عراق میں خون آلود ایام کا دور دورہ ہے، اس کا کچھ حصہ فرقہ واریت نگل رہی ہے اور وہاں کے لوگوں پر اس کی وسیع وعریض زمین تنگ ہوچکی ہے۔ ایسے میں عراق کے فرزندان کے دلوں میں چھپی انسانیت کی روشنی، اُمید کی کرن کے طور پر جگمگا رہی ہے۔

"الصدمہ" نامی پروگرام کے مناظر انسانیت سے بھرپور تھے۔ پروگرام میں ایک متعین انسانی واقعہ پیش کرنے کے بعد دوسرے لوگوں کے رد عمل کا انتظار کیا جانا تھا۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے رد عمل انسانیت کے لحاظ سے گہری معنویت کے حامل تھے۔

پروگرام کی ایک قسط میں ایک شخص کو ریستوران کے اندر اپنی بیوی کو مارتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس تشدد کو روکنے کے لیے وہاں موجود مرد وخواتین بیچ میں آگئے۔ اس تکلیف دہ انسانی منظر پر آنکھوں سے بے اختیار پانی چھلک پڑا۔

منظر کے بعد ان میں سے ایک شخص سے پوچھا گیا کہ تم نے مداخلت کیوں کی؟ تو اُس کا جواب تھا کہ "وہ ایک انسان کو مار رہا تھا۔ حتی کہ میں اس عورت کو نہیں جانتا تھا پر وہ تھی تو ایک عراقی!"... ایک دوسرے شخص کا کہنا تھا کہ "اگر میں کسی متاثرہ شخص یا مریض کو ہنگامی امداد فراہم کرتا ہوں تو کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ پہلے میں اُس سے یہ پوچھوں کہ تمہارا مسلک یا فرقہ کیا ہے؟

عراق نے کئی صدیاں اپنے نسلی اور دینی عناصر اور تاریخی اقلیتوں کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ گزاریں۔ مذکورہ پروگرام میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ سیاست نے کس طرح حقیقت کا بگاڑ کیا! جب کہ یہ عراقی شہریوں میں باقی رہ جانے والی انسانیت کو آلودہ نہیں کرسکی۔

جب عراق منہدم ہوگا تو خطہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2003 میں عراق پر امریکی جنگ نے عراقی معاشرے کی مربوطیت کو پارہ پارہ کردیا، اُس کی کمر کو مزید تاریخی بوجھوں تلے دبا دیا اور فرقہ وارانہ جنگ کو بھڑکا دیا۔

MBC پر پیش کیے جانے والے پروگرام "الصدمہ" نے ہمیں حیران کر ڈالا۔ اس لیے کہ پروگرام نے ہمارے اندر باقی انسانیت کو ظاہر کر دیا۔ اس سیارے پر تمام انسانوں کے درمیان اخوت کا رشتہ ہے۔ ہم نے پروگرام میں جو عراق ملاحظہ کیا یعنی بے ضرر عراق اور دوسرا عراق جس میں قاسم سلیمانی گھومتا پھرتا ہے، دونوں میں بڑا فرق ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے