا اکثر حصہ اپوزیشن کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ بشار کی فورسز اور ان کی حلیف تنظیم حزب اللہ نے بعض ٹھکانوں اور قصبوں پر کنٹرول حاصل کر کے زمینی طور پر پیش قدمی کو یقینی بنایا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کن کامیابیاں نہیں ہیں اور اور مستقبل قریب میں بھی اس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

جہاں تک شامی حکومت کی محدود کامیابیوں کا تعلق ہے تو وہ بھی روسیوں اور ایرانیوں کی عسکری کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ان میں بڑا حصہ ترکی پر دباؤ کا نتیجہ ہے جو مسلح عناصر کی گزرگاہوں اور مالی رقوم کی فراہمی کی بندش پر مجبور ہوگیا اور اس کی وجہ سے جیش حُر اور دیگر شامی مسلح فورسز کے معاون ممالک کی سپورٹ میں کمی آگئی۔

ان تمام دھچکوں کے باوجود شامی اپوزیشن نے ابھی تک شام کے ایک تہائی رقبے کو بھرپور طریقے سے کنٹرول کیا ہوا ہے جب کہ بشار حکومت کے پاس ایک تہائی سے کم اور دہشت گرد جماعتوں کے ہاتھ میں بھی تقریبا ایک تہائی علاقہ ہے۔ گزشتہ ماہ کے وسط میں روس کو اُس وقت پہلی دردناک ہزیمت کا مزہ چکھنا پڑا جس نے اسے افغانستان کی یاد دلا دی جب حلب اور تدمر کے درمیان روس کے فوجی اڈے پر موجود ہیلی کاپٹروں کو تباہ کردیا گیا۔ مسلح جماعتوں نے لوجسٹک سازوسامان سے بھرے ہوئے ٹرکوں کی ایک لمبی قطارکو بھی برباد کردیا۔ روسیوں نے اس واقعے کی تردید کی تاہم اسٹریٹفور انٹیلجنس سینٹر کی جانب سے جاری تصاویر نے حملے سے پہلے اور اس کے بعد تباہی کے حجم کے حوالے سے کوئی شک نہیں باقی نہ رہنے دیا۔

خواہ یہ حملہ بیرونی طاقتوں کی ہدایت پر کیا گیا ہو تاکہ زمینی طور پر لڑائی میں پھر توازن واپس لوٹ آئے جو کہ ماسکو کی مداخلت اور ترکی کے کردار میں کمی کے سبب بگڑ گیا تھا اور خواہ حملہ آوروں کا تعلق دہشت گرد تنظیم داعش سے ہو یا پھر قومی جیش حُر سے.. ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ کارروائی اپنی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت رہے گی۔ ساتھ ہی یہ باور کراتی ہے کہ جنگ کے اخراجات تمام فریقوں پر بھاری پڑ رہے ہیں نہ کہ صرف شامی عوام پر جنہیں دھماکا خیز مواد کے ڈرموں سے نشانہ بنایا جارہا ہے اور جن پر بنا کسی ادنی بین الاقوامی احتساب کے اندھادھند طور پر بمباری کر دی جاتی ہے۔

بشار الاسد کے مرکزی حلیف تین ہیں روس، ایران اور حزب اللہ۔ تینوں نے ہی یہ جان چکے ہیں کہ ان کے سابقہ تصورات کے برخلاف شام میں سیاسی حل کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ ان کو دو مسائل کا سامنا ہے۔ پہلا مسئلہ یہ کہ وہ پیش قدمی سے قاصر ہیں کیوں کہ شامی عوام کی اکثریت یقینا بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ہے اور اگر انہیں زمینی طور پر کامیابیاں مل بھی جائیں تو اقلیت کی جانب سے سپورٹ ان کے لیے دائمی کنٹرول کو یقینی نہیں بنا سکے گی۔ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ یہ لوگ آئندہ سالوں کے دوران بڑے نقصانات سے دوچار ہوئے بغیر لڑائی جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ گزشتہ ہفتے تھوڑی بہت پیش رفت پانے والا سیاسی حل، یہ ہی روسیوں اور ایرانیوں کے لیے اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ یہ حل بھی اُن حقیقی دست برداریوں کے بغیر ممکن نہیں ہے جن کو جنیوا کانفرنس 2 نے تجاویز کی شکل میں اختیار کیا تھا، ان میں سر فہرست شامی حکومت کے سربراہ کا ہٹنا ہے۔

جہاں تک امریکا کا تعلق ہے تو اس نے ریفری کا کردار سنبھالا ہوا ہے۔ وہ اس امید میں ہے کہ میچ برابری پر ختم ہوجائے یا مدت صدارت شام میں سیاسی نقصانات کے بغیر مکمل ہوجائے اور بحران کو آئندہ منتخب ہونے والے امریکی صدر کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ شام میں ابھی تک عسکری جیت سے محروم دیگر فوجی مہموں کے بعد، روس نے امریکی انتظامیہ پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے تاکہ وہ اپنے فوجی مقاصد کا دائرہ وسیع کرے۔

ایک بار پھر خیال رہے کہ تفصیلی معاملات ہمیں تنازع کے لُب لباب سے نہ بھٹکا دے اور وہ ہے خطے میں ایرانی توسیع پسندی کا منصوبہ جس کے ذریعے ایران عملی طور پر عراق، شام اور لبنان پر کنٹرول چاہتا ہے۔ اس صورت حال سے ایک ایسے حل کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتا جس پر دمشق میں موجود روسی آمادہ ہوجائیں۔ ان کے لیے دست برداری کا مطلب صرف شام میں نہیں بلکہ ہر علاقے میں ایران سے دست بردار ہونا ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'الشرق الاوسط'
-----------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے