جنوبی ایشیا ء میں بالعموم اور جنوبی ہندوستان میں بالخصوص پائے اور بکثرت کھائے جانیوالے پھل کٹھل (Jackfruit) میں کئی خوبیاں اور خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ کٹھل کا ذائقہ سیب اور پائن ایپل جیسا ہوتا ہے، اس کی شکل موٹے دیسی آم جیسی ہوتی ہے جبکہ اسکے اندر پائے جانیوالے گودے کے ریشے (Fibre) ساخت اور ہئیت میں آم اور کیلے جیسے ہوتے ہیں۔ کٹھل جن چار مذکورہ پھلوں سے مشابہہ ہوتا ہے، اُن چاروں پھلوں کے مشترکہ خواص بھی کٹھل میں بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں۔ کٹھل کی سب سے اہم خصوصیت اس کا ذود ہضم اور ہاضم ہونا ہے۔ یعنی اِدھر کھایا اور اُدھر ہضم بھی ہوگیا۔ اسکی اسی خصوصیت کی وجہ سے بنگال میں ایک کہاوت عام ہے کہ کٹھل کھانا ہو تو ٹوائلٹ کے دروازے کے قریب بیٹھ کر کھانا چاہیے۔

ایک سو سات برس پہلے اِسی کٹھل نے ہندوستانی ریلوے کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ یہ تب کی بات ہے جب ہندوستان میں ریلوے کو پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود ٹرینوں میں ٹوائلٹس نہیں بنائے گئے تھے۔ کٹھل سے ریلوے کی تاریخ بدلنے کا یہ واقعہ 1909 ء میں اوکھل چندر سین نامی ایک مسافر کے ساتھ پیش آیا۔ بذریعہ ٹرین اپنا سفر مکمل کرنے کے بعد اوکھل چندر سین نے ریلوے کے مغربی بنگال کے صاحب گنج ڈویژنل آفس کو انتہائی سادہ الفاظ میں ایک غیر معمولی خط لکھ کر اپنی تکلیف بیان کر ڈالی۔

اوکھل چند سین نے خط میں لکھا کہ ’’میں ٹرین سے احمد پور اسٹیشن پہنچا، کٹھل کھانے سے میرا پیٹ پھولا ہوا تھا، اس لیے میں رفع حاجت کیلئے اسٹیشن کے ٹوائلٹ میں چلا گیا، میں فارغ ہو ہی رہا تھا کہ گارڈ نے سیٹی بجا دی، گاڑی پکڑنے کیلئے میں ایک ہاتھ میں لوٹا اور دوسرے میں دھوتی تھام کر بھاگا۔ بھاگنے کے دوران میں گر پڑا اور اسٹیشن پر موجود عورتوں اور مردوں نے یہ سارا منظر دیکھا، میں گاڑی پکڑ سکا اور نہ ہی آرام سے رفع حاجت کرسکا اور میں احمدپور اسٹیشن پر ہی چھوٹ گیا، یہ بہت غلط بات ہے کہ اگر مسافر رفع حاجت کیلئے جاتے ہیں تو تب بھی گارڈ چند منٹوں کیلئے ٹرین نہیں روکتے؟ اس لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ گارڈ پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔ اگر گارڈ کو جرمانہ نہ کیا گیا تو میں یہ خبر اخبارات کو دے دوں گا۔‘‘اوکھل چندر سین کی چند سطروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی تحریر نے کام کردکھایا اور مستقبل میںہمیشہ کیلئے مسافروں کو اس قسم کی تمام تکالیف سے بچانے کیلئے ٹرینوں میں ٹوائلٹس کی سہولت فراہم کردی گئی۔

ٹرینوں میں ٹوائلٹس کی سہولت فراہم کیے جانے کے پس پشت یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ارتقاء کس بلا کا نام ہے؟ انسانی بہتری کی طرف کیسے جایا جاتا ہے؟ قوانین کیسے بنتے ہیں؟ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اختراعات کیسے جنم لیتی ہیں؟ ایجادات کیوں کی جاتی ہیں اورکوئی مسئلہ سامنے آنے پر اس مسئلے کو ’’جنرلائز‘‘کرکے آئندہ کیلئے اس قسم کے تمام مسائل سے کیسے چھٹکارہ حاصل کیا جاتا ہے؟ کس طرح اوکھل چندرسین کے ایک خط نے ٹرین کے مسافروں کو سہولت دلوادی؟اگر مغربی بنگال کے صاحب گنج ڈویژنل آفس کے انچارج اوکھل چندر سین کے خط پر صرف گارڈ کو جرمانہ کرنے ہی اکتفا کرتے تو ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی ٹرینیں شاید آج بھی ٹوائلٹس کی سہولت سے محروم ہوتیں۔

اس کا ایک اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مسافروں کو ٹوائلٹس کی سہولت ملنے کے باوجود بھارت میں ٹرین کے ڈرائیوروں کو ڈیڑھ صدی سے ٹوائلٹ کی سہولت حاصل نہ تھی، آٹھ گھنٹے کی شفٹ میں ’’لوکو پائلٹس‘‘ کو صرف دس منٹ کی بریک ملتی تھی اور ایسا نہیں ہوتا تھا کہ ٹرین کے ڈرائیور رفع حاجت کیلئے جہاں چاہیں گاڑی روک کر کھڑے ہوجائیں بلکہ اس کیلئے اُنہیں پہلے وائرلیس پر اگلے اسٹیشن کے انچارج کو اطلاع دینا پڑتی ہے اور پھر جلدی سے بھاگ کر اسٹیشن کا ٹوائلٹ استعمال کرنا پڑتا تھا، لیکن اب بھارت میں ٹرین کے ڈرائیوروں کیلئے بھی ٹرین میں ہی ٹوائلٹس بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا، اور وہ بھی مسافروں کو سہولت ملنے کے ٹھیک ایک سو سات برس بعد!اس کی وجہ کیا تھی ، آئیے جانتے ہیں۔

ٹرین کے مسافروں کے برعکس ٹرین کے ڈرائیوروں کو ٹوائلٹس کی سہولت ملنے میں 107 برس کی تاخیر اس لیے بھی ہوئی کہ ٹرین کے ڈرائیور اور ان کا یہ مسئلہ حل کرنیوالے بھی پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹی او آرز بنانے والی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی طرح مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھنے کی بجائے ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ اور ’’جگاڑ‘‘ پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ نہ ایک صدی سے ٹرین ڈرائیوروں کے پاس کوئی اوکھل چندر سین تھا اور نہ ہی گزشتہ دو ماہ سے پارلیمانی کمیٹی کو کوئی چندر سین کی طرح خط لکھ کر معاملے کی نذاکت سے آگاہ کرسکا ہے۔

اسی طرح نہ ایک صدی سے ٹرین کے ڈرائیوروں کو مغربی بنگال کے صاحب گنج ڈویژنل آفس کے انچارج جیسا کوئی ہمدرد ملا جو محض گارڈ کو جرمانہ کرنے کی بجائے اس مسئلے کے پائیدار حل کیلئے ٹرینوں میں ٹوائلٹس بنانے کی سفارش کرتا اور نہ ہی گزشتہ دو ماہ سے ٹی او آرز بنانے والی پارلیمانی کمیٹی میں مغربی بنگال کے صاحب گنج ڈویژنل آفس کے انچارج جیسا کوئی شخص سامنے آسکا ہے، جو اپوزیشن کی جانب سے محض وزیر اعظم کو پھانسنے کی کوشش کی بجائے ملک میں کرپشن کے مسئلے کے پائیدار حل کیلئے ایسے ٹی او آرز تشکیل دینے کی سفارش کرسکے، جس میں ہر کرپٹ شخص کا احتساب ہوسکے۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے مجوزہ عدالتی کمیشن کیلئے ضوابط کار طے کرنے کیلئے حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کی نمائندہ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے آٹھویں اجلاس میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ کمیٹی کے حکومتی نمائندوں نے حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان سے اگلے اجلاس کی تاریخ مقرر کرنے کو کہا تو حزب مخالف کے رہنماء بولے کہ ’’حکومتی کمیٹی تاریخ پر تاریخ مانگ رہی ہے لیکن اس معاملے پر پیش رفت نہیں ہو رہی، حزب مخالف اس کمیٹی میں جتنی لچک کا مظاہرہ کرسکتی تھی وہ کرچکی ہے‘‘۔

دوسری جانب وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا ہدف وزیر اعظم کی ذات ہے جن کا نام پاناما لیکس میں ہے ہی نہیں‘‘۔پیپلز پارٹی کی قیادت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریگی جبکہ تحریک انصاف نے حکومت کو اس معاملے پر ضوابط کار طے کرنے کیلئے عید تک کا وقت دیا ہے۔

قارئین کرام!! ریلوے کی تاریخ بدل دینے والا اوکھل چندر سین کا خط آج بھی دہلی کے ریل میوزیم میں موجود ہے، پانامہ لیکس پر بنائی جانیوالی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان چاہیں تو ٹی او آرز کی تیاری میں اوکھل چندر سین کے اس خط سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ کچھ اور نہیں تو کمیٹی کے رکن وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق خود ہی نئی دلی کے ریلوے میوزم سے اوکھل چندر سین کے اُس خط کی کاپی منگوا کر پارلیمانی کمیٹی میں ٹی او آرز کو کسی کنارے نہ لگنے دینے والے ارکان میں خط کی کاپی تقسیم کر کے اُنہیں بتائیں کہ کرسی پر بیٹھنے کی ہوس میں اصول، ضابطے، طے شدہ قوانین اور قوم کے وسیع تر مفاد کو روندا نہیں جا سکتا؟ اپوزیشن کو سمجھنا چاہیے کہ ٹی او آرز میں صرف ’’گارڈ‘‘ کو ہدف بنانے سے خدشہ ہے کہ کہیں جمہوریت کو ہی ڈیڈلاک نہ لگ جائے! بشکریہ "روزنامہ نوائے وقت"
.......................
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے