یونیورسٹیوں میں باقاعدہ پروفیسروں کے علاوہ وزیٹنگ پروفیسر بھی ہوتے ہیں جو گاہے گاہے لیکچر دینے کے لئے آتے ہیں۔ اسی طرح اسپتالوں میں وزیٹنگ ڈاکٹر کی سہولت موجود ہوتی ہے جنہیں کسی مریض کے لئے خصوصی طور پر بلایا جاتا ہے اور اس ڈاکٹر کو ہر وزٹ کی فیس ادا کی جاتی ہے۔

ہمارے پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری بھی’’وزیٹنگ پروفیسر‘‘ ہیں جو ویسے تو کینیڈین شہری ہیں تاہم انہیں خاص خاص مواقع پر پاکستان بلایا جاتا ہے مگر ان کی فیس ہما شما کہاں ادا کرسکتے ہیں، تاہم اللہ مسبب الاسباب ہے سو ان کی مدد غیب سے ہوتی ہے۔ وہ آتے ہیں اور’’مبارک ہو، مبارک ہو‘‘ کے نعرے لگا کر واپس چلے جاتے ہیں، بعد میں سادہ لوح مرید ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ انہیں کس بات کی مبارک دی گئی تھی؟

اس کے برعکس عمران خان طالبان اقتدار کی یونیورسٹی کے فل پروفیسر ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ وہ شیخ رشید کو اپنا چپراسی رکھنا بھی پسند نہیں کریں گے مگر اب پتہ نہیں چلتا کہ طالبان اقتدار یونیورسٹی میں فل پروفیسر کون ہے اور چپراسی کون ہے؟

اس مسئلے کی طرف بعد میں آتے ہیں، پہلے پروفیسر طاہر القادری کی بات مکمل کرلیں۔ پروفیسر صاحب کی ایک سیاسی جماعت بھی تھی یا ہے، انہوں نے انتخابات میں بھی حصہ لیا مگر 18کروڑ کی آبادی میں پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کے کتنے مرید ہوسکتے ہیں جو انہیں اقتدار کے تخت پر بٹھا سکے، چنانچہ ناکامی کے بعد سے اب پروفیسر صاحب ’’سیاست نہیں، ریاست‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں جبکہ پاکستان سمیت دنیا کا کوئی ملک سیاست کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور جو قوم کسی سیاستدان کے ٹیلنٹ کو تسلیم ہی نہ کرے اور اسے انتخابات میں ووٹ ہی نہ دے اس کے بعد وہ ملک میں رہے یا نہ رہے اس کی کون پروا کرتا ہے۔

ان دنوں طالبان اقتدار یونیورسٹی کے فل پروفیسر ،وزیٹنگ پروفیسر اور چپراسی سب کے سب ’’سیاست‘‘ کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہوئے ہیں۔ وہ نہ آئین کی پروا کرتے ہیں، نہ کسی جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو مانتے ہیں، گھیرائو، جلائو کی بات کرتے ہیں، دھاندلی،دھاندلی کھیلتے ہیں اور جب مطلوبہ مقصد پورا ہوتا نظر نہیں آتا تو کینیڈا سے وزیٹنگ پروفیسر طاہر القادری صاحب کو طلب کرلیا جاتا ہے جو اپنے مریدوں کو کئی کئی دن سڑک پر بٹھائے رکھتے ہیں، ان کی مادی ضرورتوں کے لئے کھانے پینے کا معقول بندوبست کیا جاتا ہے اور روحانی ضرورتوں کے لئے پروفیسر طاہر القادری ٹشو پیپرز سے اپنا ناک اور پسینہ وغیرہ پونچھ کر ان کی طرف اچھالتے ہیں اور سڑک پر بیٹھے مریدوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے اپنے آرام دہ کنٹینر میں داخل ہوجاتے ہیں۔

طالبان اقتدار یونیورسٹی کے ایک اور اہم رکن اپنے شیخ رشید بھی ہیں۔ شیخ رشید کسی شخصیت کا نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے اور سچ پوچھیں تو اب یہ کیفیت ایک ’’برانڈ‘‘ کی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ آپ کو پتہ ہے مغرب کی جتنی بھی برانڈڈ پروڈکٹس ہیں ان کی تیاری پر جتنا خرچ آتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ اخراجات ان کی پبلسٹی پر صرف کئے جاتے ہیں، تاہم ’’شیخ رشید برانڈ‘‘ کی کمرشل ہمارا میڈیا فی سبیل اللہ چلاتا ہے، تاہم اس کا اجر اسے مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ شیخ صاحب جلسوں اور ٹاک شوز میں بازاری کہنا مناسب نہیں عوامی انداز میں گفتگو اور تقریر کرتے ہیں۔ اس دوران لگتا ہے موجودہ نظام کا ان سے زیادہ مخالف کوئی اور ہے ہی نہیں جس نظام کا وہ برسوں حصہ رہے ہیں اور مزید حصہ بننے کے لئے’’مسلح جدوجہد‘‘ کررہے ہیں۔

اس نظام سے ان کی نفرت اس دن شروع ہوئی جب ان کی پارٹی نے انہیں انتخابات کے موقع پر پارٹی ٹکٹ نہیں دیا اور آزاد امیدوار کے طور پر وہ الیکشن ہار گئے۔ اس دن سے وہ عوام کو گھیرائو، جلائو کی تلقین کرتے ہیں، جاتی امرا پر حملے کے لئے اکساتے ہیں اور وہ سب کچھ کرتے اور کہتے ہیں جو صرف وہی کہہ اور کر سکتے ہیں۔ شیخ صاحب اور’’شیخ رشید برانڈ‘‘ کے گاہک باقی وہ سب لوگ جنہیں عوام اقتدار میں آنے نہیں دیتےان کی ہلا شیری میں لگے رہتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ شیخ صاحب جب کسی ٹاک شو میں آتے ہیں تو ان کی جھنجھلاہٹ آمیز گفتگو ہوتی بہت مزے کی ہے، خود میں ان کی باتوں کے بہت چسکے لیتا ہوں، خصوصاً ان کی پیش گوئیوں کا تو کوئی جواب نہیں، جو وہ تین سال سے حکومت گرنے کے حوالے سے کررہے ہیں۔

وہ اس ضمن میں بار بار’’راولپنڈی‘‘ کو بھی درمیان میں گھسیٹ لاتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ لاوارث نہیں ہیں حالانکہ انہیں علم ہونا چاہئے کہ جن پر وہ تکیہ کئے بیٹھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہماری پاک فوج ہماری سرحد کے اندر داخل ہونے والے دشمنوں کو مار بھگانے میں مصروف ہے اور ہماری حکومت انرجی اور معاشی راہداری کے علاوہ ایسے بہت سے دوسرے منصوبوں کی تکمیل میں مشغول ہے جو پاکستان کو اندرونی طور پر بہت مستحکم کریں گے اور ہماری معاشی اور فوجی برتری کا باعث بنیں گے اور دشمن کو صرف یہی بات پسندنہیں۔

باقی رہے اپنے پروفیسر عمران خان تو وہ طالبان اقتداریونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں اور ایکسٹینشن پر ہیں۔ ان کی فرسٹریشن یہی ہے کہ وہ اپنی دھرنا اننگ کھیل چکے ہیں اور مطلوبہ اسکور بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے جن کے بل پر انہیں’’کپتان‘‘ بنایا جاسکے۔ موصوف نے جتنا اسکور بنایا تھا وہ بھی وزیٹنگ پروفیسر طاہر القادری کے بل بوتے پر بنایا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے سابقہ چپراسی ا ور موجودہ فل پروفیسر شیخ رشید انہیں کس راستے پر لگاتے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے