اس ہفتے کے دوران ایک طنزیہ عرب شو میں شریک ایک وزیر صاحب ٹویٹر کے ''کھانسی کا شربت'' نامی صارف سے خوف زدہ تھے۔انھوں نے سوشل میڈیا کے ماہرین سے التجا کی کہ ان کی فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں مدد کی جائے اور ان کے بالادست حکام پر ایک دھماکا خیز ویڈیو کو افشا نہ کیا جائے۔

''سیلفی'' کے عنوان سے اس شو میں وزیر کا کردار سعودی کامیڈین ناصر الکسبی نے بڑی مہارت سے ادا کیا تھا۔اس قسط میں وزیر نے اپنے خوف اور خدشے کے پیش نظر شہروں،قصبوں اور نظر انداز کیے گئے علاقوں کے دوروں کا ایک شیڈول وضع کیا۔یہ دراصل وزیر کی جانب سے ایک طرح سے خود کو لبھانے کی کوشش تھی کیونکہ جس شخص نے وہ ویڈیو فلمائی تھی ،وہ راہ فرار اختیار کر چکا تھا۔

اس کے بعد ہی وزیر پھر ''کھانسی کے شربت'' سے مدد کا طلب گار ہوا تھا۔حیران کن بات یہ تھی کہ ٹویٹر کا صارف بظاہر بالکل نوجوان تھا اور وہ ابھی کسی ہائی اسکول کا گریجوایٹ بھی نہیں لگ رہا تھا۔اس کی عمر سے قطع نظر ٹویٹر پر صارفین کی ایک فوج ظفر موج اس کی پیروی کررہی تھی۔ایسی فوج جس کی وہ کبھی ایک ہیش ٹیگ سے قیادت فرما رہا تھا اور کبھی دوسرے سے۔اس کے خاموش رہنے کی قیمت ایک لاکھ سعودی ریال اور سال میں دو مفت فضائی سفر تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا نے ''احمقوں کی فوج کو بولنے کا حق'' دے دیا ہے۔جیسا کہ مرحوم اطالوی ناول نگار امبرٹو ایکو نے ''لوگوں کی فوج'' کی اصطلاح کا ان افراد کے لیے استعمال کیا تھا جنھیں بڑی سرعت سے خاموش کرایا جاسکتا ہے اور انھوں نے یہ اصطلاح تب استعمال کی تھی جب یہ تمام ٹیکنالوجی معرض وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے سماجی طور پر ان لوگوں کے لیے ایسے پلیٹ فارمز تخلیق کردیے ہیں جو ان کے ذریعے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے اور ان پر حکم لگاتے ہیں۔نوجوان نسل اس جدید ٹیکنالوجی کے لیے اتنی پرجوش ہے اور وہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہوچکی ہے کہ جس کے تدارک کے لیے ابھی کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے۔

دنیا بھر میں تو ایک سے زیادہ ''کھانسی کے شربت'' موجود ہیں۔وہ سوشل میڈیا پر بڑی آزاد روی سے اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہیں اور تنازعات کو تخلیق کرتے ہیں۔اس ماہ مقدس کے دوران ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ انھیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

-----------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے